| |
Home Page
منگل23 ربیع الاوّل 1439ھ 12 دسمبر2017ء
رضا علی عابدی
April 21, 2017 | 12:00 am
انسان کے اندر کا وحشی

Insan Kay Andar Ka Wehshi

پچھلے دنوں ایک عجب مضمون ہاتھ لگا۔ ہم کبھی کے بھول بھال گئے کہ عالم اسلام میں ایک شخص نصیر الدین طوسی نام کا گزرا ہے۔ اسے درجنوں علوم پر عبور حاصل تھا۔ ان علوم میں تعمیرات، نجوم، حیاتیات، کیمیا، ریاضی، فلسفہ، طبیعات، معالجہ اور دینیات بھی شامل تھے۔ مسلم مفکّر ابن خلدون کا کہنا تھا کہ بعد کے ایرانی دانشوروں میں طوسی سب سے بڑا مفکر تھا۔ اس نے کوئی ڈیڑھ سو کتابیں لکھیں۔ کسی ایک مسلم دانشور نے اتنے زیادہ مقالے نہیں لکھے۔ اس نے عربی اور فارسی میں دینی موضوعات پر بھی لکھا اور غیر مذہبی عنوان بھی اختیار کئے۔ اپنی کتاب اخلاقِ ناصری میں آج کے مشہور مفکر چارلس ڈاروِن کی پیدائش سے بھی چھ سو سال پہلے یہ نظریہ پیش کردیا تھا کہ دنیا میں حیات کیسے پیدا ہوئی اور کیوںکر پروان چڑھی۔ اس نے بڑے یقین سے لکھا کہ پہلے پہل سارے عناصر ایک جیسے تھے۔ برابر اور مشابہ۔ پھر یہ ہوا کہ اندر کے تضادات ظاہر ہونے لگے۔ اس عمل میں یہ ہوا کہ بعض مادّے دوسروں سے مختلف ہونے لگے۔ بعض کی افزائش تیز ہوگئی، بعض کی سست۔ اس طرح دھاتیں بنیں، اس کے بعد پودے، پھر حیوانات اور آخر میں انسان۔حیوانات میں خود کو ماحول میں ڈھالنے اور حالات کا عادی بننے کی صلاحیت پیدا ہوئی اور اس طرح انسان نے وہ شکل اختیا رکی جو ہمیں آج نظر آتی ہے۔ طوسی نے پھر ایک عجب بات لکھی۔ اس نے کہا کہ انسان ابھی اپنے ارتقا کے درمیانی مرحلے میں ہے۔ وہ اپنے عزم اور ارادے کی مدد سے ارتقا اور افزائش کی اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ سکتا ہے۔
طوسی نے یہ نظریہ کوئی سات سو سال پہلے وضع کیا تھا۔ ہم چارلس ڈارون کے نظریے کے ہم خیال بھی ہیں کہ انسان پہلے کبھی درختوں پر رہتا تھا۔ چاروں ہاتھ پاؤں پر چلتا تھا۔ پھر اس نے سیدھا کھڑا ہونا سیکھا اور آج کے انسان کی شکل اختیار کی۔
میں تو خیر کیا ہوں اور میری فکر کیا ہے، لیکن ذہن کو سوچنے سے تو کوئی بھی باز نہیں رکھ سکتا۔ میری فہم یوں محسوس کرتی ہے کہ ایک انسان ہی نہیں، تمام جانداروں کے ارتقا کا عمل رکا نہیں، جاری ہے او ررکے گا بھی نہیں۔ حضرت انسان پورے قد سے کھڑے ہوکر دو ٹانگوں پر چلنے لگے ہیں لیکن یہ قدرت حاصل کئے انہیں زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔ طوسی کا خیال تھا کہ یہ مخلوق مغربی سوڈان اور دنیا کے دور دراز گوشوں میں رہتی تھی۔ اس کی عادات، حرکات اور رویّے جانوروں سے ملتے جلتے تھے۔ البتہ انسان میں ایسی خوبیاں تھیں جو اسے دوسروں سے ممتاز بناتی تھیں۔ شعور، ارادہ، مشاہدہ اور علم کے معاملے میں وہ دوسروں سے آگے نکل گیا۔ مگر پھر وہی بات کہ ارتقا کا یہ عمل ابھی جاری ہے۔
اب اگر مشاہدہ انسان کو ملنے والا ایک بڑا عطیہ ہے تو یہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر انسان پہلے پہل وحشی تھا، پھر اس کی وحشت میں کچھ کمی آئی۔ پھر مزید کمی آئی۔پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ کمی آنے کا سلسلہ رکا نہیں، تھما نہیں، اور اپنے نقطہ عرو ج کو ابھی پہنچا نہیں۔ اندر کے وحشی کو ابھی موت نہیں آئی اور نہیں معلوم کب آئے گی، آئے گی بھی یا نہیں۔ طوسی نے جہاں یہ بات کی ہے کہ جاندار اپنے بچاؤ یا اپنے دفاع کے لئے کیسے ہتھیار استعمال کرتے ہیں اس میں دانتوں، ناخنوں، سینگوں اورکھروں وغیرہ کا ذکر کیا ہے وہیں چال بازی کا حوالہ بھی دیا ہے۔میں جبلّت میں موجود عیاری کو اپنی بنیادی دلیل بنا رہا ہوں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کے اندر کا جو حیوان ابھی زندہ ہے، انسان نے بڑی چال چل کر اس پر تہذیب کاملمع چڑھا لیا ہے۔ وہ دیکھنے میں مہذب نظر آتا ہے، وہ چاہتا بھی ہے کہ مہذب نظر آئے۔ اسے یقین بھی ہے کہ وہ تہذیب یافتہ ہے لیکن جس لمحے، جس گھڑی وہ تنہا ہو یا کسی بپھرے ہوئے مجمع کے ساتھ، اس کے اندر کا درندہ جاگ اٹھتا ہے وہی انسان سفّاک ہو جاتا ہے، شقی ہوجاتا ہے، جلّاد صفت ہو جاتا ہے، مرنے پر کم، مارنے پر زیادہ آمادہ ہوجاتا ہے اور سر زیادہ ہی گھوم جائے تو مرنے میں بھی آسودگی کا پہلو ڈھونڈ لیتا ہے۔
انسان کے ارتقائی عمل کی بات کرتے ہوئے ایک اور بات جو ذہن میں آتی ہے وہ یہ کہ، جیسا کہ میں نے پہلے کہا، چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کے مرحلے سے گزر کر سیدھا کھڑا ہونا زیادہ پرانی بات نہیں۔ اس کاثبوت یہ ہے کہ ہمیں زیادہ دیر کھڑے رہنے سے تکلیف ہوتی ہے او رکمر دکھنے لگتی ہے۔ ہم کہیں جائیں توپہلے کرسی یا بیٹھنے کی جگہ تلاش کرتے ہیں۔ بیٹھنے سے آرام ملتا ہے، سکون ملتا ہے۔ دوسری بات جو آپ نے نہیں سوچی ہوگی وہ یہ کہ ہم جب دوٹانگوں پر چلتے ہیں تو ساتھ ساتھ دونوں ہاتھ کیوں چلاتے جاتے ہیں۔ ماہرین اس کے اسباب بتاتے ہوں گے مگر میرا خیال ہے کہ یہ اسی چاروں ہاتھ پاؤں پر چلنے کی قدیم عادت ارتقا کے مرحلے میں ہے۔
بڑا مشکل لفظ ہے لیکن لکھنے کو جی چاہ رہا ہے۔ وہ ہے شقی القلب۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے جب ہم سب ذرا دیر کو سہی، شقی القلب ہوجاتے ہیں۔ فرض کیجئے سر پھرے دیوانوں نے کسی بے بس، بے کس، بے قصور جوان کو مار مار کے پہلے ادھ موا کیا، پھر اسے گولی ماری، اس کے بعد اس کی لاش کوبرہنہ کیا اور آخر میں بری طرح تشدد زدہ لاش پر تیل چھڑک کر اسے آگ لگادی۔ہم نے سوشل میڈیا پر اس کا اچھی طرح نظارہ کیا۔ اس کے بعد قاتلوں کے ساتھ سلوک کرنے کی جو شدید خواہش ہمارے اندر زور مارتی ہے، شکر ہے ہمیں اسے عملی جامہ پہنانے کی توفیق نصیب نہیں، پھرکہتا ہوں کہ شکر ہے ورنہ درندگی کے ایسے ایسے منظر دیکھنے میں آتے کہ خداکی پناہ۔غنیمت ہے کہ ظالموں کو توپ کے دہانے پر باندھ کر گولہ داغنے یا درندہ صفت لوگوں کو ہاتھی کے پاؤں تلے کچلنے کا نظام جاتا رہا ورنہ جی تو چاہتا ہے کہ وہ لوٹ آئے۔

.