• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذائقہ بھی زندگی کا ایسا تجربہ ہوتا ہے جو ساری زندگی آپ کے ساتھ رہتا ہے، جب کبھی کوئی اس کھانے کا نام لیتا ہے تو زبان میں وہ ذائقہ محسوس ہونے لگتاہے ،جس سے پہلی بار شناسائی ہوئی تھی۔ ذائقے کا یہ سفر ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ لیکن پہلا ذائقہ بھلانا آسان نہیں ہوتا۔

آج بھی مجھے یاد ہےکہ پہلی بار کون سی چیز اور کہاںکھائی تھی اور سب سے مزیدار ذائقہ کس کھانے کا تھا۔ ذائقے کے اس سفر سے آپ بھی گذرے ہوں گے۔ آج جب ماضی یاد کرتا ہوں تویہ مجھے میرے بچپن میں لے جاتا ہے جب دنیا بہت محدود تھی۔ گھروں سے باہر کھانے یا گھر سے باہر کی چیزیں کھانے کا رواج ایسا نہیں تھا جیسا آج ہے، اب تو باہر کھانا یا باہر سے کھانا منگوانا فیشن یا شوق سے بڑھ کر ضرورت بن چکا ہے۔ 

جہاں تک مجھے یاد ہے گھروں میں کھانے بھی چند ایک ہی پکتے تھے اور ہم ہنسی خوشی کھا لیتے تھے۔ آج کی طرح نہیں کہ گھر میں ٹینڈے پکے ہیں تو بچے نے باہر سے برگر کھالیا۔ ہمارے گھر میں تو زیادہ تر دالیں اور سبزیاں پکتی تھیں۔ یہ اور بات ہے کہ انہیں مختلف طریقوں سے پکایا جاتا تھا، جیسے کبھی بیگن یا آلو کی سبزی یا ترکاری پکا لی تو کبھی بیگن یا آلو کا بھرتا بنال یا پھر آلو کی بھجیا پکالی۔ 

کبھی آلو اور دال روٹی کے اندر چلے جاتے اور آلو والے پراٹھے اور دال بھری روٹی یا بیسنی روٹی، پودینہ اور ہری مرچ کی چٹنی کے ساتھ چٹخارے لے کر کھاتے۔جب کبھی گھر میں چار پیسے زیادہ ہوتے، یا طبیعت عیاشی پر آمادہ ہوتی یا امی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی تو بازار سے حلوہ پوری، یا نہاری ،منگوائی جاتی بس یہیں سے میری کہانی کا آغاز ہوتا ہے۔ بہار کالونی میں ہمارے گھر سے کچھ دور ایک امرتسر کے کشمیری مہاجر کا تنور تھا جو صبح سویرے قلچے اور باقر خانی بناتا۔ 

اب یہ یاد نہیں کہ یہ صرف چھٹی والے دن ہوتا یا روز کا معمول تھا، ہم تو صرف چھٹی والے دن ہی وہاں جاتے تھے، اس جیسی باقر خانی تو شاید بعد میں بھی کھائی ہو لیکن اس کے قلچے کا ذائقہ آج تک کہیں اور نہیں ملا۔ خمیری آٹے والے، ہلکے سے نمکین، تل چھڑکے ہوئے گرما گرم ، پھولے ہوئے ان قلچوں کی بات ہی کچھ اور تھی۔ جو ہم چائے میں ڈبو کر کھاتے تھے۔ اب ان کی صرف یاد ہی رہ گئی ہے۔

بہار کالونی ہی میں سہ پہر کو ایک نانبائی سائیکل پر اپنی چیزیں بیچنےآتا تھے۔ جب وہ آواز لگاتا تو ہم امی سے پیسے لے کر دوڑے جاتے اور اس سے علیگڑھ کے پاپے،جنہیں علیگڑھ کے بسکٹ بھی کہتے ہیں اور نان خطائی خریدتےتھے۔ آج تو شاید لوگوں کو علیگڑھ کے پاپے سمجھانا بھی ممکن نہ ہو۔ وہ نمکین زیرے والے بسکٹ اور ڈبل روٹیاں بھی لاتا تھا جن میں ایک قلچے کے سائز کی گول ڈبل روٹی بھی ہوتی تھی، جسے نان کہتے تھے۔ اب مجھے وہ نان نظر نہیں آتے۔ کبھی کبھار جب ہم اپنے رشتہ داروں کےگھر جاتے تو وہاں صبح سویرے بی پی والوں کی گاڑی آتی۔ بی پی کا بن اور مسکہ بن کا جوڑ دنیا میں آج تک پیدا نہیں ہوا۔ اور بی پی کی ڈبل روٹی والا ذائقہ بھی مجھے کسی اور ڈبل روٹی میں نہیں ملا۔ یہ میرے بچپن کی یادوں کا اٹوٹ نقش ہے۔

غربت کے ان ہی دنوں میں ہماری اوقات گلی میں ٹن ٹن گھنٹی بجاتے گولے گنڈے، ملائی قلفی یا سیکرین والی آئس کینڈی کی تھی جو دو پیسے سے دوآنے تک میں مل جاتی تھیں ، پھر کراچی والوں کی زندگی میں’’ ایم ایف آئس کریم “ آئی، بعد میں تو بہت ساری ملکی اور غیرملکی آئس کریم آئیں لیکن ایم ایف کراچی والوں کا آئس کریم سے پہلا پیار تھا جسے میری نسل کے لوگ کبھی نہیں بھول سکتے۔ اس کی چوک بار، چار آنے کی تھی جو ہماری اوقات سے بہت زیادہ تھی لیکن ہم بچوں کا دل رکھنے کے لیے امی چار آنوں کی قربانی دیتیں اور چھری سے اس چوک بار کے چار برابر حصے کرکے ہمیں پلیٹوں میں دیتیں، جنہیں ہم برضا و رغبت کھاتے۔

ہم لڑکوں کی جیب میں کہیں سے اگر آٹھ آنہ یا ایک روپیہ آجاتا، جو کہ عید بقر عید پر ہی ملتا تھا، اچانک کوئی مہمان وارد ہوجاتا تو ہماری دوڑ دہلی سوسائٹی میں ریاض مسجد کی طرف لگتی۔ اسےشمسی ہاؤس “ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا جہاں کبابوں کی دکان تھی۔ ریاض مسجد کی مشرقی سیڑھیوں کی دائیں جانب ایک چھوٹی سی دکان تھی جس کے کاؤنٹر پر بھائی غفار کباب بھونتے۔

کاؤنٹر کے پیچھے ایک چھوٹی سی بنچ تھی، جس پر بیٹھ کر ہم ’’آتشیں‘‘ کباب کھاتے اور سی سی کرتے اور پانی پیتے رہتے۔ اب کراچی میں دوسرے کباب بھی مشہور ہوگئے ہیں لیکن جنہوں نےیہاں کے کباب کھائے ہیں وہی جانتے ہیں کہ اصلی گولا کباب کسے کہتے ہیں۔ خیر جس دن چار آنے میسر آجاتے تو ہم بہادر آباد پہنچ جاتے، جہاں کے آلو چھولے، دہی بڑے، چاٹ وغیرہ ہمارے منتظر ہوتے۔ کراچی میں اور بھی کئی جگہ چاٹ چھولےبکتے تھے، خاص کر کیپیٹل سینیما والی گلی میں اور طارق روڈ پر لیکن بہادر آباد کے ان چاٹ چھولوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی صفائی تھی اور ذائقے کے ساتھ صفائی کا امتزاج کم از کم کراچی میں ممکن نہیں۔

کیپیٹل سینیما کی گلی میں داخل ہوتے ہی بھاپ اڑتی، سبز چائے کی خوشبو کی لپٹیں مشام جاں کو معطر کر دیتیں، کیفے گلوریا کی چائے دور سے ہی دعوت دیتی کہ اس گلی میں آئے ہو تو مجھے بھی پی کر دیکھو۔ پارسی آتشکدۂ والی گلی میں کراچی کی واحد بھیل پوری کی دکان تھی ،اس وقت سوائے ممبئی والوں ،میمنوں اور بوہریوں کے کوئی بھیل پوری کا نام بھی نہیں جانتا تھا۔ میں نے دوبئی ، شارجہ میں بہت سےہندوستانی ہوٹلوں میں بھیل پوری کھائی لیکن کراچی والی اس بھیل پوری کا جوڑ آج تک نہیں ملا۔

جو کراچی میں رہا ہو اور برنس روڈ سے لذت کام و دہن سے محروم رہا ، یہ ہو نہیں سکتا۔ میرا دعوایٰ ہے کہ دنیا بھر کے فوڈ کورٹ اور کھانے پینے کے علاقے ایک طرف ، برنس روڈ ایک طرف۔یہ فوڈ کورٹ اور فوڈ اسٹریٹس صفائی ستھرائی ، وسعت، سجاوٹ، خوبصورتی اور نظم و ضبط وغیرہ ہر چیز میں بہت زیادہ آگے ہوں گی لیکن جہاں تک بات ہے ذائقے اور چٹخارے اور مزے کی تو برنس روڈ حرف آخر ہے۔

کراچی اور کراچی کے ذائقوں سے شناسائی میں میرے چھوٹےچچا کا بہت ہاتھ ہے۔ میں نے زیادہ تر کراچی ان کے ساتھ ہی دیکھا۔ کیفے گلوریا، پاک آئسکریم، کیفے جارج، آکسفورڈ کیفے وغیرہ میں ان کے ساتھ ہی گیا جن کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔ منوڑا میں کلب روڈ کی گلی جو سمندر کی جانب جاتی ہے ، میں بنے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں مچھلی فرائی کھائی، جس پر چھڑکے ہوئے مسالےنے اسے لذیذ تر بنادیا تھا۔ ذائقوں کے اس سفر میں کئی چھوٹے موٹے مقام اور بھی ہیں لیکن وہی بات کہ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔