• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کے تحائف اور توشا خانہ پر حکومت نے حقائق توڑ مروڑ کر پیش کیے

اسلام آباد (انصار عباسی) وفاقی حکومت سے کسی نے نہیں پوچھا تھا کہ ’’تحائف کس نے دیے‘‘ بلکہ حکومت نے خود ہی اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرکے توڑ مروڑ کر یہ بیان جمع کرایا کہ تحائف کے متعلق معلومات افشاء کرنے سے دیگر ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو نقصان ہو سکتا ہے۔

 رواں ہفتے کے آغاز میں توشہ خانہ کیس اس وقت ایک بڑا تنازع بن گیا جب حکومت نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اُس فیصلے کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس میں کمیشن نے فیصلہ دیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو مختلف سربراہانِ مملکت اور سربراہانِ حکومت کی جانب سے دیے گئے تحائف کی تفصیلات جاری کی جائیں۔

 وفاقی حکومت نے اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے دلیل دی کہ وزیراعظم کو ملنے والے تحائف کو ’’خفیہ‘‘ قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بتایا کہ تحائف کی تفصیلات افشاء ہونے سے میڈیا میں غیر ضروری افراتفری پھیل جائے گی جس سے ممکنہ طور پر پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان ہو سکتا ہے۔

 دلچسپ بات یہ ہے کہ جس شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا تھا کہ ان تحائف کی تفصیلات بتائی جائیں جو وزیراعظم نے اپنے پاس رکھ لیے ہیں؛ اس شہری نے اور نہ ہی کمیشن نے حکومت سے وزیراعظم کو تحائف دینے والی غیر ملکی شخصیات اور ممالک کے نام نہیں پوچھے تھے۔

 پوچھا صرف یہ گیا تھا کہ وزیراعظم کو کتنے تحائف ملے اور انہوں نے کتنے تحائف اپنے پاس رکھے ہیں۔ 

پاکستان انفارمیشن کمیشن کے فیصلے کے مطابق، کابینہ ڈویژن سے رابطہ کرکے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے گئے تھے: ۱) وزیراعظم کو 18؍ اگست 2018ء سے 31؍ اکتوبر 2020ء تک غیر ملکی سربراہانِ حکومت اور سربراہانِ مملکت سے کتنے تحائف ملے؟ ۲) وزیراعظم کو ملنے والے تمام تحائف کی مکمل تفصیل (اسپیسی فکیشن) کیا ہے؟ ۳) جتنے تحائف ملے ان میں سے وزیراعظم نے اپنے پاس کتنے رکھے ہیں؟ ۴) جتنے تحائف وزیراعظم نے اپنے پاس رکھے ہیں ان کی تفصیلات (اسپیسی فکیشن، ماڈل، مارکیٹ میں قیمت) کیا ہے اور یہ تحائف اپنے پاس رکھنے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے قواعد و ضوابط کے مطابق قومی خزانے میں کتنی رقم جمع کرائی ہے؟ ۵) تحائف کی رقم جو وزیراعظم عمران خان نے قومی خزانے میں جمع کرائی ہے وہ کس بینک اکائونٹ میں جمع کرائی گئی ہے، اس اکائونٹ کا ہیڈ آف اکائونٹ اور اکائونٹ نمبر بتایا جائے؟ ان سوالات کے حوالے سے کابینہ ڈویژن نے جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ معلومات ’’خفیہ‘‘ ہے۔

 انفارمیشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کابینہ ڈویژن کا جواب مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جس شہری نے یہ سوالات پوچھے ہیں اسے یہ جواب دیے جائیں۔

 فیصلے میں اس بات کی ضرورت پر زور دیا گیا کہ سرکاری امور چلانے کیلئے شفافیت کی ضرورت ہے اور ایسی رازداری کے نتیجے میں کرپشن کا عنصر پیدا ہوتا ہے اور اس سے عوام کے مفادات کو نقصان ہوتا ہے، جبکہ مصدقہ خبر کے نتیجے میں میڈیا میں کوئی غیر ضروری سنسنی بھی نہیں پھیلتی۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ کیسے ریکارڈ اور درست اعداد و شمار کی بنیاد پر جاری کی جانے والی معلومات کے نتیجے میں ملکوں کے درمیان تعلقات خراب ہو سکتے ہیں؟ کمیشن کا کہنا تھا کہ مصدقہ معلومات کی وجہ سے نہیں بلکہ معلومات کا تبادلہ نہ کرنے کی وجہ سے میڈیا میں سنسنی پھیلتی ہے اور ناقابل قبول معلومات پھیلائی جا سکتی ہیں جس سے عوامی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان جنم لیتا ہے۔ 

کمیشن کا کہنا تھا کہ مصدقہ معلومات کی فراہمی سے توشہ خانہ میں جمع کرائے گئے تحائف اور عوامی نمائندوں اور عہدیداروں کی جانب سے انہیں اپنے پاس رکھنے کیلئے ادا کی گئی قیمت کی اصل معلومات جاری ہونے کے نتیجے میں افواہیں دم توڑ جائیں گی۔

اہم خبریں سے مزید