| |
Home Page
بدھ 23 ذیقعدہ 1438ھ 16 اگست 2017ء
June 30, 2017 | 12:00 am
خالد لطیف سپر لیگ میچ سے قبل اور بعد میں بکی سے ملے،تفضل رضوی

Todays Print

کراچی(اسٹا ف رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ خالد لطیف کے وکیل کا پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کے خلاف اعتراض بلا جواز ہے۔ چیئرمین ڈسپلنری پینل نے دونوں فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ جس کا اعلان ایک دو روز میں کردیا جائے گا۔ جمعرات کو سماعت کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اصغر حیدر کبھی پی سی بی کے ملازم نہیں رہے اور اسپاٹ فکسنگ کیس سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے ان پر کیس سننے کی کوئی قدغن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خالد لطیف پی ایس ایل کے پہلے میچ سے قبل اور میچ کے بعد سٹے باز سے ملاقات کی تھی۔ اینٹی کرپشن لیکچر میں بار بار بتایا گیا لیکن خالد نے لیکچر سننے کے بعد لیکچر کو نظر انداز کیا۔ کرنل اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔کبھی وہ کرنل اعظم کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی اس کی ساکھ پر بات کرتے ہیں۔ خالد لطیف اور شرجیل خان کے کیس میں شواہد مکمل ہوگئے ہیں۔معطل کرکٹرخالد لطیف کے وکیل بدر عالم کا کہنا ہے کہ ہماری اپیل لاہور ہائیکورٹ میں 10 جولائی کو مقرر ہے۔ ہمارا اعتراض بالکل صحیح ۔ہمارا قانونی اعتراض  عام آدمی بھی سمجھ سکتا ہےہمارا کیس بہت مضبوط ہے ان کے پاس کوئی شواہد نہیں ہیں۔ خالدلطیف نے 9 فروری کو میچ نہیں کھیلا تھا اس لئےاسپاٹ فکسنگ کاالزام غلط ہے۔ پی سی بی اس گیم میں ملوث ہے ۔اگربکی آرہا تھا تو کھلاڑیوں کی نگرانی کیوں  نہیں کی گئی۔ بکی آیا تو اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا ۔تفضل رضوی کا کہنا ہے کہ خالد لطیف میچ والےدن اور اس سےایک دن پہلے بھی بکی سےملےتھے۔ اینٹی کرپشن لیکچر کھلاڑیوں کوتسلسل کےساتھ دیئے جاتےہیں۔ خالد لطیف کی درخواست میں قانونی بات نہیں۔