| |
Home Page
پیر 25 محرم الحرام 1439ھ 16 اکتوبر 2017ء
October 21, 2016 | 12:00 am
قومی صحت …ترجیح طلب مسئلہ خیال تازہ … شہزادعلی

Todays Print

پچاس ارب روپے کے میٹرو کے شہر میں صرف ڈھائی لاکھ کی وینٹی لیٹر ہسپتالوں میں دستیاب کیوں نہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو خود مسلم لیگ سے متعلق ایک بزنس مین نے میاں شہباز شریف سے پوچھا ہے۔اس مسلم لیگی کا بچہ مذکورہ سلنڈر نہ ہونے کے باعث پنجاب کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گیا ان کا کہنا تھا کہ بچے کی رحلت کے واقعہ سے ان کی مسلم لیگ سے وابستگی دھری کی دھری رہ گئی۔یعنی پنجاب کے حکمرانوں کی ترجیحات میں اگر صحت کے امور شامل ہوتے تو ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔اب یوکے اور پنجاب کا اگرچہ کوئی موازنہ نہیں تاہم ادھریوکے کےموجودہ ٹوری حکمرانوں کی ترجیحات میں بھی غالباً قومی صحت سے امور کو ضرورت کے مطابق جگہ نہیں مل سکی اور جب ہم یوکے کو یورپ یا امریکہ کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو مایوس کن صورت حال ابھر کر سامنے آتی ہے۔ماہ رواں میں شائع ہونے والے ایک معتبر اکنامسٹ/موری پول انڈیکس کےمطابق برطانیہ کے قومی محکمہ صحت (نیشنل ہیلتھ سروس National Health Service) سے متعلق امور اس وقت برطانوی عوام کی اکثریت کیلئے ترجیح طور پر تشویش کے حامل ہیں۔ قابل ذکر 40فیصد لوگوں کیلئے دیگر مسائل کی نسبت ٹاپ کنسرن، نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) سے متعلق ایشوز ہیں حالانکہ دیگر امیگریشن، تعلیم، بریگزیٹ ، ہاوسنگ، ملکی سیکورٹی اور کئی دیگر مسائل بھی کم اہمیت کے حامل نہیں ہیں لیکن صرف اگست سے ستمبر تک کے مختصر عرصہ میں این ایچ ایس کے حوالے تشویش میں 9فیصد کا اضافہ ہوا۔یہ اضافہ 2015کے بعد سب سے زیادہ خیال کیا جاتا ہںے۔جبکہ ادھر کوالٹی جرنلزم کے نمائندہ روزنامہ دی گارڈین نے برٹش میڈیکل۔ایسوسی ایشن کے ریفرنس سے لکھا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ تھریسا مے برطانیہ کے قومی صحت کے محکمہ کو درپیش سنگین چیلنجز کو سمجھنے میں ناکام معلوم ہوتی ہیں۔حالانکہ موسم سرما شروع ہوچکا ہے۔مگر ونٹر سٹیٹمنٹ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔اور جب وزیراعظم کی این ایچ ایس کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات ہوئی تو نہ صرف یہ کہ کسی نئے فنڈز کا کوئی وعدہ نہیں کیا گیابلکہ یہ زور دیا گیا کہ وہ ارجنٹ بنیادوں پر اپنے فنانسز میں 22بلین کے ہول (hole) کو فل کریںاور پبلک سطح پر ان 10 بلین کے علاوہ اور کوئی ڈیمانڈ نہ کریں جس کا وعدہ ایم پیز اس پارلیمنٹ میں دینے کا کر چکے ہیں۔ جس پر برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کی نمائندہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کا این ایچ ایس کے بحران کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر رہنا مالی اعتبار سے بھی اور مریضوں کو ملنے والی نگہداشت کے لحاظ سے بھی شدیدنقصان کا حامل ہوگا، انہوں نے واضح کیاکہ این ایچ ایس کو نئے فنڈز نہ جاری کرنا اور درپیش صورت حال کو سمجھنے میں ناکام رہنا مستقبل میں ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوگا۔اگلے روز موقر قدیم روزنامہ دی ٹائمز یوکے نے بھی ایک مختلف زاویہ سے قومی صحت کے محکمہ پر اداریہ لکھا ہے جس میں گزشتہ سال کی لارڈ روز کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا کہ نیشنل ہیلتھ سروس ایک ایسا کریٹیکل ایشو بن چکا ہے یعنی ہر کوئی جس پر سخت نقطہ نظر بیان کرتا ہے۔ دی ٹائمز نے البتہ فنڈنگ میں اضافہ کے بجائے مختلف سروسز کی انٹی گریشن کو ایک حل کے طور پر پیڈ کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیگر جدید ممالک کے صحت سے متعلق ماڈلز کا بھی مطالعہ کرےتاہم اس اخبار نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ کے ہسپتالوں میں اموات کی شرح امریکہ کے مقابلے میں 45گنا زیادہ ہے جبکہ صرف5 برسوں میں 100بلین کی کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ جبکہ مذکورہ اخبار نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ متعدددیگر یورپی ممالک کی نسبت برطانیہ میں لوگوں کی صحت پر حکومت کم بجٹ مختص کرتی ہے کنگز فنڈ ڈاٹ اورگ یوکے کی ریسرچ میں بھی یہ اجاگر کیا گیا ہے کہ این ایچ ایس اپنی تاریخ کے بدترین مالی بحران سے دوچار ہے۔جس سے مریضوں کو ملنے والی نگہداشت اور کئی سروسز شدید متاثر ہورہی ہیں2010سے اس ادارے کے فنڈز بڑی حد تک سکویز کر دیے گئے ہیں جس باعث کئی ہسپتال خسارے میں جارہے ہیں۔سروسز شدید دبائو کا شکار ہوچکی ہیں اب لوگوں کی توقعات بھی پہلے ادوار کی نسبت بڑھ چکی ہیں۔ایجنگ پاپولیشن میں اضافہ ہوچکا ہے۔دی ٹائمز کے مطابق اب 65سال سے اوپر کی عمر کے افراد میں40فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان معمر افراد کی ضروریات نہایت پیچیدہ نوعیت کی ہیں۔سوشل کیئر کی ڈیمانڈ بھی لوگوں کے زیادہ عرصہ زندہ رہنے سے بڑھ چکی ہے مگر اس شعبے میں بھی بے حد کٹوتیاں ہوئی ہیں۔اب ایجنگ پاپولیشن سے ایک وسیع اپروچ سے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔اس تناظر میں بھی قومی صحت اورمختلف دیگر اداروں کے لیے جو یہ سروسز مہیا کرتے ہیں کے فنڈز زیادہ مختص کرنے کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔ حالیہ عرصے میں جونیئر ڈاکٹرز ہڑتالیں بھی کرچکے ہیں۔ نئی وزیر اعظم کو یقیناًاس حقیقت کا ادراک ہوگا کہ کوئی بھی سوسائٹی صحت عامہ سے غفلت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔برطانوی وزیر اعظم کو قوم کی صحت کے امور کو ترجیح طور پر لینا ہوگا۔اور اگر پنجاب حکومت کے ذمہ داران تک بھی ہماری آواز پہنچ پاتی ہے تو یہی عرض کریں گے صحت عامہ پر بھی توجہ دیں۔



.