• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فلور ملز کی ہڑتال سے 48 گھنٹے قبل محکمہ خوراک نے 2 مطالبات مان لئے

اسلام آباد (حنیف خالد) فلور ملز مالکان کی ہڑتال شروع ہونے سے 48گھنٹے پہلے حکومت پنجاب نے پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے دو مطالبات تسلیم کر لئے۔ نوٹیفکیشن نمبر ایس او (ایف) ون 3ٹو 2021-22ء ڈبلیو آر جاری کیا ہے۔ محکمہ خوراک کے حکام کی دوعملی اس نوٹیفکیشن سے عیاں ہوئی ہے کہ نوٹیفکیشن کمپوز ہوتے وقت اسکی تاریخ اجراء لاہور 19ستمبر 2021ء کمپوز کی گئی ہے جبکہ سیکرٹری فوڈ پنجاب کے اس پر دستخط نہیں ہیں۔ اس پر سیکشن افسر ویٹ کے 9اکتوبر 2021ء کی تاریخ ڈال کر دستخط کئے گئے ہیں۔ اس نوٹیفکیشن کی کاپی سیکرٹری ٹو گورنر پنجاب‘ سیکرٹری ٹو وزیراعلیٰ پنجاب‘ تمام انتظامی سیکرٹریز آف گورنمنٹ آف پنجاب‘ ڈپٹی سیکرٹری (سٹاف)‘ ٹو چیف سیکرٹری پنجاب‘ آل ڈویژنل کمشنرز پنجاب‘ آل ڈپٹی کمشنرز پنجاب‘ ڈائریکٹر فوڈ پنجاب لاہور‘ تمام ڈپٹی ڈائریکٹرز فوڈ پنجاب‘ پنجاب کے تمام ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز‘ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین‘ آل سیکشن آفیسرز آف فوڈ ڈیپارٹمنٹ‘ سیکرٹری فوڈ پنجاب کے پرائیویٹ سیکرٹری کو بھجوائی گئی ہیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی کابینہ کی منظوری سے درج ذیل ٹرم اینڈ کنڈیشنز پیرا دو سب پیرا فائیو اور نائن کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب سب پیرا فائیو یہ ہو گا۔ کہ گندم سرکاری گوداموں سے متعلقہ ضلع کی ٹارگٹ آبادی کی بنیاد پر ریلیز ہو گی‘ البتہ فلور ملز کو رولر باڈی کا کوٹہ 12بوری ملا کریگا۔ سب پیرا نائن کی جگہ یہ پیرا گراف لکھا گیا ہے۔ کہ شوگر ملز مالکان سرکاری گندم کے سٹاک سے 70فیصد آٹا‘ 18فیصد فائن اور 12فیصد چوکر نکالا کرینگے۔ ان دو ترامیم کے علاوہ محکمہ خوراک پنجاب کی گندم کے اجراء کی باقی تمام کوڈل فارمیلٹیز اور محکمانہ ہدایات جوں کی توں رہیں گی۔ حکومت پنجاب کی طرف سے 9اکتوبر 2021ء کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں پنجاب حکومت کی طرف سے فلور ملوں کو جس معاہدے پر دستخط کرنے کو کہا گیا ہے اور جس کا مسودہ 19ستمبر 2021ء کو جاری کیا گیا‘ اس کا نوٹیفکیشن نمبر ایس او ایف ون 3ٹو 2021ء فائیو ڈبلیو آر یہ ہے‘ اسکے سیکشن تین آف پنجاب فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958ء کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے حکومت پنجاب نے گندم کا اجراء اور ملنگ پالیسی یہ نافذ کی ہے۔ حکومت پنجاب فوڈ گرین لائسنس رکھنے والی فنکشنل فلور ملوں کو سرکاری گندم جاری کریگی۔ فنکشنل فلور ملوں کا تعین اس ضلع کا ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کریگا۔ گندم کی اجرائی قیمت 1950روپے فی چالیس کلو گرام بشمول باردانہ ہو گی۔ اور فلور ملیں فلور بیگز بھی کر سکیں گی۔ ایکس ملز پرائس 20کلو آٹا تھیلا 1075روپے اور 10کلو آٹا تھیلا 540روپے مقرر کی گئی ہے۔ خوردہ قیمت20کلو آٹا تھیلا1100روپے اور 10کلو گرام آٹا تھیلا کی 550روپے قیمت مقرر کی گئی ہے۔ اس پالیسی معاہدے پر اُس دن سے عملدرآمد ہو گا جس روز متعلقہ ڈی ایف سی اور فلور ملز دستخط کریں گی۔ گندم کا اجراء ضلع کی ٹارگیٹڈ پاپولیشن کی بنیاد پر ہو گا۔ فلور ملز کی گرائینڈنگ کی استعداد منجمد کر دی جائیگی جیسا کہ رولر باڈیز کی استعداد پہلے ہی منظور کی جا چکی ہے‘ اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ آٹا چکی کیلئے گندم کا اجراء بھی ہو گا جو 5بوری وزنی 100کلو گرام فی چکی دیا جائیگا۔ جو فلور ملیں محکمہ خوراک سے گندم لیں گی وہ پرائیویٹ گندم کے سٹاکس گرائینڈ کر سکیں گی۔ حکومت پنجاب سے گندم لینے والی فلور ملیں اس بات کی پابند ہونگی کہ وہ پچاس فیصد آٹا متعلقہ ضلع میں مقررہ قیمت پر لازمی فروخت کریں۔ معاہدے کی ایک شق نائن میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گندم کے سٹاکس کی گرائینڈنگ کے دوران فلور ملیں 80فیصد آٹا‘ دس فیصد فائن اور دس فیصد چوکر بنایا کریں گی۔ فلور ملوں کو اس بات کا پابند کیا جاتا ہے کہ وہ یومیہ گندم کی خریداری کو اپ لوڈ کریں‘ جتنی گندم کا آٹا بنائیں اس کا رجسٹر میں اندراج کریں۔

تازہ ترین