• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاہ رخ خان کی مخالفت اور حمایت میں بھارتی آمنے سامنے آگئے

ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں سب سے بڑی اقلیت سے تعلق رکھنے والے یعنی مسلمان بولی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے معاملے پر گزشتہ روز بھارتی آمنے سامنے آگئے۔ٹوئٹر پر 16 ستمبر کی صبح سے دوپہر تک بھارت میں بائیکاٹ شاہ رخ خان ہیش ٹیگ کا ٹرینڈ ٹاپ پر رہا تو سہ پہر کے بعد وی لو شاہ رخ خان ہیش ٹیگ اور ایس آر کے پرائڈ آف انڈیا ہیش ٹیگ کے ٹرینڈ سب سے اوپر آگئے۔بھارتی میڈیاکے مطابق شاہ رخ خان کے بائیکاٹ کے حوالے سے سب سے پہلے ریاست ہریانہ کے بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما ارن یادیو نے ٹوئٹ کی۔تاہم اگر ان کے ٹوئٹر کا جائزہ لیا جائے تو انہوں نے خود شاہ رخ خان کے بائیکاٹ کی ٹوئٹ نہیں کی بلکہ انہوں نے ایک صحافی کی ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کیا۔16 ستمبر کی صبح کو سریش چاوہانکے نامی مقامی صحافی کی جانب سے ہندی میں کی گئی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ شاہ رخ خان کے کرائے کے سوشل میڈیا ٹرولز نے انہیں نشانہ بنایا۔مذکورہ صحافی کی ٹوئٹ ارن یادیو کی جانب سے ری ٹوئٹ کرنے کے بعد کئی لوگوں نے سمجھا کہ شاہ رخ خان کے ’بائیکاٹ‘ کا مطالبہ بی جے پی رہنما کر رہے ہیں اور انہوں نے بھی صحافی کی ٹوئٹ کر شیئر کرنا شروع کیا۔یوں شاہ رخ خان کے ’بائیکاٹ‘ کا ٹرینڈ ٹاپ پر آگیا اور کئی لوگوں نے اداکار کی پرانی ویڈیوز شیئر کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ کماتے بھارت میں ہیں مگر تعریفیں پاکستان کی کرتے ہیں۔اسی طرح پرانی ویڈیوز کو شیئر کرکے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شاہ رخ خان کے ہندو مذہب کا احترام نہیں کرتے بلکہ وہ ’پکے مسلمان‘ ہیں۔’بائیکاٹ شاہ رخ خان‘ کے ٹرینڈ میں ان کی وزیر اعظم عمران کے ساتھ کھینچی گئی پرانی تصویر بھی شیئر کی گئی جب کہ اداکار کی جانب سے ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی تعریف کی ویڈیو بھی شیئر کی گئیں۔تاہم جلد ہی شاہ رخ خان کے حمایتی بھی سامنے آگئے اور سہ پہر کے بعد بھارت میں ٹوئٹر پر شاہ رخ خان کی حمایت میں ٹرینڈز بھی ٹاپ پر آگئے۔

دل لگی سے مزید