• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کم اجرت اور کام کے دباؤ کی وجہ سے پبلک سیکٹر ورکرز مایوسی کا شکار، جاب چھوڑنے یا تبدیل کرنے پر غور

لندن (پی اے) ایک نئی ریسرچ میں پتہ چلا ہے کہ بہت سے پبلک سیکٹر ورکرز اپنی جابس چھوڑنے یا تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ پانچ میں سے ایک پبلک سیکٹر ورکر نے سروے میں کہا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ اپنی موجودہ جاب چھوڑنے یا پیشہ تبدیل کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ٹی یو سی نے کہا کہ اس ریسرچ کے نتائج سے ورکرز میں کم اجرت، کام کے شدید دبائو اور احساس ناقدری کی سنگینی نمایاں ہوتی ہے۔ انہوں نےکہا کہ کورونا وائرس پینڈامک میں ورکرز میں مایوسی کی صورت حال میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سروے میں 1364 پبلک سیکٹر ورکرز سے سوالات پوچھے گئےتھے، جن میں چار میں سے ایک سے زائد نے کہا کہ اجرت کے حوالے سے حکومتی پالیسی کے نتیجے میں وہ دوسری جابس تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹی یو سی نے نشان دہی کی کہ پبلک سیکٹر سٹاف سے کہا گیا ہےکہ ان کی اجرت کو منجمد کر دیا گیا ہے جبکہ حکومت نےاین ایچ ایس ورکرز کو 3 فیصد اضافہ دیا ہے، جس پر صنعتی اقدام کرنے کےخطرات منڈلا رہے ہیں۔ ٹی یو سی نے کہا کہ وزیراعظم بورس جانسن کا ہائی ویج اکانومی کا وعدہ فرضی ثابت ہوا ہے جبکہ پبلک سیکٹر کی پے کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ ریسرچ رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ کم تنخواہ، کام کے دبائو اور محنت کو تسلیم کئے جانے کے فقدان مکسڈ ٹاسک پبلک سیکٹر کے ورکرز کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل رہا ہے اور بہت سےلوگ بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ گئے ہیں اور مایوس کن حالات میں بہتری کی غرض سے اپنا موجودہ پیشہ یا ملازمت چھوڑنے یا تبدیل کرنے پر سرگرمی سے غور کر رہے ہیں۔ ٹی یو سی کی یہ ریسرچ اس حوالے سے شائع ہوئی ہے کہ 2010 کے بعد حقیقی معنوں میں پبلک سیکٹر میں کتنی کمی واقع ہوئی ہے، جس میں پیرامیڈیکس کیلئے 3194 پونڈ، نرسز کیلئے 2469 پونڈ، کیئر ورکرز کیلئے 1490 پونڈ، ریفیوز کلکٹرز کیلئے 1519 پونڈ، فائر فائٹرز کیلئے 2579 پونڈ اور ٹیچرز کیلئے 2003 پونڈ شامل ہیں۔ ٹی یو سی کے جنرل سیکرٹری فرانسس او گراڈی نے کہا کہ کام کے شدید دبائو، کم تنخواہ اور دیگر ایشوز کی وجہ سے پبلک سیکٹر کے بہت سے ورکرز اب بریکنگ پوائنٹ پر پہنچ گئے ہیں۔ ان میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان میں کورونا وائرس کوویڈ 19 پینڈامک کے دوران کام کرنے والے پیرامیڈیکس، نرسز، کیئر ورکرز اور ٹیچرز اور دیگر کلیدی ورکرز شامل ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کام کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کلیدی ورکرز کئی برسوں سے کم اجرت پر کام کر رہے ہیں، ہماری پبلک سروسز کو بھی فنڈنگ کی کمی کا سامنا ہے اور یہ کورونا وائرس پینڈامک ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے ہائی ویج اکانومی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب یہ محض ایک دھوکہ نظر آ رہا ہے اور ان کی حکومت مشکل حالات میں فرائض کو بخوبی انجام دینے والے پبلک سیکٹر ورکرز کی تنخواہوں کو منجمد کئے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ منسٹرز کو آٹم سپینڈنگز ریویو کو پبلک سیکٹر ورکرز کی اجرت کے انجماد کو ختم کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہئے اور تمام پبلک سیکٹر ورکرز کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جانا چاہئے، اس کے ساتھ ساتھ انہیں ہماری پبلک سروسز کو بھی مناسب فنڈنگ دینا ہوگی۔
یورپ سے سے مزید