• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میرا گھر سرگودھا شہر میں ہے اور میری ملازمت میانوالی سے تیس  کلو میٹر کے فاصلے پر نمل یونیورسٹی میں ہے ۔یونیورسٹی سے 12کلو میٹر کے فاصلے پر ہاسٹل ہے ،جہاں میں ہفتے میں پانچ دن رہتاہوں ، جمعہ والے دن شام کو گھر جاتا ہوں اور اتوار کی شام یا پیر کی صبح یونیورسٹی پہنچ جاتا ہوں، ان پانچ دنوں میں میں اپنی نماز قصر کروں یا مکمل پڑھوں ؟(شبیر احمد جوڑا ،میانوالی )

جواب: آپ اپنے شہر سرگودھا میں پوری نماز ادا کریں گے،لیکن سفر، یونیورسٹی اور ہاسٹل میں اگر آپ انفرادی طورپر نماز ادا کررہے ہیں تو قصر کریں گے ، البتہ اگر مسجد یا کسی مقام پر جماعت میں شامل ہوتے ہیں تو پوری نماز پڑھیں گے ۔ مسافر جب مقیم امام کے پیچھے باجماعت نماز ادا کرے گا تو پوری نمازپڑھے گا ، خواہ تکبیرِ اُولیٰ سے شامل ہواہو یا درمیان میں اقتداء کی ہو ۔ حدیث پاک میں ہے :ترجمہ:’’امام اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اُس کی اقتداء کی جائے ،(صحیح بخاری:688)‘‘۔

جب تک بندہ کسی مقام پر 15دن یا اُس سے زائد عرصے کے لیے قیام کی نیت نہ کرے ،تو وہ شرعاً مسافر ہی کہلائے گا ، نماز میں قصر کرے گا ۔تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’(یا وہ نصف ماہ اقامت کی نیت کرے)اگرچہ اقامت کی نیت نماز کے اندر کرے ،بشرطیکہ نماز کا وقت نہ نکلا ہواور مسافر لاحق نہ ہو، پھر اقامت کی نیت حقیقت میں ہو یا حکماً دونوں معتبر ہیں، جیسے کہ ’’بزازیہ ‘‘وغیرہ میں اس کی مثال موجو دہے ،(اقامت کی نیت کسی ایسی جگہ کرے جو اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو)شہر ہو یا گاؤں ہو یا ہمارے ملک کا صحرا ہو اور نیت کرنے والا خانہ بدوش ہو ، (پس نمازمیں قصر کریں گے،اگر پندرہ دن سے کم اقامت کی نیت کی ہو)،(ردالمحتار علیٰ الدر المختار ، جلد2، ص:528، 529، بیروت)‘‘۔

اقامت کی نیت صحیح ہونے کے لیے چھ شرائط ہیں : (۱)چلنا ترک کرے، اگر چلنے کی حالت میں اقامت کی نیت کی تو مقیم نہیں۔ (۲)وہ جگہ اقامت کی صلاحیت رکھتی ہو،جنگل یا دریا غیر آباد ٹاپُو میں اقامت کی نیت کی مقیم نہیں کہلائے گا، (۳)پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو، اس سے کم ٹھہرنے کی نیت سے مقیم نہ ہوگا، (۴)یہ نیت ایک ہی جگہ ٹھہرنے کی ہو، اگر دوجگہوں میں پندرہ دن ٹھہرنے کا ارادہ ہو، مثلاً ایک میں دس دن دوسرے میں پانچ دن کا تو مقیم نہیں ہوگا، (۵)اپنا ارادہ مستقل رکھتا یعنی کسی کا تابع نہ ہو، (۶)اس کی حالت اس کے ارادے کے منافی نہ ہو۔

امام احمد رضا قادری ؒ سے سوال ہوا:’’زید اپنے وطن سے ستر یا اَسّی کو س کے فاصلے پر کسی شہر میں ملازم ہے ،وہاں سے سال دوسال کے بعد آٹھ دس روز کے واسطے اپنے مکان پر آیا اور پھر چلا گیا، اس آمد ورفت میں اسے نماز قصر پڑھنا چاہیےیا نہیں ‘‘؟( بینوا توجروا)

آپ نے جواب میں لکھا : ’’جب وہاں سے بقصد وطن چلے اور وہاں کی آبادی سے باہر نکل آئے، اس وقت سے جب تک اپنے شہر کی آبادی میں داخل نہ ہو ،قصر کرے گا۔ جب اپنے وطن کی آبادی میں آگیا قصر جاتا رہا، جب تک یہاں رہے گا، اگر چہ ایک ہی ساعت، قصر نہ کرسکے گا کہ وطن میں کچھ پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت ضرور نہیں، پھر جب وطن سے اُس شہر کے قصد پرچلا اور وطن کی آبادی سے باہر نکل گیا ،اس وقت سے قصر واجب ہوگیا۔ 

راستے بھر تو قصر کرے گا ہی اور اگر اُس شہر میں پہنچ کر اس بار پندرہ روز یا زیادہ قیام کا ارادہ نہیں، بلکہ پندرہ دن سے کم میں واپس آنے یا وہاں سے اور کہیں جانے کا قصہ ہے تووہاں جب تک ٹھہرے گا، اس قیام میں بھی قصر ہی کرے گا ، اگر وہاں اقامت کا ارادہ ہے، تو صرف راستہ بھر قصر کرے ،جب اس شہر کی آبادی میں داخل ہوگا، قصر جاتا رہے گا۔ واﷲتعالیٰ اعلم،(فتاویٰ رضویہ ،جلد8،ص: 258) ‘‘۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk