• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


حسن نثار(05اکتوبر) اک اور دنیا کی کہانی

آپ نےمعاشرے کی سوچ کی بہترین عکاسی کی ہے۔ ہمارے ادوار کامطالعہ کیا جائےتو تب کی شعرو شاعری تومعاشرے کی دانشورانہ سوچ کی وضاحت کرتی ہے۔اب عشقیہ شاعری کو دیکھیں توصرف اعصابی اورظاہری خوشنمائیوں کی داستانیں بندھی ہیں جو معاشرے کی سوچ اور ان کی پختگی کو ظاہرکرتی ہے۔ (احترام الحق،چترال)


انصار عباسی(04اکتوبر) عمران خان پریشان کیوں؟

جناب بلاشبہ اس وقت معاشرے کی کردار سازی کی بہت ضرورت ہے لیکن معاملہ تربیت و کردار سازی سے زیادہ قانون پرعملداری کا ہے۔انصاف اورعدالتی نظام کوفوری اور سہل بنانے کا ہے۔ ملکی نظام کی بہتری میں ہمارے حکمران خود ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔(موسیٰ رضا،فیصل آباد)


وجاہت مسعود (02اکتوبر) جبر کی ناقابلِ برداشت کثافت

جناب کہنے کوتوہمارےملک میں جمہوری نظام رائج ہےلیکن یوم آزادی سےلےکرآج تک حکمران اورسیاسی پارٹیوں کے ذاتی مفادات کے ٹکراؤکی وجہ سے ہمارے ملک وریاست میں سیاسی عدم استحکام کی کیفیت ہے جس کا براہ راست انتہائی برااثر ہماری معیشت اورمعاشرے پرپڑ رہا ہے۔ (صابر، کوھاٹ)


مظہر عباس(6اکتوبر) مذاکرات ۔مگر کیسے؟

جناب روس اورامریکہ کی اپنے مفادات کیلئے افغانستان میں جنگ میں پاکستان خوفناک دہشت گردی کا شکار ہو چکا ہے۔ مذاکرات کے حوالے سے موجودہ حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیتے ہوئے ٹی ٹی پی سے آئندہ کیلئے پاکستان میں دہشت گرد کاروائیاں نہ کرنے کی مضبوط ضمانت لینی چاہئے۔(سہیل شاہ، ملتان)


محمود شام(03اکتوبر) ہم پاکستانی ڈرتے کیوں ہیں؟

جناب محمود شام صاحب ملکی ترقی و خوشحالی کے دعوے دار74 برسوں سے اس درخت کو کاٹ رہے ہیں۔ بس وقت بہت قریب ہے جب یہ درخت جڑ سےہی اکھاڑ دیا جائے گا۔ (ہارون ملک، سیالکوٹ)


اشتیاق بیگ(06اکتوبر) پاکستانی پاسپورٹ کی تنزلی

جناب آپ نے بجا فرمایا لیکن میرے خیال سے پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ کو سب سے زیادہ نقصان سوویت افغان جنگ کے بعد پہنچا۔ جب لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان آئےاور انہوں نےرشوت کےعوض پاسپورٹ حکام سےپاکستانی پاسپورٹ حاصل کئے۔ (ڈاکٹر علی راشد، دبئی)