| |
Home Page
جمعرات 04 ربیع الاوّل 1439ھ 23 نومبر 2017ء
عامرجمیل
October 17, 2017 | 12:00 am
قصے کہانیوں کا کلینک

Qissay Kahaaniyon Ka Cilinic

کہتے ہیں کہ یہ جگ قصے کہانیوں کا کلینک ہے۔ ایک اٹینڈنٹ کی وردی پہن کر میں اپنے دوست رب نواز ڈھینچو کے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ رب نواز ڈھینچو کے دفتر کو آپ اس کا کلینک بھی کہہ سکتے ہیں۔ بھاری فیس ادا کرنے کے بعد پریشان حال لوگ رب نواز ڈھینچو سے مشورے لینے آتے ہیں۔ رب نواز ڈھینچو وکیل نہیں ہے۔ اس لئے لوگ اس سے قانونی یا غیر قانونی مشورے لینے نہیں آتے۔ وہ آرکیٹیکٹ بھی نہیں ہے۔ اس لئے لوگ اس سے اپنے مکان یا کوٹھی کا نقشہ بنوانے نہیں آتے۔ وہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر بھی نہیں ہے۔ اس لئے لوگ اس سے پیٹ درد کی دوا لینے نہیں آتے۔ پیٹ درد تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے اس لئے پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ لوگ کھانے سے باز نہیں آتے اس لئے اکثر پیٹ درد میں مبتلا رہتے ہیں۔ رب نواز ڈھینچو کے دفتر یا کلینک کے باہر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی ہے اور نام کے نیچے جلی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ کنسلٹنٹ رب نواز ڈھینچو کی خوبصورت پرائیویٹ سیکریٹری کے علاوہ صرف میں جانتا ہوں کہ وہ کس قسم کے مسائل میں گھرے ہوئے لوگوں کو مشورے دیتا ہے۔ ویسے بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک کنسلٹنٹ دنیا بھر کے مسائل میں گھرے ہوئے لوگوں کو مشورے دیتا پھرے۔ دل و دماغ۔ گردے اور کلیجی کے کنسلٹنٹ الگ الگ ہوتے ہیں۔
کسی بھی شخص کو دنیا بھر کے مسائل خود بہ خود نہیں گھیرتے۔ انسان خود چن چن کر مسائل کو مدعو کرتا ہے۔ رب نواز ڈھینچو کے پاس آتے تھے اس نوعیت کے لوگ تب اس لئے خوبصورت پرائیویٹ سیکرٹری نیلی شیلی کو اپنے ہاں ملازمت میں نہیں رکھا تھا۔ تب ایک پرانا پہلوان اس کا پرائیوٹ سیکریٹری ہوتا تھا۔ وہی اس کا باڈی گارڈ ہوتا تھا۔ وہی اس کیلئے چائے بناتا تھا۔ ایسے میں دنیا بھر کے مسائل میں گھرے ہوئے لوگ منہ اٹھائے اس کے کلینک میں آ جاتے تھے۔ کئی ایسے مریض مجھے یاد نہیں۔ ایک مرتبہ ایک شخص سر کھجاتے ہوئے رب نواز ڈھینچو کے دفتر میں آیا۔ اس کے سر پر اجڑے ہوئے بالوں کی کھیتی تھی۔ اور زور سے کھجانے کی وجہ سے اس کی کھوپڑی پر زخم تھے ۔ اس کے بے شمار مسائل تھے۔ اس کو شادیاں رچانے کی لت پڑی ہوئی تھی۔ اس کی چار بیویاں تھیں جب بھی اسے بیوٹی پارلر سے سجی دھجی کوئی پری پیکر نظر آتی تھی وہ فی الفور اس پر فدا ہو جاتا تھا اور اس سے شادی کی ٹھان لیتا تھا۔ چار حاضر بیویوں میں سے ایک کو طلاق دیکر فارغ کرنے کے بعد پری پیکر سے شادی کرلیتا تھا۔ پری پیکر کا میک اپ اتر جانے کے بعد وہ شخص اپنا سر پیٹ لیتا تھا۔ اس طرح کی واردات چونکہ اس کے ساتھ بار بار ہوتی رہتی تھی اس لئے سر پیٹنے کی وجہ سے وہ خاصا گنجا ہوگیا تھا۔ اس نے سر پر بالوں کی پیوند کاری کروائی۔ چار حاضر بیویوں میں اکثر لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔ ہاتھا پائی کے دوران وہ چاروں بیویاں اپنے اکلوتے میاں کا سر نوچ لیتی تھیں۔ ایسی بپتائی بھگتے بھگتے وہ شخص سر پر اگائی ہوئی یا لگوائی ہوئی پیوند کاری سے محروم ہوجاتا تھا لہذا ازسر نو اسے سر پر نقلی بالوں کی پیوند کاری کروانی پڑتی تھی۔
شادیاں کرنے اور سر پر نقلی بالوں کی پیوندکاری کرنے کے علاوہ اس شخص کو سیاست کے تالاب میں ڈبکیاں لگانے کا بھی شوق تھا۔ بیویوں کی طرح وہ سیاسی پارٹیاں بدلتا رہتا تھا۔ کبھی وزیر، کبھی معطل وزیر، کبھی سابقہ وزیر ہوتا رہتا تھا۔ بیویوں کے ٹھاٹھ باٹھ کی وجہ سے احتسابی اداروں کے چنگل میں آتا رہتا تھا اور پھر کمال چال چل کر ان کے چنگل سے نکل جاتا تھا۔ زیادہ بلکہ بیشمار کھانے بلکہ ہڑپ کرنے کی وجہ سے اس کا پیٹ اکثر خراب رہتا تھا۔ ایک ایسے شخص کے لئے جو بار بار شادیاں کرنے کے مرضی میں مبتلا ہو، گنجے سر پر بار بار پیوندکاری کرواتا ہو، اور بار بار سیاسی پارٹیاں بدلتا ہو، ایسے شخص کو دینے کے لئےرب نواز ڈھینچو کے پاس کوئی مشورہ نہیں ہوتا تھا۔
رب نواز ڈھینچو کے پاس ایسے لوگوں کو دینے کے لئےکوئی مشورہ نہیں ہوتا تھا جو بیلوں کی تلاش میں رہتے تھے۔ اور جب ان کو بیل مل جاتا تھا تب بیل کو کہتے تھے: آبیل، مجھے مار۔ ایسے لوگ بنک سے قرض لیکر مکان بنواتے تھے۔ قرض لیکر ایک گاڑی اپنے لئے، ایک گاڑی بیگم صاحبہ کے لئے اور تین گاڑیاں بچوں کے لئے خریدتے تھے۔ اور ہر سال نئے ماڈل کی گاڑیاں خریدتے تھے، وہ بھی بنک سے قرض لیکر! اپنے بچوں کو قرض لیکر بیرون ملک پڑھنے کے لئے بھیجتے تھے۔ وہ سب مڈل کلاسیے ہوتے تھے اور اَپَر کلاس یعنی مالداروں کے شانہ بہ شانہ چلنے کی جستجو میں لگتے رہتے تھے۔ بیٹیوں کی شادی فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بڑی شان سے کرواتے تھے اور جہیز میں بیٹیوں کو کلو کے حساب سے وزنی زیورات بنواکر دیتے تھے۔ اپنے مڈل کلاسیے ہونے کا احساس انہیں تب ہوتا تھا جب قرض کی مکڑیاں اُن کے جسم پر رینگنے لگتی تھیں اور اُن کے گرد اپنا جالا بنتی تھیں۔ رب نواز کے پاس اُن کو دینے کے لئے کوئی مشورہ نہیں ہوتا تھا۔ اصل میں رب نواز ڈھینچو سماجیات یعنی سوشل سائنسز کا پروفیسر نہیں تھا۔ اور ناہی وہ ماہر نفسیات تھا۔ وہ ڈینٹسٹ تھا، یعنی دانتوں کا ڈاکٹر تھا۔ لوگوں کے بدبودار منہ سے کیڑے لگے ہوئے گلے ہوئے اور سڑے ہوئے دانت نکالتے نکالتے رب نواز ڈھینچو اس قدر بیزار ہوا کہ اس نے اپنا کلینک بند کردیا۔ گلے سڑے بدبودار دانتوں کا ذکر سن کر وہ دانت پیسنے لگتا تھا۔ کچھ عرصے بعد رب نواز ڈھینچو نے اسی جگہ اپنے نام کے ساتھ کنسلٹنٹ لکھ کر ایک تختی آویزاں کردی۔ میرا پرانا دوست ہے مگر پرانے خیالوں کا نہیں ہے۔ میں فارغ البال ہوں۔ فارغ اوقات میں رب نواز ڈھینچو کے کلینک میں جاکر بیٹھتا ہوں۔ یہ جو میں آپ کو قصے کہانیاں سناتا رہتا ہوں وہ مجھے رب نواز ڈھینچو کے کلینک سے ملتی ہیں۔ اگلے منگل کے روز میں آپ کو ایک ایسے شخص کا قصہ سنائوں گا جسے یقین تھا کہ وہ گم ہوگیا ہے۔