• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں برطانیہ میں رہتا ہوں اور پاکستان میں مقیم دوستوں سے بات ہوتی ہے تو ایک جملہ اکثر دہرایا جاتا ہے، اب کراچی وہ نہیں رہا‘۔ ویسے یہ جملہ اب کراچی کیا ہر چیز پر فٹ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کراچی کے بارے میں یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ یقیناً صورتحال سنگین ہے۔کراچی دفتر کے اس کلرک کی طرح ہے جو سب کے کام کرتا ہے اس کا کام کوئی نہیں کرتا۔ 

کوئی ذمہ داری لینے کو تیار ہی نہیں ہے۔کلرک کے انتہائی ضروری کاموں کی فائل ایک میز سے دوسری میز پر منتقل ہوتی رہتی ہے۔ سب ایک دوسرے پر ذمہ داری تھوپنے کے لیے تیار رہتے ہیں کام کوئی نہیں کرتا۔ ہزاروں نئے لوگ ہر مہینے اِس شہر میں آتے اور اِس میں گم ہو جاتے ہیں۔ 

بڑا انسان دوست شہر ہے۔ آپ ملک کے کسی شہر سے بھی کراچی پہنچیں آپ کو اپنے مزاج اور زبان کے لوگ مل جائیں گے۔انگریزی میں’ میلٹنگ پوٹ‘ اسی کو کہتے ہیں۔ مگر اب اِس پوٹ کو دھونے کی ضرورت ہے، مانجھنے کی ضرورت ہے۔ کراچی کا بجٹ کراچی پر لگانے کی ضرورت ہے۔ میرے ایک دوست نے کراچی کی تعریفوں کے پُل باندھتے ہوئے بتایا کہ کراچی اب خوب ترقی کر رہا ہے۔ 

نئے نئے شاپنگ مال بن رہے ہیں، بین الاقوامی برانڈز کراچی میں موجود ہیں، نئے اور جدید ریسٹورانٹ اور برگر پوائنٹس کھل رہے ہیں۔چند ایک برگروں کو انھوں نے ایسے بیان کیا کہ میرے منہ میں پانی بھر آیا اور ان کے خود کے پسینے چھوٹ گئے۔ 4جی کی انٹرنیٹ رفتار کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کیسے فلمیں آسانی سے 250روپے میں ریلیز ہونے سے دو دن پہلے دیکھ لیتے ہیں۔

دوستوں کے ساتھ رات گئے تک نئے انداز کے جدید ڈھابوں پر بیٹھ کر گپیں ہانک سکتے اور گرم گرم پراٹھوں کے مزے اڑا سکتے ہیں، میں نے سوچا بھائی کی توجہ تعلیمی نظام، سیوریج کے نظام، پانی اور بجلی کے مسائل، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری پر بھی دلوائی جائے مگر پھر سوچا چھوڑو، انہیں ان مسائل کے بارے میں مجھ سے بہتر پتہ ہو گا۔وہ شاید فی الحال غافل رہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ مسائل ان کے شہر کا یوں حصہ بن گئے ہیں کہ اب یہ مسائل، مسائل نہیں رہے زندگی بن گئے ہیں۔ (حیدر جناح،لندن)