• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند دن قبل ایک موٹر سائیکل مکینک نے مجھ سے چند ایسے سوال پوچھے کہ میں کچھ دیرکےلئے خاموش ہو گیا۔ میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا ۔پہلے اُس کے سوالات پڑھ لیں۔

* کیا آپ کو تعلیم کے دوران یہ بتایا جاتا ہے کہ زندگی کیسے گزارنی ہے ؟

* کیا انسان کے پیدا ہونے کا مقصد بتایا جاتا ہے ؟

* اس طرح کی کوئی تربیت کی کلاس ہوتی ہے جس میں اس موضوع پر لیکچر دیا جاتا ہو کہ شادی کے بعد ایک اچھا شوہر یا اچھی بیوی کیسے بنتے ہیں ؟

* زندگی میں اگر مشکل وقت آ جائے تو ان مشکلات کا سامنا کیسے کرنا ہے ؟

* بزرگوں کا احترام، چھوٹے اور بڑے سے بات کرنے کی تمیز اور ادب و احترام کی بات ہوتی ہے ؟

* ایک قوم ترقی یافتہ کیسے بنتی ہے ، یہ بتایا جاتا ہے؟

* اپنے حقوق کیسے لینے ہیں ؟ اپنی ذمہ داریاں کیسے ادا کرنی ہیں ؟

ان سوالات میں کچھ کا اضافہ اپنی طرف سے بھی کیا ہے۔ میں کچھ دیر تو خاموش رہا ، پھر کہا نہیں بھائی ، ہماری اس طرح کی کوئی کلاسیں نہیں ہوتیں ۔

چالیس منٹ کا ایک لیکچر ہوتا ہے ۔ پروفیسر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں اُن کو تو کلاس کے تمام طلباء کے نام بھی شاید ہی یاد رہتے ہوں ۔

ان موضوعات پر واقع کوئی بات نہیں ہوتی ۔ بس پیسہ کمانے کی بات ہوتی ہے۔ چار بٹا چار کی بات ہوتی ہے ۔ نمبروں اور گریڈز کی بات ہوتی ہے ۔ ایک پروفیسر نے کہا تھا ،" ہم نسلوں کو تعلیم صرف امتحانات دینے کی غرض سے دیتے ہیں، زندگی جو خود ایک بہت بڑا امتحان ہے لیکن ہم نسل نو کو اس امتحان کے لئے تیار نہیں کر رہے " ۔

ہماری تعلیم کا المیہ ہے کہ یہ تلاش روزگار کےلئے ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں مینگو ڈے، اورینج ڈے، بنانا ڈے، سینڈویچ ایکٹیویٹی پینٹنگ، سپیلنگ بی کمپیٹیشن، انگلش سپیچ کمپیٹیشن، کوئز کمپیٹیشن، اینول ڈنر،میوزیکل نائٹ وغیرہ وغیرہ ہی ہوتے ہیں صرف ۔

ٹوکیو کا تعلیمی نظام ایسا ہے کہ چار سال تک بچوں کو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ صفائی کیسے کرنی ہے ؟ اپنے بڑوں سے بات کیسے کرنی ہے ؟ اپنے چھوٹوں سے گفتگو کیسے کرنی ہے ؟ اخلاق کیسے سیکھنے ہیں ؟ حالاں کہ وہ ہ تو کافر ہیں اور ہم مسلمان، جن کا نصف ایمان ہی صفائی میں ہے ۔ جن کا دین ہی اخلاق اور حسن سلوک میں ہے ۔ ہم بچوں کو کیا دے رہے ہیں ؟

ہم صرف اور صرف مقابلہ کرنا سکھا رہے ہیں ۔دوسرے کو ہرانا اور خود کو جیتنا سکھا رہے ہیں ۔کامیابی کے شارٹ کٹ سکھا رہے ہیں ۔

ایک خراد مشین کا کاریگر ایک انجینئر کی مت مار کے رکھ دیتا ہے۔ ایک الیکٹریشن پانچ منٹ میں وہ کام کر جاتا ہے، جسے ایک انجینئر پانچ گھنٹے بیٹھ کر سوچتا رہتا ہے ۔ ایک وکیل کے پاس ا میٹرک پاس منشی اپنے تجربے کی بنیاد پر وکالت کی ڈگری حاصل کرنے والے وکیل کو وکالت کرنا سکھا رہا ہوتا ہے۔ ہم تعلیمی اداروں سے کیا لے کر نکل رہے ہیں ؟ نہ تعلیم ۔ ، نہ اخلاقیات، نہ ادب و احترام۔ کچھ بھی تو نہیں ۔ ہماری یونیورسٹیاں پیسے کمانے کی مشینیں ہیں ۔ پیسے لے کر ہمیں بھی مشین ہی بنا رہی ہیں ۔ مقصد صرف اور صرف ایک ہے کہ پیسہ کیسے کمانا ہے ؟

جہاں تک تعلیمی نظام کی بات ہے تو اس موضوع پربہت کچھ لکھا گیا ہے ۔جو تعلیمی نظام بنایا وہ غلام پیدا کرنےکےلئے تھا، اس نظام سے بہتری کی امید کیسے رکھ سکتے ہیں ،جس میں تربیت اور اخلاقیات کا نام و نشان بھی نہیں ہے، بلکہ تھوڑی بہت تربیت جو کو گھر یا خاندانی ماحول سے ملتی ہے یہ تعلیمی نظام وہ بھی چھین لیتا ہے ۔

یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رُخ بھی ملاحظہ کریں۔

ذرا غور کریں دوران کلاس یا لیکچر کتنے طلباء کا فوکس ٹیچر کی جانب ہوتا ہے ؟ محض چند ایک ناں کا ۔۔ باقی پوری کلاس تقسیم شدہ ہوتی ہے ۔ا سٹڈی گروپ کے نام ہر گراونڈ میں بیٹھ کر مستقبل کے خواب دیکھے جاتے ہیں ۔ شہر کے جوس کارنر ،پیزا شاپس اور آئس کریم پارلر پر مقامی لوگ کم اور نوجوان جوڑے زیادہ نظر آتے ہیں انہیں باقائدہ پروٹوکول دیا جاتا ہے ۔آخر کس کس پہلو پر بات کریں؟

آخر ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟

والدین چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں بھی تعلیم حاصل کریں لیکن اس طرح کا ماحول والدین کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے، ورنہ درحقیقت کوئی بھی ماں باپ اپنی بیٹی کی تعلیم کے خلاف نہیں ہوتے لیکن ان کو اسی دن سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں جب وہ دوسروں کے سامنے شرمندہ ہوں، جب لوگ ان کی عزت کو سرعام اور سر بازار اچھالیں گے ۔ 

ہر معاشرے کے سدھار کیلئے دو پہلو ہوتے ہیں ۔

پہلا پہلو یہ کہ، حکومتی پالیسیاں مضبوط ہوں ۔ قانون پر عمل درآمد کیا جائے۔ موجودہ قانون میں معاشرے کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیلیاں کی جائیں ۔

دوسرا انفرادی کوشش یعنی ہر شخص اپنے تئیں ملک اور معاشرے کی بہتری کےلئے کوشش بھی کرے اور عملی اقدامات بھی بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ دونوں پہلو ہی موجود نہیں ہیں ۔ نہ حکومت سنجیدہ ہے نہ عوام سنجیدہ ہیں۔ تربیت کسی بھی معاشرے کی کامیابی اور ترقی کی کنجی ہوتی ہے۔ ہر ملک یا قوم عوام کی تربیت اپنے مذہب کے مطابق کرتے ہیں مگر ہم وہ بدقسمت لوگ ہیں جو تربیت کے لئے معیار سیٹ کرتے وقت اپنی روایات کو چھوڑ کر مغرب کی روایات کوا سٹینڈرڈ بنا کر چلتے ہیں جبکہ ہمارے مذہب میں زندگی کے تمام پہلوؤں پر رہنمائی ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔

اگر آج بھی تعلیمی نظام کو بدلنے کی کوشش کی جائے تو مکمل طور پر بدلنے کے لئے بھی تقریباََ بیس سال کا عرصہ درکار ہوگا ،مگر تاخیر پر تاخیر کی جارہی ہے ۔

جب تک حکومت سنجیدگی سے اقدامات نہیں کرتی، تب تک اپنے تئیں کوشش کرتے رہیں ۔ اپنے گھر، گلی اور محلے میں طلباء کو یکجا کریں، ان کو تعلیم کے مقاصد سے آگاہ کریں ، ساتھ ساتھ یہ بھی بتائیں کہ ان کے سامنے کون کون سے پہلو ہوںگے ، کہاں نظر انداز کرنا ہے اور کہاں آگے بڑھنا ہے ۔ نمبروں کی دوڑ سے نکلنا ہے ۔ طوطے نہیں بلکہ انسان بننا ہے۔ ایک کمیونٹی تشکیل دیں اور اپنا پیغام دینا شروع کر دیں ۔ (ایک طالبِ علم)