• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جسم میں پانی کی کمی سے کئی عوارض لاحق ہوسکتے ہیں، ماہرین صحت

ڈی ہائیڈریشن یا جسم میں پانی کی کمی کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے آپ سادہ نلکے والے یا اسپارکلنگ پانی پینے کے شوقین ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، زیادہ امکان ہے کہ آپ اتنے ہائیڈریٹ نہیں ہیں جتنا آپ سمجھتے ہیں۔

ڈی ہائیڈریشن اس وقت ہوتی ہے جب آپ کا جسم پسینے، پیشاب اور دیگر بنیادی جسمانی عمل جیسے سانس لینے کے ذریعے جتنا پانی جسم سے کم ہوتا ہے، اس سے کم مقدار میں آپ پانی یا لیکویڈ پیتے ہیں۔

چونکہ انسانی جسم تقریباً 70 فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے پانی کی کمی سنگین اثرات پیدا کر سکتی ہے اور اگر طویل عرصے تک اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانیہ میں تشویشناک بات یہ ہے کہ آبادی کے ایک بڑے حصہ کو پانی کی کمی (ڈی ہائیڈریشن) والوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ کچھ آن لائن ذرائع تو یہاں تک کہتے ہیں کہ برطانیہ میں نصف سے زیادہ لوگ روزانہ ضرورت سے کم مقدار میں پانی پیتے ہیں۔

برطانوی محکمہ صحت (این ایچ ایس) نے سفارش کی ہے کہ بالغ افراد کو روزانہ تقریباً دو سے ڈھائی لیٹر پانی پینے کا ہدف رکھنا چاہیے۔ اس مقدار میں اسکواش، پھلوں کے جوس، دودھ، چائے اور کافی میں موجود پانی بھی شامل ہوتا ہے۔

برطانوی ماہرین غذائیت جینا ہوپ کے مطابق کچھ پھل اور سبزیاں بھی ہماری روزانہ کی پانی کی مقدار میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ کھیرا سب سے زیادہ پانی رکھنے والی سبزی ہے، لیکن ٹماٹر اور اجوائن میں بھی پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔

اسکے علاوہ پھلوں میں خربوزہ، تربوز اور انناس میں بھی پانی کافی زیادہ ہوتا ہے، لیکن ان میں مٹھاس بھی زیادہ ہوتی ہے، اس لیے انہیں کھاتے وقت اعتدال کا خیال رکھنا چاہیے۔

جسم میں پانی کی مقدار کو مناسب سطح پر رکھنے کے لیے کافی طریقے موجود ہونے کے باوجود لاکھوں لوگ روزانہ مطلوبہ مقدار تک نہیں پہنچ پاتے جس کے نتیجے میں وہ بیماری کے خطرے میں آ جاتے ہیں اور انہیں قبض سے لے کر کومہ تک کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔

پانی کی کمی کے بارے میں ایک اور تشویش یہ ہے کہ اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ جسم اسٹریس پر کیسے ردعمل دیتا ہے۔ پانی کے استعمال اور اسٹریس ہارمون کے درمیان تعلق پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جسم میں پانی کی کمی  سے دل کی بیماری، گردوں کے مسائل، موڈ کی خرابی اور ذیابیطس کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

صحت سے مزید