• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ISI سربراہ، مشاورت مکمل، نتیجہ باقی، وزارت دفاع سے سمری موصول ہونے پر وزیراعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن کسی بھی وقت جاری ہوسکتا ہے


اسلام آباد(اے پی پی‘ٹی وی رپورٹ) وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ ‏وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کیلئے مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئی تقرری کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ 

معاملہ اپنے منطقی حل کی طرف بڑھ رہا ہے‘امید ہے کہ یہ مسئلہ جلد ہو جائے گا لیکن میں اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتا‘تمام اداروں کے متحد رہنے میں ہی پاکستان کا مفاد ہے‘ہمارے بڑے بھی یہ بات سمجھتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس بھی ہے اس لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں آئے گا۔ 

بدھ کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایک بار پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کیلئے تمام ادارے متحد اور یکسو ہیں۔

ذرائع کے مطابق سول اورعسکری قیادت میں مشاورت کا عمل مکمل ہونے کے بعد اب نتیجہ آنا باقی ہے ‘ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع سے سمری موصول ہونے کے بعد وزیراعظم اس کی منظوری دیں گے جس کے بعد کسی بھی وقت نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہوسکتاہے ۔

قبل ازیں غیر مصدقہ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کے حوالے سے وزارت دفاع کی جانب سے بھیجی گئی سمری وزیراعظم آفس کو موصول ہوچکی ہے تاہم حکومت کی طرف سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ۔ 

دریں اثناء ایک ٹی وی پروگرا میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کا معاملہ اپنے منطقی حل کی طرف بڑھ رہا ہے‘مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد ہو جائے گا لیکن میں اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتا ۔ 

موجودہ صورتحال میں پاکستان کے پاس ایک ہی مستحکم نکتہ ہے کہ سول ادارے اور فوج ایک پیج پر ہیں اور اگر اس میں بھی کوئی رخنہ آتا ہے تو پاکستان کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔تمام اداروں کے متحد رہنے میں ہی پاکستان کا مفاد ہے‘ہمارے بڑے بھی یہ بات سمجھتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس بھی ہے اس لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے پاکستان پر اثرات اس وقت مرتب ہوتے اگر ہمارے اداروں کے آپس میں تعلقات مستحکم نہ ہوتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے، ہماری تمام پالیسیاں بڑی گفتگو کے بعد بنتی ہیں اور تمام پالیسیاں پاکستان کے مفاد کے مطابق آگے بڑھیں گی۔

اہم خبریں سے مزید