• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھرپارکر اور عمرکوٹ اضلاع کے علاوہ دیگر پسماندہ علاقوں میں خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اپنے ہاتھوں موت کو گلے لگانے افراد میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ گزشتہ دس سال کےدوران ضلع تھرپارکر میں خودکشی کرنے والے افراد کی تعداد دوسرے اضلاع کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ اس سلسلے میں سول سوسائٹی اور سماجی تنظیموں نے خودکشیوں کے اسباسب کا جائزہ لینے کے لیے سروے کیا جب کہ سیمینارز کا انعقاد بھی کیا گیا۔ 

خود ہلاکت کے زیادہ تر واقعات گھریلو تنازعات،بے روزگاری، بھوک، بدحالی اور مہنگائی کا شاخسانہ تھی ۔خواتین نے دریا ،تالاب، کوئیں میں چھلانگ لگا کر، گلے میں پھندا ڈالنے کے بعد درخت سے لٹک کر یا زہریلیدوا پی کر خود کو ہلاک کیا۔ سماجی تنظیموں کی جانب سے سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اعزا کی جانب سے خودکشی قرار دی جانے والی زیادہ تر اموات بعد میں قتل کا واقعہ ثابت ہوئیں۔ 

 بعض خواتین کو ان کے سسرال والوں نےگھریلو جھگڑے یا کاری کا الزام لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیا بعد میں قتل کے واقعے کو بااثر وڈیرے کی مدد سے تھانے میں خودکشی کا کیس درج کراکر معاملے کو دبا دیا۔ جب متوفیہ کے والدین یا قریبی رشتہ داروں نے چھان بین کی تو قتل کا واقعہ سامنے آیا۔ تھانے میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو کچھ والدین نے عدالتوں سے رجوع کیا۔ جج کے حکم پر جب بدنصیب خواتین کی قبر کشائی کی گئی اور طبی ماہرین نے ان کے جسمانی اجزاء کا تجزیہ کیا اور فرانزک ٹیسٹ کرائے گئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ خواتین کو قتل کیا گیا تھا۔

اس طرح کے زیادہ تر واقعات صحرائے تھر اور گردونواح کے پسماندہ علاقوں میں رونما ہوئے۔ حکومت کو اس سلسلے میں قانون سازی کرنا چاہئے، ایک تحقیقاتی سیل بنانا چاہئے، جس میں خودکشی قرار دیئے جانے والے واقعات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے، علاقے کے لوگوں سے تفتیش کی جائے،مرنے والی خواتین کے رشتہ داروں کو تھانوں تک رسائی دی جائے، ان کی شکایات توجہ سے سنی جائیں اور واقعہ قتل ثابت ہونے پر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ان واقعات میں کسی سردار یا وڈیرے کا اثر رسوخ قبول نہ کیا جائے بلکہ متوفیہ کو بعد از مرگ انصاف فراہم کیا جائے۔

سماجی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ خودکشی کے نام پر قتل کے زیادہ تر واقعات مالی تنگ دستی ، بھوک ، بے روزگاری، گھریلو چپقلش، سسرالیوں کے ساتھ تنازعات کی صورت میں رونما ہوتے ہیں۔ ایسے واقعات میں لڑکیوں کوزندہ جلا کرمارنے کے بعد محلے کے لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ مرنے والی نے خودسوزی کی ہے۔ بہو کے گلے میں پھندا ڈال کر، زبردستی زہریلی دوا اس کے حلق میں انڈیل کر، دریا ،تالاب یا کوئیں میں پھینک کر اسے خودکشی کا واقعہ قرار دیا جاتا ہے۔اس طرح کے واقعات کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا جب کہ طبی ماہرین بھی موت کے بارے میں کوئی رائے دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ تحقیق و تفتیش کے لیے پولیس کارروائیوں پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔ ضروری ہے کہ اس طرح کے واقعات کی تفتیش ایماندار اور فرض شناس تفتیشی افسر کے سپرد کی جائیں جو کسی بھی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر منصفانہ رپورٹ پیش کرکےمقدمے کے کرداروں کو سزا دلوائے۔

دوسری طرف اپنے ہاتھوں سے موت کو گلے لگانے والے افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے جن میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔ غربت ، بھوک ، افلاس ، شوہر یا ساس نندوں سے جھگڑے کی وجہ سے خواتین دل گرفتہ ہوکر خودکشی پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ وہ یا تو خودکو آگ لگانے پر مجبور ہوتی ہیں ، زہریلی دوا، کوئیں یا دریا میں چھلانگ لگا کر اپنا خاتمہ کرلیتی ہیں۔ مرد بےروزگاری سے تنگ آکر، اپنے بیوی بچوں کے فاقہ زدہ چہرے دیکھ کر ذہنی اذیتوں کا شکار ہوجاتے ہیں، ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ خود کو گولی مار کر یا دریا میں کود کر اپنی جان دے دیتے ہیں۔ اس طرح کا رجحان ختم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بھوک و افلاس کا خاتمہ کرنےی کے لیے لوگوں کو روزگار مہیا کیا جائے، گھریلو جھگڑے نمٹانے کے لیے محلوں کی سطح پر پنچایت کمیٹیاں بنائی جائیں۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید