• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نبیلہ شہزاد

گذشتہ دنوں مینار پاکستان لاہور میں ایک ٹک ٹاکر لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر تادمِ تحریرگردش کر رہا ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی ذہنی استعداد کے مطابق اس واقعہ پر تبصرہ نگاری کر رہا ہے، کچھ لوگ والدین کی تربیت کو موردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں، کچھ تعلیمی اداروں کواور کچھ ماحول کو نامناسب کہہ رہے ہیں، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی پر بگاڑ کا سارا ملبہ ڈال رہے ہیں۔ کچھ لڑکی کو بے حیا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور کچھ لڑکوں کے لئے درندگی کے ٹائٹل کا تمغہ سجا رہے ہیں۔ مستزاد یہ کہ اس واقعہ کے ساتھ ہی ملک کے کونوں کھدروں سے اس سے ملتے جلتے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خدانخواستہ سارے ملک کے نوجوان ہی خراب ہیں۔

ہم ان واقعات کے عوامل و عناصر میں نہیں پڑنا چاہتے۔ہمارے مخاطب اس وطن کے نوجوان ہیں۔ میرے پیارے پاکستان کے نوجوانوں کی اکثریت باحیا، ایماندار، محنتی اور باشعور ہے۔ اگر اقلیت یعنی کچھ نوجوان منفی عادات کے مالک ہیں، اُن کے دل حیا سے عاری ہیں، قانون شکنی ان کا وطیرہ ہے،اپنے نفس کو اپنے ضمیر پر غالب کر لیتے ہیں تو، وہ لوگ ذرا اپنے سینوں پر ہاتھ رکھ کر چند منٹ سوچیں کہ تم بھی تو ان نوجوانوں میں شامل ہو جن کے بارے میں بزرگوں نے ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا خواب دیکھا ہے، کبھی سوچا ہے کہ آپ کی چند منٹوں پر مشتمل کوئی نازیبا حرکت دنیا میں پیارے وطن کا امیج کس قدر خراب کر رہی ہے۔ 

آپ دنیا کو اپنے دین کے بارے میں کیا تاثر دے رہے ہیں؟ ہمارے ملک کے دشمن تو پہلے ہی اس تاک میں رہتے ہیں کہ کب پاکستان کو بد نام کرنے کا موقع ملےاور وہ اس موقع سے فائدہ اُٹھائیں۔ کیا یہ شرم کا مقام نہیں کہ اس ملک کے لیے تعمیری کام کرنے کی بجائے چند لوگ اس کی خراب شہرت کا باعث بنے۔ ان سے اچھی تو کینیڈا سے تعلق رکھنے والی سیاح خاتون روزی گیبرئیل ہیں، جنہوں نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہاتھا کہ" میں اکیلی موٹر سائیکل پر سارا پاکستان گھومی ہوں ،میرے ساتھ تو ایک بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ ہر جگہ لوگوں نے میرے ساتھ تعاون اور اچھا سلوک کیا۔ اس طرح کے روشن اور مثبت واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ 

ایک فرد کی ایفائے عہدی، ایمانداری، حسن سلوک کئی لوگوں کو متاثر کرنے اور اسلام کے دائرہ کار میں داخل ہونے کا سبب بنتا رہا ہے۔ اس طرح قومیت کے لحاظ سے بھی ایک فرد کا اچھا کردار پوری قوم کا مثبت پہلو اجاگر کرتا ہے۔ جن اقوام نے اپنا مثبت تاثر دنیا کو دے رکھا ہے اس کی ایک مثال ترکی میں پڑھانے والے ایک پاکستانی استاد کی ہے۔ وہ ایک دن میں ترکی کے ایک سپر سٹور سے خریداری کر کے اپنی گاڑی تک آئے تو انہیں یاد آیاکہ چابی تو کیش کاونٹر پر ہی بھول آئےہیں۔ 

سامان کی ٹرالی گاڑی کے پاس ہی چھوڑ کر چابی لینےچلے گئے لیکن وہاں پہنچ کر یاد آیا کہ کچھ سامان اور خریدنا ہے لہذا آدھا گھنٹہ مزید لگ گیا، واپس گاڑی تک آئے تو دیکھا ایک خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ سامان کی ٹرالی پر ہاتھ رکھے کھڑی ہیں۔ بیٹے کو انہوں نے پہچان لیا، وہ اُن کا شاگرد تھا۔ خاتون نے کہا "ہم نے آپ کو جلدی میں واپس ا سٹور میں جاتے ہوئے دیکھا تو سمجھ گئے کہ آپ کچھ بھول آئے ہیں۔ آپ میرے بیٹے کے استاد بھی ہیں اور پاکستانی بھی۔ 

ہم آپ کے سامان کی حفاظت کے لیے اس لیے کھڑے ہوگئے کہ اگر سامان کو کوئی نقصان پہنچ جاتا تو آپ کے ذہن میں ہم ترکوں کی غلط تصویر بن جاتی۔ ان کی سوچ دیکھیئے کیا ایسی سوچ ہم پاکستانیوں میں نہیں آسکتی ؟کیا ہم اپنے وطن کی عزت دوسری اقوام کے سامنے بلند نہیں کرسکتے؟ رشک آتا ہےاس ترک خاتون کی سوچ پر جس نے آدھا گھنٹہ کھڑے ہو کر ایک پاکستانی کے سامان کی حفاظت کی تاکہ ترک قوم کی عزت پر حرف نہ آجائے۔

دوسرا واقعہ جاپان کا ہے،جو کہ ایک ترقی یافتہ قوم ہے اور اخلاقی لحاظ سے قابل ستائش بھی۔ ایک پاکستانی نوجوان جاپان کی ایک یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے گیا۔ ایک دن وہ یونیورسٹی ہاسٹل کے باہر سیر کر رہا تھا کہ اسے ایک پرس پڑا ہوا ملا۔ اردگرد پرس کا مالک نہ ملنے پر وہ اسے لے کر اپنے ہاسٹل کے وارڈن کے پاس چلا گیا۔ وارڈن نے اسے اپنے سامنے میز پر بٹھا لیا اور ایک ایک کرکے سب چیزیں پرس سے نکالیں، پھر ایک کاغذ پر پرس میں موجود تمام چیزوں اور کرنسی کا اندراج کر کے اس پر دونوں نے دستخط کئے۔ اس دستخط شدہ کاغذ کی کاپی وارڈن نے اسے دے کر کہا کہ میں پولیس کو اطلاع کرتا ہوں کہ اس پرس کے مالک کو تلاش کرے۔ 

یہ چیزیں وارڈن کے حوالے کرنے اور رسید کے طور پر وہ کاغذ وصول کرنے کے بعد پاکستانی نوجوان اپنے کمرے میں آگیا۔ پانچ دن کے بعد ، وارڈن نے اسے بلا یا۔ وہ گیا تو اُس نے دیکھا کہ ایک خاتون بیٹھی ہے، اسے دیکھ کر وہ احترام سے کھڑی ہو گئی۔ اپنی زبان میں کچھ کہا اور کچھ رقم اسے پیش کی۔ پاکستانی نوجوان نے حیران ہو کر کہا کہ یہ کیا؟ وارڈن نےکہاکہ، یہ آپ کا شکریہ ادا کر رہی ہیں۔ جاپان میں ایک روایت ہے کہ اگر آپ کی کوئی کھوئی ہوئی چیز مل جائے تو جو شخص اس کی تلاش میں آپ کی مدد کرتا ہے آپ اس کو کھوئی ہوئی چیز کی کل مالیت کا دس فیصد شکریہ کے طور پر ادا کرتے ہیں۔

یہ وہی دس فیصد آپ کو دے رہی ہیں۔ نوجوان نے کہا کہ" میں مسلمان ہوں اور میرے مذہب میں اس طرح کا دس فیصد لینا جائز نہیں۔ اس لیے میں معذرت چاہتا ہوں" ۔خاتون نے رقم دینے کے لیے کافی ضد کی، مگرنوجوان نہ مانا، اُس کے مسلسل انکار پر وہ خاتون واپس چلی گئی۔ دو دن بعد وہ پھر آگئی، اس دفعہ اس کے ہاتھ میں ایک بنڈل تھا۔ وارڈن نے پھر اس پاکستانی نوجوان کو بلایا اور کہا کہ یہ خاتون کسی اسلامی ادارے میں گئی تھیں۔ وہاں کے استاد کو ساری صورت حال بتائی، جسے سن کر انہوں نےانہیں بتایا کہ اسلام میں آپس میں تحائف دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے، لہذا اب یہ تمہارے لیے کچھ گھریلو استعمال کی چیزیں خرید کر لائی ہیں اور یہ تمہیں تحفتاََ دینا چاہتی ہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ ان کے دیئے گئے تحائف قبول کر، لو ورنہ یہ بیچاری ذہنی کرب کا شکار رہیں گی۔

نوجوان نے شکریہ ادا کرتے ہوئے مجبوری میں وہ تحائف قبول کر لیے۔ لیکن یہاں تحائف وصول کرنے والے کی بجائے تحائف دینے والی کی خوشی دیدنی تھی وہ خاتون اس قدر خوش تھی، جیسے اسے کوئی نایاب چیز مل گئی ہو۔ یہ اس خاتون کی فرض کی ادائیگی کا احساس تھا۔ یہاں پاکستانی نوجوان کی کارکردگی بھی قابل تعریف اور قابل ستائش ہے، جس نے ایمانداری اور اعلی اخلاق کا مظاہرہ کر کے اپنے دین، وطن اور ہم وطنوں کے بارے میں اچھا تاثر قائم کیا۔ کاش کہ ایسی مثال پاکستان کا ہر نوجوان قائم کرے۔ 

مثالیں بنتی، نہیں بنانی پڑتی ہیں،آپ کو اپنی مثال خود بننا ہے۔ میری نوجوانوں سے استدعا ہے کہ کوئی بھی غیر اخلاقی کام کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ ان کے کام سے ان کے دین اور ملک کے بارے میں دنیا میں کیا تاثر ابھرے گا؟