Masood Ashar - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
اتوار 29 رمضان المبارک 1438ھ 25 جون 2017ء
مسعود اشر
آئینہ
June 20, 2017
بڑے موذی کو مارا

معاف کیجئے یہ ہماری زبان نہیں ہے۔ ہم کسی کو بھی موذی نہیں کہتے۔ مگر کیا کیا جا ئے ہندوستان ’’ہمارا نفس امارہ‘‘ ہے اور ہم اس کے ’’نفس امارہ‘‘ ہیں۔ اور بزرگ کہہ گئے ہیں بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارااب ہم سے یہ مطالبہ نہ کر دیجئے کہ اس شعر کا پہلا مصرع بھی لکھ دو۔ عقل مند کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہی ضروری ہے تو...
June 13, 2017
میاں نواز شریف جے آئی ٹی کے سامنے

آخر وہ وقت آ ہی گیا جس کا سب انتظار کر رہے تھے۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی بلا لیا ہے۔ میاں صاحب جمعرات کو صبح گیارہ بجے اس ٹیم کے سامنے پیش ہوں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی طلب کیا جائے گا بلکہ وزیر اعظم کے پیش ہونے سے پہلے ان سے تفتیش کی جائے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ہی...
June 07, 2017
ہماری تاریخ کا چینی دور

والٹن روڈ لاہور کے چوک پر ٹریفک سگنل لال تھا۔ ہم سگنل ہرا ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ دائیں طرف کی گاڑیاں چل رہی تھیں اور بائیں طرف کی گاڑیاں بھی ہماری طرح سگنل ہرا ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ اب اچانک بائیں جانب ہماری نظر پڑی تو ہمیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا۔ ایک موٹر سائیکل کی پچھلی نشست پر ایک گوری چٹی لڑکی دائیں بائیں دونوں...
May 30, 2017
اچھا ہوا ہمارے وزیر اعظم نے تقریر نہیں کی

ہمارے گھر کے سامنے طرح طرح کے مداری آتے تھے تماشے دکھانے، بندر کا تماشہ، ریچھ کا تماشہ، بکری کا تماشہ۔ ان میں ایک جادوگر بھی تھا۔ یہ جادوگر ہمارے ہاتھ کے انگوٹھے پر پیلا پیلا تیل مل کر ہمیں بادشاہ کا دربار دکھاتا اور کہتا اب مانگو بادشاہ سے کیا مانگنا ہے۔ وہ ہمارے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر تیل ملتا اور ہم سے کہتا ’’اس انگوٹھے پر...
May 23, 2017
طیراً ابا بیل اور اصحاب ِفیل

مجھے پچھلے دو دن سے قرآن مجید کی سورۃ’’الفیل‘‘ بہت یاد آرہی ہے۔ اور یاد آرہی ہیں ابابیلیں، جنہوں نے کعبہ پر حملہ کرنے والے اصحاب فیل (ہاتھی والوں) پر کنکریاں برسا کر انہیں جانوروں کا کھایا ہوا بھوسہ بنا دیا تھا۔ اس طرح ہمارے لئے طیراً ابابیل (پرندے) مزاحمت اور مدافعت کی علامت بن گئے ہیں۔ جب ایوب خاں کی آمریت اپنے عروج پر تھی...
May 16, 2017
یہ مدرڈے اور فادر ڈے

ذرا آپ ہی بتایئے جب ہم مدر ڈے اور فادر ڈے نہیں مناتے تھے تو کیا ہم اپنے ماں باپ سے محبت نہیں کرتے تھے؟ کیا جب سے اقوام متحدہ نے یہ دن منانے کی ہدایت کی ہے اس کے بعد ہی ہمیں اپنی اماں اور اپنے ابا یاد آنا شروع ہوئے ہیں؟ یہ سوال میں مغربی معاشرے سے نہیں کر رہا ہوں، اپنے معاشرے سے کر رہا ہوں۔ ناخلف اور ناہنجار بیٹے اور بیٹیاں پہلے بھی...
May 10, 2017
دوسروں کی دخل اندازی

ایک صاحب بس میں کہیں جا رہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک نوعمر لڑکا بیٹھا تھا۔ لڑکا چاکلیٹ پر چاکلیٹ کھائے جا رہا تھا۔ ایک کھائی، دوسرا کھائی، تیسرا کھائی۔ جب وہ چوتھی چاکلیٹ کھانے لگا تو ان صاحب نے لڑکے سے کہا ’’زیادہ چاکلیٹ کھانے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں‘‘۔ لڑکے نے ان کی طرف دیکھا اور بولا ’’میرے دادا کا انتقال ایک سو بیس سال کی عمر میں...
May 02, 2017
اندر کی خبر

ہم نے پاکستان میں پہلا مارشل لا1953میں دیکھا تھا۔ احمدیوں کے خلاف تحریک نے زور پکڑا اور ہنگامے شروع ہوئے تو مارشل لا لگا دیا گیا۔ یہ مارشل لا صرف لاہور میں لگایا گیا تھا۔ اس مارشل لا میں روزنامہ ’’زمیندار‘‘ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس کا پریس بند کر دیا گیا تھا اور اس کے ایڈیٹر مولانا اختر علی خاں (مولانا ظفر علی خاں کے صاحب زادے)...
April 25, 2017
پاناما سے کتاب کے تیو ہار تک

پروفیسر امین مغل لندن میں رہتے ہیں۔ لیکن بھلا ہو فیس بک کا کہ وہ صبح سے رات تک پاکستان میں ہی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے میرے ایک تبصرے پر لکھا ’’اور بھی غم ہیں زمانے میں پاناما کے سوا‘‘۔ مگر ہمارے افسانہ نگار، نقاد استاد اور ادبی رسالے ’’دنیا زاد‘‘ کے ایڈیٹر آصف فرخی کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر بالزیک کا ناول ’’بڈھا گوریو‘‘ یاد...
April 18, 2017
اس جرم میں ہم سب ذمہ دار ہیں

مان لیجئے کہ اس بہیمیت اور وحشیانہ حرکت اور اس جرم اور اس گناہ کے ہم سب ذمہ دار ہیں۔ ہم، ہمارے معاشرے کے نام نہاد سوچنے سمجھنے والے، ہمارا عام آدمی، ہمارا میڈیا، ہماری حکومت اور قانون و انصاف مہیا کرنے والے تمام ادارے۔ ان عناصر کو ہم نے ہی تو پروان چڑھایا ہے۔ ہم نے ہی تو انہیں موقع دیا ہے کہ وہ قانون، اخلاق اور انسانیت کو جب چاہیں...
April 11, 2017
وہی ہوا جو ہم نے کہاتھااور مردم شماری

وہی ہوا جو ہم نے کہا تھا۔ ایک ہفتے میں ہی ہم اس شخص کو بھول گئے جس نے نہایت ہی وحشیانہ انداز میں ڈنڈے اور لاٹھیاں مار مار کر بیس انسان ہلاک اور کئی زخمی کر دیے تھے۔ ایک تو مردم شماری کرنے والی ٹیم پر حملہ ہو گیا اس لئے ایک دو دن کے لئے ہماری توجہ ادھر بھی مبذول ہو گئی۔ ویسے تو یہ بھی ہمارے لئے معمول ہی بن گیا ہے۔ لیکن ہمارے روزمرہ کے...
April 04, 2017
کیا ہم سب نفسیاتی مریض ہو گئے ہیں ؟

اب تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ ہمارے لئے معمول کی بات ہو گئی ہے۔ اتنے آدمی فلاں حادثے میں مارے گئے اور اتنے آدمی فلاں شخص نے مار ڈالے۔ ہم ٹی وی پر خبر سنتے ہیں، اخبار میں یہ خبر پڑھتے ہیں۔ تھوڑی دیر افسوس کرتے ہیں اور پھر اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ اور اس وقت تک ہم فراموشی کے عالم میں رہتے ہیں جب تک ایسا ہی کوئی اور سانحہ نہیں ہو...
March 28, 2017
حسین حقانی کو سزا دو

یہ جو حسین حقانی ہے نا، اسے پھلجھڑیاں چھوڑنے میں بہت مزہ آتا ہے، وہ بیٹھے بٹھائے ایک پھلجھڑی چھوڑ دیتا ہے اور پھر دور بیٹھ کر تماشا دیکھتا ہے، بھلا کیا ضرورت تھی اسے وہ مضمون لکھنے کی جس نے خدا جانے کس کس کی نیندیں اڑا دی ہیں، اب وہ کہتا ہے کہ ’’میں نے اس مضمون میں کوئی نئی بات نہیں کی ہے، وہی لکھا ہے جو سب جانتے ہیں۔‘‘ حالانکہ وہ...
March 21, 2017
خوف سے آزادی اور فہمیدہ ریاض کا ناول

ہم خوف کے حصار میں ہیں۔ ’’خوف سے آزادی حاصل کئے بغیر اظہار رائے، مذہب، عقیدے، تحقیق و جستجو اور سوال کرنے کی آزادی محض ایک کلیشے ہے‘‘۔ یہ لکھا ہے فرح ضیا نے اپنے انگریزی مضمون میں۔ یہ مضمون 23 مارچ کو آنے والے یوم آزادی کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ سچ ہے، اب تک یہ خوف سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور شدت پسند جماعتوں اور انتہا پسند...