| |
Home Page
پیر 04 محرم الحرام 1439ھ 25 ستمبر 2017ء
September 14, 2017 | 12:00 am
چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ8لاکھ 46ہزار‘الاؤنسز3لاکھ 70ہزار

Todays Print

چیف جسٹس پاکستان کی تنخواہ8لاکھ 46ہزار‘الاؤنسز3لاکھ 70ہزار

اسلام آباد (ساجد چوہدری ) سپریم کورٹ آف پاکستان اور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور جج صاحبان کی تنخواہوں، الائونسز اور دیگر مراعات سے متعلق تفصیلات ایوان بالا میں پیش کر دی گئیں ، جس میں  بتایا گیا کہ  سپریم کورٹ  آف پاکستان کے چیف جسٹس کی ماہانہ  تنخواہ846549روپے ‘370597سپریئر جوڈیشل الاؤنس جبکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی ماہانہ تنخواہ 784608روپے ‘296477روپے سپریئر جوڈیشل الاؤنس‘سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ 799699 روپے علاوہ دیگر الائونسزجبکہ ہائیکورٹ کے جج کی تنخواہ 754432روپے علاوہ دیگر الائونسزہیں ، بدھ کو وقفہ سوالات کے دوران سینیٹرکریم احمد خواجہ کے سوال کے تحریری  جواب میں وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے  بتایا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی   ماہانہ تنخواہ 846549روپے  کے علاوہ سپیرئر جوڈیشل الائونسز 370597روپے،سرکاری رہائش گاہ فراہم نہ ہونے کی صورت میں ہائوس رینٹ 68ہزار روپے ، تنخواہ کا 15فیصد میڈیکل الائونس کے علاوہ دیگر سہولتیں بھی دی جاتی ہیں جن میں دوگاڑیاں بمعہ  ڈرائیور و مرمت ،600لٹر پٹرول ، مفت علاج بمعہ فیملی کی سہولت، گھر کی مرمت ، بجلی ، پانی و گیس حکومت کے ذمہ ہے  ، لانگ ٹورز میں رعایت ،ٹرانسفر گرانٹ ، ٹرانسپورٹیشن چارجز، ٹی اے ، ڈی اے سمیت  دیگر سہولتیں بھی میسر ہیں.

بعض الائونسز انکم ٹیکس سے  مستثنیٰہیں‘سپریم کورٹ کے جج کی ماہانہ تنخواہ 799699روپے ، سپیریئر جوڈیشل الائونس 370597روپے ، سرکاری رہائش فراہم نہ ہونے کی صورت میں 68ہزار روپے ہائوس رینٹ ، منجمند سیلری پر 15فیصد میڈیکل الائونس ، دو گاڑیاں بمعہ ڈرائیور  ،گاڑیوں کی  سرکاری خرچ پر مینٹی نینس ، 600لٹر پٹرول ، مفت میڈیکل علاج بمعہ فیملی کی سہولت وغیرہ شامل ہیں.

چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تنخواہ 784608روپے ، سپیریئر جوڈیشل الائونسز 296477روپے ، سرکاری رہائش گاہ میسر نہ ہونے کی صورت میں ہائوس رینٹ 65ہزار روپے ، منجمند تنخواہ کا 15فیصد میڈیکل الائونس ، گاڑی بمعہ ڈرائیور و پانچ سو لیٹر پٹرول ، مفت علاج بمعہ فیملی کی سہولت، گھر کی مفت مینٹی نینس  ، لانگ ٹورز میں رعایت ،ٹرانسفر گرانٹ ، ٹرانسپورٹیشن چارجز ، بعض الائونسز کا انکم ٹیکس سے استثنٰی وغیرہ شامل ہیں،  ہائیکورٹ کے جج کی تنخواہ 754432 روپے، سپیئریئر جوڈیشل الائونس 296477روپے، سرکاری رہائش میسر نہ ہونے کی صورت میں ہائوس رینٹ 65ہزار روپے ، میڈیکل الائونس منجمند تنخواہ کا 15فیصد، گاڑی  کا ڈرائیور بمعہ پانچ سو لیٹر  پٹرول، مفت علاج بمعہ فیملی، رہائش کی مرمت ، گیس ، پانی و بجلی حکومت کے ذمہ ہے ، ان کے علاوہ دیگر مراعات بھی حاصل ہیں۔

دریں اثناء ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران بعض اداروں کے ایم ڈی اور ججز صاحبان کی تنخواہوں سے متعلق جب سوال آئے تو بعض سنیٹرز  سے رہا نہ گیا ۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ بعض اداروں کے ایم ڈی بہت زیادہ تنخواہیں لے رہے ہیں ، پارلیمینٹرینز نے کیا قصور کیا ہے ، سسٹم بھی وہی بنا کر دیتے ہیں ، پارلیمینٹرینز کی تنخواہیں بھی زیادہ ہونی چاہئیں اس پر ڈپٹی  چیئرمین مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ میں بھی آپ کے ساتھ ہوں ۔

اس پر وفاقی وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ سنیٹر سعید الحسن مندوخیل نے کہا کہ کیا  صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہیں ہائیکورٹس کے ججز کے برابر جبکہ سینیٹ و قومی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہیں سپریم کورٹ کے ججز کے برابر ہو سکتی ہیں ، اس پر ڈپٹی چیئرمین نے وفاقی وزیر قانون سے کہا کہ کیا تنخواہیں بڑھانے کا ارادہ ہے ، تسلی دے دیں.

وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ آپ نے ایکٹ پاس کیا  ہواہے اس کے مطابق پار لیمینٹر ینز کو تنخواہیں ملتی ہیں ، مناسب سمجھیں تو اس میں ترمیم کر دیں ۔