• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مراقبہ سے قرب الٰہی اور روحانی سکون حاصل ہوتا ہے، شیخ احمددباغ

برمنگھم( نمائندہ جنگ) قرب الٰہی، حب رسول اور روحانی سکون کے لیے مراقبہ سے نہ صرف خاطر خواہ نتائج اخذ کیے جا سکتے ہیں بلکہ روحانی علاج بھی ممکن ہے۔کورونا جیسے ذہنی اذیت اور تنہائی کے بعد اللہ تعالیٰ سے براہ راست رشتہ جوڑنے کے لیے ذکر الٰہی دلوں کو سکون اور قلوب کو روشن کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ان خیالات کا اظہار ظفر مجید اور حاجی رمضان کی جانب سے سجائی گئی روحانی محفل میں ممتاز سکالر شیخ احمد دباغ نے کیا۔ محفل میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ خصوصاً خواتین اور بچے رات گئے تک روحانی محفل سے مستفید ہوتے رہے۔ شرکا تک خطاب پہنچانے کے لئے ہال کے اندر 6 سے زائد الیکٹرانک سکرین نصب کی گئی تھیں۔ چائے، کافی بسکٹ کے علاوہ پیزا برگرو اور انگلش فوڈ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ ممتاز اسلامک سکالر شیخ احمد تباغ کا مذید کہنا تھا کہ اللہ اور اس کے پیارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق مضبوط اور دلوں کو منور کرنے کے حوالے سے مراقبہ سے روحانی سکون حاصل کیا جا سکتا ہے اس موقع پر بڑی تعداد میں خواتین و حضرات نے شرکت کر کے مراقبہ کی پریکٹس کی اور روحانی تسکین حاصل کی ۔ ظفر مجید اور محمد رمضان دباغ کی طرف سے سجائی گئی مراقبہ روحانی محفل میں نامور اسلامی سکاکر شیخ احمد دباغ کی قرآن اور حدیث کی روشنی میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صل علیہ وسلم کو دلوں سے منور کرنے کے لیے حاضرین محفل کو طریقہ کار بتایا۔جس میں علماء کرام مشائخ کی بھی موجود تھے ۔اس موقع پر شرکاء کا کہنا تھا نوجوان نسل بے راہ روی کا شکار ہونے کی بڑی وجہ والدین اپنے بچوں کو کام کر مصروفیات کی وجہ سے توجہ نہیں سکتے جس کی وجہ ہمارا مسلم معاشرہ جو ددوسرے مذاہب کے لیے رول ماڈل ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہو سکا لیکن آج مختلف اسلامی سائنٹفک ریسرچر شیخ احمد تباغ کی وجہ سے نئی نسلوں کے لیے امید کی کرن پیدا ہوئی ہے اور معاشرے کو درست سمت پر پروان چڑھانے کے لیے جدید سائنٹفک بنیادوں پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں اللہ اور اس کی رسولﷺ سے تعلق مضبوط کرنے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ محبت امن اور بھائی چارے کی فضا پیدا کر کے جہاں خواتین و حضرات میں پائی جانے والے ذہنی تناو، بغض حسد جیسے بے شمار مسائل پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ اس سے بہترین اسلامی معاشرہ بھی تشکیل پائےگا، آخر میں امت کے اتحاد کے لیے دعا کی گئی۔
یورپ سے سے مزید