• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا محمد عبدالرشید نعمانی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا،آپﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’سات طرح کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنے سایہ میں اس دن جگہ دے گا جس دن اس کے سایہ کے سوا کوئی اور سایہ نہ ہوگا: ۱:- امام عادل، ۲:- وہ جوان جس کی نشو ونما ہی اللہ تعالیٰ کی عبادت میں ہوئی، ۳:- وہ شخص جس کا دل مسجدوں میں اَٹکا ہوا ہے، ۴:- وہ دو شخص جو آپس میں اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں، اسی محبت پر ملتے اور اسی پر جدا ہوتے ہیں، ۵:-وہ شخص جسے کسی جاہ وجمال والی عورت نے بلایا اور اس نے کہہ دیا کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں، ۶:- وہ شخص جس نے اس طرح چھپا کر صدقہ دیا کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتا نہ چل سکا کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا، ۷:- وہ شخص جس نے تنہائی میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں (خوف خدا کے باعث )بہنے لگ گئیں۔ ‘‘ (رواہ البخاری ومسلم ۔ترغيب ۔منذری)

۱:-حدیث میں امام سے مراد خلیفہ اور حاکم وقت ہے، عادل وہ شخص ہے جو متبعِ امرِ خدا ہے، افراط وتفریط سے دور ہے اور ہر شے کو اپنے اپنے موقع اور محل پر استعمال کرتا ہے، امام عادل کا سب سے پہلے اس لیے ذکر ہوا کہ اس کا نفع عمومی ہے۔ ۲:- شباب کا اعتبار اس لیے کیا ہے کہ ’’جوانی دیوانی‘‘ مشہور ہے۔ حدیث میں آیا ہے: ’’الشباب شعبۃ من الجنون‘‘چونکہ جوانی میں عبادتِ الٰہی میں مشغول رہنا آسان کام نہیں، اس لیے جواں سال عابد مستحقِ سایۂ الٰہی ہے۔

۳:-تعلقِ مسجد سے مراد یہ ہے کہ اس کا دل ہر دم مسجد میں جانے اور عبادت کرنے کو چاہتا ہے، اگرچہ وہ مسجد سے باہر ہو، چنانچہ مؤطا امام مالکؒ کے الفاظ ہیں:’’اور وہ شخص کہ جب وہ مسجد سے باہر آتا ہے تو اس کا دل مسجد ہی میں اَٹکا رہتا ہے، جب تک کہ لوٹ کر نہ آئے۔ ‘‘

مطلب یہ ہے کہ اس کا دل مسجد کی محبت سے وابستہ ہے، جب ایک نماز پڑھ کر مسجد سے چلا آتا ہے تو دوسری نماز کا منتظر رہتا ہے کہ کب نماز کا وقت آئے اور مسجد میں جا کر دوبارہ نماز پڑھ سکے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ نماز کا بھی اہتمام رکھنا ہے اور جماعت کا بھی، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیشہ وہ مسجد ہی میں بیٹھا رہے اور کبھی باہر نہ نکلے، بلکہ جب کسی کام کو وہاں سے چلا آتا ہے تو اس کے دل میں لگن رہتی ہے کہ پھر مسجد میں جا کر وہاں نماز پڑھے اور اعتکاف کرے۔

۴:-محبتِ باہمی سے مراد یہ ہے کہ فقط اظہارِ دوستی نہ ہو، بلکہ محبتِ حقیقی اور واقعی ہو، نیز اس دینی محبت میں دوام بھی ہو، جو کسی دنیوی سبب سے منقطع نہ ہو۔

۵:- جاہ وجمال کے متعلق ظاہر ہے کہ انہی دو وجوہ سے صنفِ نازک کی طرف زیادہ رغبت ہوتی ہے۔ پھر جمال اور مال ومنال دونوں کا عورت میں جمع ہوجانا اکثر کمیاب ہے، اس پر ستم یہ کہ مرد کو سیہ کاری کے لیے وہ خود ہی بُلائے۔ ظاہر ہے کہ ایسے تمام مواقع بہم پہنچنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے اپنے دامن کو گنہگاری کے دھبے سے بچالینا کوئی معمولی کام نہیں، خوفِ الٰہی کی قید اور شرط اس جگہ اس لیے ضروری ہے کہ بہت سے مرد اور عورتیں زنا کاری کو شرافت کے خلاف سمجھتے ہیں یا غیر کے مطلع ہونے سے ڈرتے ہیں اور اس لیے مرتکبِ حرام کاری نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے کہ ان کا زنا سے اس طرح باز رہنا اللہ کے خوف اور ڈر سے نہیں ہوتا، بلکہ صرف اس لیے کہ شرافت پر دھبہ نہ آنے پائے یا غیر اس پر مطلع نہ ہونے پائے۔ یہ سایۂ الٰہی اور یہ بہشت اسی خوف کا نتیجہ ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ’’اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا، اُس کے لیے دو باغ ہوں گے۔ ‘‘ (سورۃ الرحمٰن)

اور دوسری جگہ فرمایا: ’’اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اور اس نے اپنے نفس کو خواہشات سے روکا، پھر بے شک اس کا ٹھکانا جنت ہے۔‘‘(سورۃ النازعات)

بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ’’إني أخاف اللہ‘‘ اس نے زبان سے کہا، تا کہ عورت کو اس کا عذر معلوم ہوجائے اور وہ خود بھی خوفِ الٰہی سے اس برائی کا ارتکاب نہ کرے اور اس کا بھی احتمال ہے کہ مرد اپنے دل ہی دل میں کہے کہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں کہ تقویٰ کا تعلق دل ہی سے ہے۔ بہرحال یہ بات صرف اس طرح حاصل ہوسکتی ہے کہ انسان کا دل اللہ کے خوف سے بھرپور ہو اور وہ خود حیاء وتقویٰ سے معمور ہو۔

۶:- لفظ ’’صدقہ‘‘ حدیث میں نکرہ آیا ہے،اس میں ہر صدقہ (کم ہو یا زیادہ) داخل ہے،اس لیے بظاہر یہ صدقہ فرض ونفل دونوں پر مشتمل ہے، لیکن شیخ محی الدین نوویؒ نے علماء سے نقل کیا ہے کہ صدقۂ فرض کا اظہار بہ مقابلہ اِخفاء کے اولیٰ اور بہتر ہے، تاکہ متہم بفسق نہ ہو اور لوگ یہ نہ سمجھیں کہ تارکِ فرض ہے۔ پھر فرمایا: ’’بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا؟‘‘ یہ اخفائے صدقہ میں مبالغہ ہے کہ اس قرب کے باوجود جو ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ سے حاصل ہے، ایک ہاتھ کے فعل کا دوسرے ہاتھ کو علم نہ ہو، مقصد اصل میں یہ ہے کہ صدقہ جس قدر چھپاکر دیا جائے،اسی قدر بہتر اور افضل ہے۔ حدیث میں کوئی خاص شکل اِخفاء کی متعین نہیں فرمائی گئی، اس لیے جس صورت سے بھی اِخفاء ہوسکے ،وہی صورت اس حدیث کا مصداق ٹھہرے گی، غرض اِخفاء سے ہے،نام ونمود ونمائش سے بچنے کی ضرورت ہے، اس کا طریقہ جو بھی ہو، مدعا حاصل ہوجاتا ہے۔

۷:۔مراد ذکرِ خدا سے عام ہے، دل سے ہو، یا زبان سے، یا دونوں سے۔ اور تنہائی سے مراد یہ ہے کہ کوئی اور موجود نہ ہو، یا مجلس میں ہے تو غیر اللہ کی طرف التفات نہ ہو۔ ارشاد ہے: ’’وہ مرد کہ غافل نہیں ہوتے سودا کرنے میں نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے۔ ‘‘(سورۃالنور)

آنسو بہتے ہیں، لیکن حدیث میں آنکھوں کا بہنا مذکور ہے، یہ مبالغہ ہے اور کثرتِ بُکاء کا کنایہ، گویا آنکھیں خود آنسو بن گئیں۔ امام قرطبیؒ کا قول ہے کہ ذاکر کا رونا اپنے حال کے مطابق اس وقت جو چیز اس پر طاری ہوتی ہے، اس کے لحاظ سے ہوتا ہے، چنانچہ وہ اوصافِ جلال کی حالت میں خوفِ الٰہی سے روتا ہے اور اوصافِ جمال کی حالت میں شوقِ الٰہی میں روتا ہے، لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے لکھا ہے کہ بعض روایات میں اس حدیث میں ’’خشیۃ اللہ‘‘ (خوفِ الٰہی) کی قید مذکور ہے، چنانچہ بروایت حماد بن زیدؒ مرفوعاً نقل کیاگیا ہے: ’’ ففاضت عیناہ من خشیۃ اللہ‘‘ اور اسی طرح بیہقی کی روایت میں بھی آیا ہے۔

خوفِ خدا سے رونے کے بارے میں بہت سی حدیثیں آئی ہیں اور محدثین نے احادیث کی کتب میں اس کے لیے مستقل باب منعقد کیا ہے۔ سننِ ابن ماجہ میں حضرت ابن مسعودؓ سے مرفوعاً روایت ہے: ’’جس بندۂ مومن کی آنکھوں سے کچھ آنسو اللہ کے خوف سے نکلیں، اگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہی ہوں اور پھر اس کے چہرے کے کسی حصے پر بہہ نکلیں تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو آگ پر حرام فرما دیتا ہے۔‘‘

خوفِ خدا کے رتبے کو دیکھنا چاہیے کہ اگر اس کے ڈر سے سرِ مگس کے برابر آنسو بہہ کر چہرے پر آتا ہے تو جہنم اس رونے والے پر حرام ہوجاتی ہے، پھر جو شخص کہ ہمیشہ خوفِ خدا سے گریاں وبریاں رہے گا‘ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا رتبہ کس درجہ بلند ہوگا۔

یہ واضح رہے کہ یہ خصلتیں کچھ مردوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں،بلکہ اس میں عورتیں بھی ان کی شریک ہیں۔ ہاں ’’امام عادل‘‘ سے مراد اگر خلیفہ ہے تو بے شک حقِ خلافت انہیں حاصل نہیں، ورنہ اگر عورت عیال دار ہے تو وہ بھی اپنی اولاد کی نگراں اور حاکم ہے، جہاں اسے انصاف سے کام لینا چاہیے۔ اسی طرح مسجد کی حاضری بھی عورتوں کے لیے ضروری نہیں،بلکہ ان کے لیے گھر میں نماز ادا کرنا مسجد سے بہتر ہے۔