• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

کنٹونمنٹ انتخابات: پنجاب میں ن لیگ بازی لے گئی

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں راولپنڈی اور لاہور میں ن لیگ نے جو کلین سویپ کیا ہے اس سے حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے تحریک انصاف کے رہنمائوں نے مختلف اجلاسوں میں اسی قسم کے نتائج کے خدشات کا اظہار کیا تھا اور انتخابی مہم کو سنجیدہ بنیادوں پر چلانے کا مشورہ دیا تھا،جس پر جزوی عمل ہی ہوپایا، باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کروانے کے پس منظر میں عام انتخابات سے قبل سائیڈ میچ کے طور پر انتخابی دنگل سجایا جانا مقصود تھا تاکہ سیاسی جماعتوں کا زور بازو چیک کیا جاسکے۔ 

لاہور اور راولپنڈی جیسے اہم شہروں کے نتائج توقعات کے برعکس نکلے جن سے متعدد سیاسی رہنمائوں کے خواب چکنا چور ہوگئے، جب موجودہ بلدیاتی ادارے تحلیل کئے تھے تو اس کا بظاہر مقصد گراس روٹ لیول پر پرانی قیادتوں کا زور توڑ کر نئی نوجوان قیادت لانا تھا، عدالتی حکم پر بلدیاتی اداروں کی بحالی کے بعد بھی میئرز کو انکے اختیارات سے محروم رکھنے کیلئے تاخیری حربے استعمال کئے گئے۔ 

بلدیاتی ادار وں کی تحلیل کر نے کے بعد ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے اسکی مدت پانچ سال کم کرکے 21 مہینے کردی تھی،لیکن تکنیکی طور ترمیم سے پہلی بننے والی مقامی حکومتوں پر اس کا نفاذ نہ ہوسکا جس سے قانونی مشیران کی سوجھ بوجھ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے؟ توقع کی جارہی ہے کہ اس کے بعد مدت ختم ہو جانےکے بعد بھی بلدیاتی انتخابات کروانے کا خطرہ مول نہیں لیا جائیگا، کیونکہ شدید مہنگائی کی وجہ سےعوام میں پریشانی کی لہر پھیلی ہوئی ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے نتائج بلدیاتی انتخابات کے ٹرینڈ کو ظاہر کرتے ہیں ، عوامی حلقے برملا کہہ رہے ہیں کہ موجودہ انتخابی نتائج یہ ثابت کرتے ہیں کہ عوام کا ن لیگ سے رشتہ توڑا نہیں جا سکا ،راولپنڈی،لاہور کا شمار عوامی سیاست کے اہم بیرو میٹر شہروں میں کیا جاتا ہے، اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے تحریک انصاف نے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات سے قبل کے پی سمیت ملک بھر بالعموم اور عوامی سیاست کے ان کلیدی شہروں میں بالخصوص ن لیگ کا مقابلہ کرنے کیلئے بھرپور انتخابی مہم چلائی، پولیٹکل سائنسدان جانتے ہیں کہ ان شہروں کے نتائج ملکی سیاست میں نہایت اہمیت کے حامل ہیں اور ان شہروں کے نتائج کا انتخابی ٹرینڈ صوبائی اور قومی اسمبلی کے انتخابات پر اثرانداز ہوا کرتے ہیں۔

انتخابات سے ایک روز قبل تحریک انصاف اور ن لیگ نے مرکزی شاہراہوں پر نصب کھمبوں پر لگا کر جیتنے کا ماحول بنانے کی بھرپور کوشش کی ،ان شہروں میں انصافی اور لیگی کارکنوں میں کشیدگی اور ہاتھا ہائی کے واقعات نے سیاست کو ذاتی لڑائی میں بدل دیا ہے، کہیں پولنگ کے عمل میں سستی کی شکایات بھی موصول ہوئیں، تاہم ووٹ چوری کے سنجیدہ الزامات کا سامنے نہ آنا خوش آئند ہے، ماضی میں کبھی گراس روٹ لیول کے انتخابات میں امیدوار ان اور ووٹروں کے مابین رواداری اور رائے کا احترام دیکھا جاتا رہا ہے، لیکن ان انتخابات کے مجموعی انتخابی ماحول میں پائی جانیوالی کشیدگی پر مبنی ماحول سے جمہوریت پسندوں کے دعوں کی مکمل طور پر نفی ہوتی ہے۔

عوامی حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں اگر واقعی ملک میں بلدیاتی انتخابات ہوگئے تو انتخابی مہم اور ماحول شدید کشیدہ ہوگا، چار سے پانچ ہزار ووٹروں والی متعدد سیٹوں پر پی ٹی آئی محض 3 سو تک ووٹ لیکر جیتی، ن لیگ کا ٹارگٹ پنجاب تھا جہاں اس نےحکمت عملی کے ذریعے جیت سمیٹی ،پنجاب میں ن لیگ کے بیشتر امیدواران نے اپنی مدد آپ کے تحت انتخاب لڑا ، تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپوزیشن پنجاب میں بازی لےگئی ،ن لیگ نے پنجاب میں واضح جیت حاصل کرکے عوامی دلوں میں جمے رہنے کا اعزاز برقرار رکھا ہے ،راولپنڈی میں ن لیگ کی کامیابی نے چوہدری نثار کے سیاسی مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے؟

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید