| |
Home Page
اتوار یکم جمادی الثانی 1439ھ 18 فروری 2018ء
مسعود اشر
February 13, 2018 | 12:00 am
وہ جس نے ہمیں مردانگی کے حقیقی مفہوم سے روشناس کرایا

Protector Of Downtrodden Who Made Us Aware Of The Real Meaning Of Courage

یہ کیسا سال چڑھا ہے۔ ہمارا ایک سے ایک بے بہا ہیرا ہم سے چھینا جا رہا ہے۔ ادب میں رسا چغتائی، ساقی فاروقی اور محمد علوی گئے۔ صحافت میں منو بھائی نے ہمیں چھوڑا۔ اور ٹی وی اور اسٹیج ڈرامے میں قاضی واجد ہم سے رخصت ہو گئے۔ اور کل جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کی شعلہ بیاں محافظ اور ہر نوع اور ہر رنگ کے ظلم و ستم اور ہر قسم کے انسانی استحصال کے خلاف مردانہ وار سینہ سپر ہونے والی عاصمہ جہانگیر کی بھی سنائونی آ گئی۔ کل ہم کراچی میں تھے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ ٹی وی پر قاضی واجد کے انتقال کی خبر آ رہی تھی۔ یکایک یہ منحوس خبر سامنے آئی کہ عاصمہ جہانگیر بھی ہم میں نہیں رہیں۔ ہم سب سکتے میں آ گئے۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم سب کہتے تھے کہ ہمارے درمیان ایک ہی تو مرد ہے جس کے اندر یہ ہمت، یہ حوصلہ اور یہ جرأت ہے کہ بڑی سے بڑی سیاسی اور سماجی طاقت اور بڑے سے بڑے صاحب اقتدار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے للکارے۔ اب یہ صاحب اقتدار سیاست میں ہو، معاشرت میں ہو یا نظام عدل میں، ان سب کے لئے اس کے پاس ایک ہی کسوٹی تھی۔ اور وہ تھی حق اور عدل و انصاف کی کسوٹی۔ ہم اس کے مردانہ وار مقابلہ کرنے اور اس کی مردانگی کا حوالہ دیا کرتے ہیں۔ لیکن یہ مردانگی ہے کیا؟ اور اگر اسے کسی خاتون کے ساتھ منسوب کیا جائے تو اس کا مفہوم کیا ہوتا ہے؟ اسے سمجھنے کے لئے رعایت اللہ فاروقی صاحب ہمارے کام آئے۔ واٹس ایپ کے ذریعے ہم تک ان کا جو بلاگ پہنچا ہے وہ آپ بھی پڑھ لیجئے۔
’’انا للہ وانا الیہ راجعون۔ عاصمہ جہانگیر رحلت فرما گئیں۔ یہ ہمارا اتنا بڑا نقصان ہے جس کا تخمینہ بھی ہمارے لئے ممکن نہیں۔ قلم یہ خبر پا کر بانجھ ہو گیا ہے کہ ان کی عظمت کو خراج پیش کرنے کے لئے وہ الفاظ کہاں سے لائے جو یہ حق ادا کرنے کی سکت رکھتے ہوں۔ ذرا سوچیے، کتنی عظیم ہو گی وہ عورت جس نے ہمیں ’’مردانگی‘‘ کے حقیقی مفہوم سے روشناس کرایا۔ انہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ مردانگی لفظ اپنی ترکیب میں ضرور مردانہ دکھتا ہے، لیکن اپنے مفہوم میں اس کا تعلق کسی جنس کے لئے خاص نہیں، جگر میں دم ہو تو ایک عورت بھی مردانگی دکھا سکتی ہے‘‘۔
ہم نے فاروقی صاحب کی یہ تحریر اس لئے یہاں نقل کی ہے کہ مردانگی کا مفہوم ہم سب پر واضح ہو سکے۔ لیکن عاصمہ جہانگیر کے لئے مردانگی کا لفظ بھی ناکافی ہے۔ ان کے لئے تو کوئی اور ہی لفظ ہمیں تخلیق کرنا پڑے گا۔ اس منحنی سی دبلی پتلی خاتون نے اپنی ساری زندگی صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق سے محروم طبقوں کے لئے لڑتے ہوئے ہی بسر کر دی۔ یاد کیجئے وہ وقت جب ان کے والد ملک غلام جیلانی نے مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی اور وہ جیل میں تھے۔ اس وقت یہی اٹھارہ سال کی لڑکی ان کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔ اور جب کوئی بھی وکیل ملک غلام جیلانی کی وکالت کرنے کو تیار نہیں تھا تو یہی لڑکی ان کی وکالت کر رہی تھی۔ اس نے ذوالفقار علی بھٹو کا سول مارشل لا ختم کرایا۔ اس وقت اس کی جرأت اور اس کی بے باکی پر تو نظریاتی طور پر اس کے مخالف لوگوں نے بھی اسے شاباش دی حتیٰ کہ شورش کاشمیری نے بھی اسے خراج پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر ساجد علی نے ہمیں شورش کاشمیری کی وہ نظم یاد دلائی ہے جو اس وقت انہوں نے لکھی تھی۔ نظم تو طویل ہے لیکن اس نظم کے دو شعر آپ بھی پڑھ لیجئے؎
بنت جیلانی پہ ہو لطف خدائے ذوالجلال
مائیں ایسی بیٹیاں جنتی ہیں، لیکن خال خال
وہ کسی افتاد بے ہنگام سے ڈرتی نہیں
آکے ڈٹ جائے سر میداں تو پھر رکنا محال
اور آنے والے وقت میں شورش کاشمیری کی یہ بات سچ ثابت ہوتی ہی چلی گئی۔ اگر دنیا عاصمہ جہانگیر کو مانتی ہے تو اس کی وجہ بھی ہے۔ وہ پاکستان کا ضمیر تھیں۔ وہ پاکستان کی آواز تھیں۔ انہوں نے اپنے والد کے لئے لڑتے ہو ئے ذوالفقار علی بھٹو کا مقابلہ کیا۔ ضیاء الحق کے زمانے میں پولیس کی لاٹھیاں کھائیں۔ مشرف کے دور میں گھر کے اندر قید رہیں۔ یہ تو کل کی باتیں ہیں۔ اب آپ آج دیکھ لیجئے۔ آج بھی ان کی آواز سب سے الگ تھی۔ اپنے اردگرد تمام لو گوں کے خیالات کے برعکس وہ اس حقیقت پر ڈٹی رہیں جسے وہ برحق سمجھتی تھیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات سے صرف پریشان ہی نہیں تھیں بلکہ ان پر وہ برافروختہ بھی تھیں۔ ان کا غصہ اور ان کی برافروختگی ان کی باتوں سے ہی ظاہر ہوتی تھی۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ حالات کی یہی ستم ظریفی ان کے دل پر بوجھ بن گئی تھی، اور یہی بو جھ انہیں اپنے ساتھ لے گیا تو ایسا غلط بھی نہ ہو گا۔ بہرحال اب آپ کچھ بھی کہہ لیجئے۔ ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ محروم ہوتے جا رہے ہیں ان شخصیتوں سے جنہیں بلاشبہ نا بغۂ روزگار کہا جا سکتا ہے۔ پچھلے چند دنوں میں ہمارے اوپر جو گزری ہے اس پر قاسم جعفری صاحب نے ہمیں ایک شعر یاد دلایا ہے یہ شعر ہم سب کی آواز ہے۔
کوئی روکے کہیں دست اجل کو
ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں