• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیائی ممالک کے جلو میں مملکت ِافغانستان کی جغرافیائی، تجارتی اور سفارتی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کے تلخ و شیریں حالات کا سبھی کو سامنا ہے۔ اس حوالے سے خطے کے ممالک کی نمائندہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا حالیہ اجلاس انتہائی اہمیت کا حامل ہے جس میں جملہ امور کے علاوہ افغان طالبان حکومت سے متعلق معاملات خاص طور پر زیر غور آئے۔ وزیراعظم عمران خان اس دو روزہ اجلاس میں شرکت کیلئے جمعرات کے روز تاجکستان کے دارالحکومت دو شنبے پہنچے، وہاں اسی روز ان کی ایران، تاجکستان، ازبکستان، بیلاروس، قازقستان کے صدور کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں جن میں افغانستان کے علاوہ دو طرفہ دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوئی۔ سوویت یونین کی تقسیم کے بعد وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ پاکستان کے سفارتی، سیاسی، ثقافتی و تجارتی تعلقات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی بدولت آج پاکستان کی ان ممالک کے ساتھ ہونے والی تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ افغانستان میں سیاسی و حکومتی استحکام آنے سے اس میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے ازبکستان کے شہر ترمز، افغانستان میں مزار شریف، کابل، جلال آباد کے راستے پشاور تک ٹرانس افغان ریلوے منصوبہ پورے خطے کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دو ماہ قبل وزیراعظم کے دورۂ ازبکستان کے موقع پر اس پر خاصی پیشرفت ہو چکی ہے جس کی تکمیل سے ازبکستان کو پاکستانی بندرگاہوں تک رسائی مل سکے گی۔ بیلا روس کے صدر الیگزنڈر لوکاشینو کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کی ملاقات میں زراعت و دفاع سمیت دیگر شعبوں میں باہمی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ یاد رہے چند ہفتے قبل بیلاروس کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا تجارتی دورہ کر چکا ہے جس میں مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ وطن عزیز کو توانائی کے شعبے میں جن چیلنجوں کا سامنا ہے اور عوام الناس مہنگی ترین بجلی، پٹرول و گیس استعمال کرنے پر مجبور ہیں، وسطی ایشیائی ریاستیں بڑی حد تک سستی توانائی کی فراہمی میں ہماری ضرورت پوری کر سکتی ہیں۔ اس ضمن میں گزشتہ دنوں روس کے ساتھ 4کھرب روپے مالیت کی اسٹیم گیس پائپ لائن کی تعمیر کا معاہدہ ہوا ہے۔ مزید برآں تاجک صدر امام علی رحمٰن کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے سستی بجلی کے حصول سمیت کاسا 1000منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 40سال کی جنگ کے بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہےبین الاقوامی برادری کو اس ضمن میں افغان عوام کی مدد، فوری ضروریات کو پورا کرنے اور معیشت کے استحکام کی غرض سے اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ انہوں نے پاک تاجک بزنس فورم سے خطاب میں سرمایہ کاروں کو حکومت کی طرف سے ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ یورو ایشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون سے متعلق چین کی سرکردگی میں قازقستان، کرغزستان، روس، تاجکستان پر مشتمل شنگھائی 5کے نام سے تنظیم کا 2001میں قیام عمل میں آیا بعدازاں ان میں ازبکستان کے شامل ہونے سے اس کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھ دیا گیا۔ 2005سے 2015تک پاکستان مبصر کی حیثیت سے اسمیں شامل رہا اور پھر 2017میں اس کے ساتھ بھارت کو بھی مستقل رکنیت مل گئی۔ اس وقت بیلاروس، ایران، منگولیا مبصر ریاستوں کی حیثیت سے تنظیم کے رکن ہیں بلحاظ آبادی یہ دنیا کی سب سے بڑی علاقائی تعاون کی تنظیم ہے جو افغانستان میں پائیدار امن کے قیام کیلئے مسلمہ حیثیت رکھتی ہے۔ امید واثق ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی پرامن افغانستان کےلئے کو ششیں بار آور ثابت ہوں گی۔

تازہ ترین