• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک کی درآمدی گاڑیوں کی فنانسنگ پر پابندی


اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے درآمدی گاڑیوں کی فنانسنگ پر پابندی عائد کردی۔

مرکزی بینک نے گاڑیوں کی فنانسنگ کی زیادہ سے زیادہ حد 7 سال سے کم کرکے 5 سال اور پیشگی ادائیگی 15سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی ہے جبکہ ذاتی قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 5 سال سے کم کرکے 4 سال کردی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق کوئی بھی شخص گاڑی کی فنانسنگ کے لیے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے مجموعی طور پر 30 لاکھ روپے تک قرض لے سکے گا۔

مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو احکامات جاری کیے ہیں کہ 5 لاکھ ڈالر سے زائد درآمدی ادائیگی کی تفصیلات اسٹیٹ بینک کو جمع کروائی جائیں۔

اس سے پہلے کمرشل بینک 10 لاکھ ڈالر یا اس سے زائد مالیت کی درآمدی ادائیگی کی تفصیلات مرکزی بینک کو جمع کروانے کے پابند تھے۔

اس کے علاوہ مرکزی بینک نے بینکوں کو 5 روز میں کی جانے والی درآمدی ادائیگیوں کی تفصیلات جمع کروانے کے احکامات بھی دیے ہیں۔

اس سے پہلے بینکوں کو 2 روز میں کی جانے والی ادائیگیوں کی تفصیلات جمع کروانا ہوتی تھیں۔

ماہرین کے مطابق اسٹیٹ بینک کے اقدامات کا مقصد درآمدی نمو کو قابو کرنا ہے۔

قومی خبریں سے مزید