• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو بھائی لاپتہ، ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع اور ایس پی انوسٹی گیشن سی ٹی ڈی طلب

راولپنڈی(نمائندہ جنگ)لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس مرزا وقاص رئوف نے ٹیکسلا اور اسلام آباد سے پندرہ دن کے دوران لاپتہ ہونے دو بھائیوں کیخلاف سی ٹی ڈی کی طرف سے ایک ہی دن میں ایک گھنٹہ کے وقفے سےدو اضلاع میں وارداتوں کے مقدمات کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع اور سی ٹی ڈی کے ایس پی انوسٹی گیشن کو ذاتی طور پر آئندہ تاریخ سماعت پر طلب کرلیا ہے،عدالت عالیہ نے قرار دیا ہے کو دو افراد کے لاپتہ ہونے کا معاملہ اہم ہے،اس کو کیسے چلایا جارہا ہے،علی شیر نے کرنل انعام الرحیم ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر رٹ میں موقف اختیار کیا تھاکہ 11اکتوبر2019کو دوپہر کے وقت ٹیکسلا میں انکے گھر سےگاڑیوں میں کالی یونیفارم پہنے لوگ آئے اور میرے بھائی جنڈول کو لے گئے کہ اسکی تصدیق کرنی ہے،اسکی آٹھ بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے ہم نے پولیس سے رابطہ کیا لیکن ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ، بعد میں26اکتوبر کو دوبارہ گاڑیوں میں کالی یونیفارم پہنے لوگوں نے میرے دوسرے بھائی رفیع اللہ کو اسلام آباد سے اٹھالیا،رفیع اللہ کے چھ بچے ہیں،پولیس نے ایف آئی آر کی بجائے رپورٹ درج کرلی،اب تک بھائیوں کا کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے ، دو خاندانوں کے عورتوں ،بچوں سمیت 17افراد بے یارو مددگار ہیں ، سماعت کے موقع پر سی ٹی ڈی کی طرف سے تین ایف آئی آرز پیش کی گئیں جن میں سے ایک2017کی تھی جبکہ ایک20جولائی2020کی گوجرانوالہ میں دن ساڑھے تین بجے اور تیسری ایف آئی آر بھی اسی تاریخ کی ساڑھے چار بجے ڈیرہ غازی خان میں درج تھی،درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک ہی دن میں درج ہونیوالی دونوں ایف آئی آرز میں دونوں بھائیوں کا نام نہیں جبکہ دونوں بھائی2019سے کسٹڈی میں ہیں جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید ملک کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ تاریخ سماعت29ستمبر کو لیگل ایڈوائزر وازرت دفاع اور ایس پی انوسٹی گیشن سی ٹی ڈی کی حاضری کو یقینی بنائیں۔

اہم خبریں سے مزید