• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل بے روزگاری بھی نوجوانوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے ایک رپورٹ کے مطابق ملازمت پیشہ افراد کی تعداد تقریباً 7کروڑ ہے، جس میں نوجوانوں کی اکثریت ہے اور ان کا تناسب56 فی صد کے قریب ہے اس رپورٹ کے مطابق بے روزگاری کی شرح نئے مالیاتی سال میں11 فی صد سے بھی تجاوز کرجائے گی پاکستانی معاشرے میں تعلیم یافتہ بے روزگار زیادہ تر ڈگری یافتہ ہیں ، ان کی شرح تناسب مسلسل بڑھتی جارہی ہے ۔

گزشتہ دو سال سے معیشت میں جمود طاری ہے معاشی پالیسیاں جدید خطوط سے آراستہ کرنے کی جدوجہد کی جارہی ہے لیکن موذی وائرس کورونا نے عالمی سطح پر وقتی طور پر معیشت کو دھچکا لگا، وہاں بھی معاشی مسائل نے سر اٹھایا لیکن ان کی مربوط استحکامی اصلاحات نے اپنے ممالک میں عوام کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی بہت سی سہولیات و مراعات دیں، جس سے ان کی تعلیمی، معاشی اور دیگر مسائل حل کرنے میں کامیاب ہوگئے بے روزگاری کا جو سیلاب بند توڑنے والا تھا اس کو بڑی آسانی سے اپنی معاشی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے روک دیا۔ 

جبکہ ہمارے ملک میں ایک افراتفری کی فضا ابھی تک برقرار ہے کئی لاکھ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، جس میں زیادہ تر ہماری نوجوان نسل ہے اور تمام اداروں کا محور ایک ہی ہے کہ معاشی حالات کی بنا پر اسٹاف کم کیا جارہا ہے جو نوجوان نسل مختلف اداروں اور پرائیویٹ سیکٹر میں کنٹریکٹ بیس یا کہیں ڈیلی ویجز پر روزگار حاصل تھے۔

ان پر بے روزگاری کی تلوار سب سے پہلے چلائی گئی ۔ موجودہ دور میں تعلیم یافتہ اور غیرتعلیم یافتہ نوجوان کا فرق مٹ چکا ہے، کراچی جیسے گنجان شہر میں نسل نو جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے وہ گاڑیوں اور ٹھیلوں پر بریانی، برگر، فاسٹ فوڈ اور دیگر چھوٹے پیمانے پر کام کررہے ہیں ۔ غربت اور بے روزگاری سے دل برداشتہ نوجوان خواہ وہ غیرتعلیم یافتہ ہو یا ڈگری یافتہ بڑی تیزی سے جرائم کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے نوجوان جرائم پیشہ کی تعداد میں38فی صد اضافہ ہوا ہے۔

جیلوں میں نوجوان قیدیوں میں تقریباً اضافہ27 فی صد ہے اوراُن میں نشہ اور دیگر منشیات و شیشہ پینے والوں کی تعداد ڈھائی کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے، جس میں 16سال کے نوعمر نوجوان سے 30سال تک کے نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد شامل ہے اور اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس میں ان پڑھ نوجوانوں کے علاوہ اسکول، کالج اور جامعات کے طالب علم تک ملوث ہیں جو اپنی ناآسودہ خواہشات کی تکمیل کے لئے جرائم کا راستہ اپنا رہے ہیں۔