• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر آسی خرم جہا نگیری

ارشادِ ربانی ہے: جو لوگ اللہ کی نازل کردہ ہدایت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، ایسے ہی لوگ دراصل کافر ہیں۔ (سورۃ المائدہ)یعنی کسی مسلمان کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ تعلیمات کی خلاف ورزی کرے۔

اسی طرح نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے :”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا ،جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس شریعت کے تابع نہ ہوجائے ،جسے میں لے کر آیا ہوں۔“ (مفہوم حدیث)ہرمسلمان کو اپنے تمام امور و معاملات کو اسی شریعت کے تابع کردینا لازمی ہے،اگروہ مسلمان رہنا اور مسلمان ہی مرنا چاہتاہو۔

اسے جاہلانہ اور غیراسلامی رسوم و رواج اورطورطریقوں کو چھوڑ دینا ہوگا جو شریعت اسلامی کے خلاف ہوں اوراسلامی تعلیمات سے ٹکراتے ہوں۔ یہی اسلام میں مطلوب ہے اوراس کے خلاف عمل حرام ہے۔موجودہ دور میں شادیوں میں جن جاہلانہ اور غیر اسلامی رسوم کا رواج ہوچکا ہے، ان میں ایک ’’جہیز‘‘ہے۔ جو مہر کی ضد میں شریعت اسلامی کے خلاف پروان چڑھ چکی ہے۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے تمام معاملات کو مکمل واضح ترین انداز میں بیان کر دیا ہے، نیز زندگی اور معاشرے کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس کے سلسلے میں واضح اسلامی تعلیمات نہ ہوں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج ان تعلیمات سے دور ہونے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سے پہلو اور گوشے ایسے ہیں جن میں ہم جاہلانہ رسوم و رواج پر عمل کرتے ہیں، نتیجتاً ہم بہت سی خرابیوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات تو یہ خرابیاں روگ اور ناسور کی شکل اختیار کر جاتی ہیں جس کی ایک کڑی جہیز کی رسم ہے۔

ہمارا معاشرہ رشتوں سے زیادہ دولت کو اہمیت دیتا ہے، جس کی وجہ سے جہیز جیسی وبا اور بھی بڑھ گئی ہے۔اسلام سادگی کا دین ہے اور اسلام کی نظر میں عورت کا بہترین جہیز اس کی بہترین تعلیم و تربیت ہے۔ معاشرے میں جہیز کی روایت کی وجہ سے بیٹیاں بیاہنا آج ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ جہیز کی رسم نے ان غریبوں کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے جو خود دو وقت کی روٹی کے متلاشی ہیں۔

اس حوالے سے شریعت میں لڑکی پرکوئی ذمہ داری نہیں ڈالی گئی ۔ مرد کو اپنی حسب حیثیت ضروری امور میں مال خرچ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:مرد عورتوں پر قوام ہیں، اس بناء پر کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔(سورۃ النساء)

مال خرچ کرنے میں کپڑے، زیور، مہر، ولیمہ اورنفقہ شامل ہے۔ ان میں مہر فرض ہے۔ اس کی ادائیگی اگر نقد (معجل) ادا کردی جائے تو یہ افضل ہے۔ ورنہ اگرادھار (موٴجّل) ہو تو وعدہ کرنا چاہیے کہ وہ کب اور کس طرح ادا کرے گا، لیکن اگر نیت یہ ہو کہ لکھ لیا جائے، کون دیتا ہے۔ تو ایسے شخص کے متعلق نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے: جس نے مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کیا اورنیت یہ رکھی کہ اس مہر کوادا نہ کرے گا وہ دراصل زانی ہے۔ (مفہوم حدیث)

غور فرمائیں، مہر ادا نہ کرنے کی نیت کتنا سنگین گناہ ہے۔ اس وقت معاشرے میں مہر کی حیثیت جہیز نے ثانوی کردی یا گھٹادی ہے۔ مہر برائے نام اور سادگی سے رکھ لیا جاتا ہے۔ جب کہ جہیز جو گویا ایک رسم ہے ،نقد وصول ہوتا ہے۔ اس مالِ کی نمائش ہوتی ہے جسے لوگ دیکھنے کے لیے آتے ہیں، اور اس کا چرچا ہوتا ہے۔ مال جس قدر ملتا ہے حرص اور لالچ میں اضافہ ہی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق طریقوں سے مت کھاؤ۔ (سورۃ النساء)

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے زیادہ آسانی ہو۔ دین اسلام نے نکاح کو بہت ہی آسان بنایا ہے ،صحابۂ کرام ؓ اور اولیاء اللہ کی زندگی کے بے شمار واقعات موجود ہیں، وہ کس طرح سادگی سے نکاح کیا کرتے تھے۔

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دین داری اور اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا۔(ترمذی)

حدیثِ مبارکہ میں ہے: سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت (کم خرچہ اور تکلف نہ) ہو۔(مشکوٰۃ، کتاب النکاح)

نیز ان رسموں میں کس قدر مال خرچ کیا جاتا ہے جب کہ قرآنِ کریم میں اسراف وتبذیر کی صراحۃً ممانعت وارد ہے ۔اور ’’جہیز‘‘ ان تحائف اور سامان کا نام ہے جو والدین اپنی بچی کو رخصت کرتے ہوئے دیتے ہیں،اگروالدین اپنی رضا و خوشی سے اپنی بیٹی کو رخصتی کے موقع پر کچھ دینا چاہیں تو یہ شرعی طور پر ممنوع بھی نہیں، بلکہ یہ رحمت اور محبت کی علامت ہے، ایسی صورت میں بچی کے لیے جہیز لینا جائز ہے، اور بچی ہی جہیز کے سامان کی مالک ہوگی۔

لیکن شریعت میں کہیں اس کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، نہ ہی کسی روایت میں اس کا تذکرہ یا ترغیب ملتی ہے۔ جہاں تک حضرت فاطمہ ؓ کے سلسلےمیں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحب زادی فاطمۃ الزہراء ؓکو جہیز کے طور پر یہ چیزیں دی تھیں: ایک پلو دار چادر، ایک مشکیزہ، ایک تکیہ جس میں اذخر گھاس بھری ہوئی تھی۔(سنن النسائی)

یہ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ لڑکی والوں سے اپنی پسند اور خواہش کے مطابق جہیز کا مطالبہ کیا جائے، حالانکہ لڑکی کے ماں باپ کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ بچی کو ناز و نعمت میں پال کر اور اسے تعلیم و تربیت سے آراستہ کر کے اللہ کے حکم کی وجہ سے اپنے دل کے ٹکڑے کو دوسروں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس احسان مندی کے بجائے ان سے مطالبات کے ذریعے احسان فراموشی کا اظہار کیا جاتا ہے جب کہ اللہ کا حکم احسان کے بدلے احسان کرنے کا ہے ۔

پھر یہ بات لڑکے کی مردانگی کے بھی خلاف ہے کہ وہ صنف لطیف کے دئیے ہوئے لباس پہن کر عقد کرے، اس کی لائی ہوئی چیزوں پر عیش کرے، ہونے والی شریک حیات سے مانگے یا لے۔ تو یہ اس کے فقیر ہونے کی علامت ہے۔

لڑکیوں پر دوسرا ظلم ان کے والدین کرتے ہیں۔ وہ رسم جہیز کو تو خوش دلی سے ادا کرتے ہیں، لیکن وراثت میں لڑکی کا حصہ ادا نہیں کرتے ، جو حقوق العباد میں سے ہے، جسے دنیا میں نہیں ادا کیاگیا تو آخرت میں نیکیوں کی شکل میں ادا کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہیز کی موجودہ غیر اسلامی اور خودساختہ رسم سے دور رکھے، معاشرے کو بھی اس سے نجات دے، حفاظت فرمائے، تاکہ نکاح وشادی آسان ہوسکے۔