• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

27 کا اسپیل پہلے سے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے، ڈائریکٹر محکمہ موسمیات


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے مارننگ شو ’’جیو پاکستان‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئےڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردارسرفرازکا کہنا تھا کہ27کا اسپیل پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے،رہنما تحریک انصاف صداقت علی عباسی نے کہا کہ ہمارا ٹارگٹ سبسڈی ہے جس میں غریب کا حق غریبوں تک پہنچے گا ،ماہر تعلیم سید عابدی کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا فیصلہ پاکستانی طلبہ کیلئے بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔ ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردارسرفرازکا کہنا تھا کہ بارش کی تین دن کی پیش گوئی تھی اور آج بھی امکان ہے جس طرح گزشتہ روز کی صورتحال تھی آج بھی وہی صورتحال برقرار رہے گی ۔اس کے بعد ایک اور اسپیل ستائیس کی رات کوموجود ہے اور وہ اسپیل پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتا ہے جو اٹھائیس تاریخ سے تیس تاریخ تک جاری رہے گا۔پاکستان برطانیہ کی سفری ریڈ لسٹ سے باہر،طلبا کو بھی فائدہ ہوگااس حوالے سے ماہر تعلیم سید عابدی کا کہنا تھا کہ فیصلہ پاکستانی طلبہ کے لیے بہت ہی مفید ثابت ہوگاجو بچے بیرون ملک گئے ہیں ان میں زیادہ تر بچوں نے یو کے کا ہی انتخاب کیا ہے اور یو کے نے بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کیااگر اس کا موازنہ دیگر یورپین ممالک کے ساتھ کیا جائے تو یو کے نے مثبت کردار ادا کیا۔انٹری ٹیسٹ کا طریقہ کار نامنظور ، میڈیکل طلبا سراپا احتجاج اس حوالے سے سیکریٹری جنرل پی ایم سی ڈاکٹر قیصر سجاد کا کہنا تھا کہ طلبہ کا سب سے بڑا اعتراض یہ کہ جو پڑھایا جاتا ہے وہ امتحان میں نہیں لیا جاتاملک میں یکسا ں تعلیم نہیں ہے ہر صوبہ کا اپنا مختلف طریقہ ہے ۔دوسرا اعتراض یہ ہے کہ ایک مہینے تک انٹری ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اس ایک مہینے کے بعد آپ اس کا نتیجہ دینگے اب اس میں کسی کوانٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں ہے کہیں کچھ مسئلے موجود ہیں ہمارا موقف ہے کہ آپ پورے پاکستان میں ایک دن انٹری ٹیسٹ لیں تمام وہ طالب علم جو میڈیکل کالج میں داخلہ لینا چاہتے ہیں اور امتحان کے بعدفوری طور پر اس کا اعلان کریں اور پھر داخلے کا طریقہ کار آگے بڑھائیں۔مزید ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میڈیکل ایسو سی ایشن کوپہلے دن سے ہی اعتراض ہے کہ پی اے سی کانام پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ہی ہونا چاہیے۔ اب قانون بن گیا ہے اس پر ہم زیادہ بات نہیں کرسکتے اس پر صرف ایک کام کیا جاسکتا ہے کہ جو انٹر کے طالب علم ہیں ان کے ساتھ بیٹھ کے بات چیت کے ذریعے اس کا حل نکالا جائے ۔

ملک بھر سے سے مزید