Masood Ashar - Urdu Columns Pakistan | Jang Columns
| |
Home Page
ہفتہ 30 محرم الحرام 1439ھ 21 اکتوبر 2017ء
مسعود اشر
آئینہ
October 18, 2017
اعصاب کا امتحان اور ملتانی آم

آپ کہیں گے کہ کیا ان مل بے جوڑ عنوان ہے اس کالم کا۔ یعنی ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ کہاں اعصاب کا امتحان اور کہاں ملتان کے آم۔ لیکن ادب کے استادوں سے پوچھ لیجئے کہ ادب میں ان مل بے جو ڑ بھی ایک چیز ہو تی ہے۔ اب یہ کوئی صنف ہے یا نہیں، لیکن ان مل بے جوڑ شاعری ضرور ہوتی ہے۔ یعنی شتر گربہ۔ یار لوگوں کو ہماری آج کی سیاسی صورت حال بھی کچھ...
October 10, 2017
نوبیل انعام اور ہریانوی زبان

جب بھی کسی ادیب کو کوئی ادبی انعام ملتا ہے، جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ فلاں ادیب کو کیوں نہیں ملا؟ اس کا حق زیادہ تھا۔ اسے کیوں ملا؟ اس کا تو حق ہی نہیں تھا۔ اس سال ادب کا نو بیل انعام برطانیہ کے ناول نگار کازو ایشی گرو( Kazuo Ishiguro) کو ملا ہے۔ اول تو اس ادیب کا نام ہی ہمارے حلق سے نیچے نہیں اترتا۔ دوسرے وہ چند ناولوں کا ہی مصنف ہے۔ اس کے صرف دو...
October 03, 2017
سیاست کا اونٹ اور ستارہ شناس

 آپ نے کبھی اونٹ کی سواری کی ہے؟ کہتے ہیں اس کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی۔ اسی لئے جب وہ کھڑا ہوتا ہے تو ایسے جھکولے کھاتا ہے کہ اس پر بیٹھنے والا ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں وہ گر ہی نہ جائے۔ اور جب وہ بیٹھتا ہے تو کبھی دائیں جھکتا ہے اور کبھی بائیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ دائیں کروٹ بیٹھے گا یا بائیں کروٹ۔ کہتے ہیں آج کل ہماری سیاست کا...
September 26, 2017
پنجابی ادب کا بہت بڑا نام

ہم اپنے اپنے خول میں مگن رہتے ہیں۔ اپنے کابک میں، اپنے ڈربے میں(کابک میں کبوتر اور ڈربے میں مرغی)۔ ہمیں اس سے کو ئی غرض نہیں ہو تی کہ ہمارے خول یا ہمارے کابک اور ڈربے سے باہر کیا ہو رہا ہے۔ یہ خول زبانوں اور ادب میں بھی موجود ہے۔ اردو والے بالکل نہیں جانتے کہ پاکستان کی دوسری زبانوں میں کیا لکھا جا رہا ہے۔ لے دے کے پنجابی یا سندھی زبان...
September 19, 2017
الیکشن، نجم سیٹھی اور پنکچر

یہ اچھا الیکشن تھا۔ دونوں فریقوں کو شکایت ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ نے پولنگ کے دوران ہی شکایت شروع کر دی تھی کہ ان کے کارکن غائب کر دیئے گئے ہیں۔ ان کے ووٹروں کو اندر نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔ ان کے ایک پو لنگ ایجنٹ تو یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے کہ جس آدمی کے پاس مسلم لیگ کی پرچی ہوتی ہے اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے۔ کسی نے...
September 12, 2017
مرغا کس نے چرایا؟

سوشل میڈیا پر آج کل ایک تصویر ’’وائرل‘‘ ہو رہی ہے۔ یہ تصویر ان رنگ برنگے ٹن کے ڈبوں کی ہے جو شاید کسی ٹوکرے جیسی چیز میں اوپر نیچے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سعادت حسن منٹو کے خالی ڈبے نہیں ہیں بلکہ مشروبات کے ڈبوں جیسے ہیں۔ جیسے کسی کولا کے ٹن۔ یا پھر یورپ اور امریکہ میں کھانے پینے کی چیزوں کے ٹن۔ ان ڈبوں پر چینی زبان میں کچھ لکھا ہوا ہے...
September 05, 2017
ہندوستان69فیصد اور پاکستان40فیصد

ہم ایک زمانے سے سوچ رہے ہیں کہ اردو میں انگریزی لفظ ’’کرپشن‘‘ کا متبادل کیا ہے؟ اس کے لئے ہم نے کوئی لغت دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کیونکہ ہمیں یقین کامل تھا کہ وہاں کوئی بہت ہی مشکل عربی فارسی کا لفظ ہو گا۔ ’’بدعنوانی‘‘ ایک لفظ ملا کہ ہمارے اردو والے اسی سے دال دلیہ کر لیتے ہیں۔ لیکن بہت دماغ سوزی کے بعد بھی کرپشن جیسا نہایت...
August 29, 2017
یہ کتابیں پڑھنے والے

کچھ آپ کی سمجھ میں آ رہا ہے کہ آپ کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے؟ کیا آپ سمجھ رہے ہیں کہ ہم کدھر جا رہے ہیں؟ ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آتا۔ ہر طرف ایک شور ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے۔ ہر ایک اپنی اپنی کہہ رہا ہے۔ ایسے میں مجروح سلطان پوری کی وہ غزل ہم بار بار پڑھ رہے ہیں جو جاوید نقوی صاحب نے بھیجی ہے۔ اس غزل کا ایک شعر آپ بھی...
August 22, 2017
ملالہ، برطانیہ کی وزیراعظم؟

پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں ایک اور تاریخ ساز واقعہ۔ ملالہ یوسف زئی کو آکسفرڈ یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا۔ یہ لڑکی تاریخ پر تاریخ بناتی چلی جا رہی ہے۔ نوبیل انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت بھی یہی ہے۔ اور اتنی کم عمر میں دنیا کو پاکستان کا روشن چہرہ دکھانے والی بھی یہی لڑکی ہے۔ لندن کے ایک اخبار نے تو کمال ہی کر دیا۔ اس نے...
August 15, 2017
پاکستان سے دور ایک پاکستان بنانے کی کہانی

ستر سال پہلے جب ہندوستان آزاد ہوا، اور پاکستان بنا اس وقت ہم کہاں تھے؟ اور ہم نے کیا کچھ دیکھا؟ آج ہم وہ آپ کو بتانا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی باور کرانا چاہتے ہیں کہ مسلمان، بالخصوص پٹھان کتنے سادہ لوح اور کتنے بھولے بھالے ہوتے ہیں (پختونخوا کے پٹھانوں سے معذرت کے ساتھ) ہندوستان کے صوبہ یو پی میں ایک مسلم ریاست تھی رام...
August 08, 2017
میں رونا چاہتا ہوں

یہ تخلیق کار بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں ماضی، حال اور مستقبل سب ایک ہو جاتے ہیں۔ ان کی تخلیق کسی زمانے یا کسی مکان کی پابند نہیں رہتی۔ اب منیر نیازی کو ہی لے لیجئے۔ اس کا یہ شعر ہمیں آج کل بہت یاد آ رہا ہے۔ یہ شعر کب کہا گیا تھا؟ کیوں کہا گیا تھا؟ فلم کے لئے کہا گیا تھا یا تخلیقی وفور میں کہا گیا تھا؟ ہمیں نہیں معلوم۔ لیکن آج...
August 02, 2017
شالا کوئی وزیر اعظم نہ تھیوے

اس کالم کا عنوان امتیاز عالم کے اس ٹویٹ سے لیا گیا ہے جو انہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد کیا تھا۔ یعنی ان کے خیال میں کسی شریف اور معصوم آدمی کو وزیراعظم نہیں بننا چاہئے۔ لیکن اس ٹویٹ پر بات کرنے سے پہلے ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم نے اس فیصلے کی خبر کیسے اور کس وقت پڑھی۔ ایک دن پہلے اعلان ہوا کہ کل پاکستان میں دن کے...
July 26, 2017
اس نے جب’’ تھیوری‘‘ بدل کر بات کی

کہتے ہیں زبان کا زخم کبھی نہیں بھرتا۔ اس محاورے پر ہم اپنے بھائی سے ڈانٹ کھا چکے ہیں۔ ہوا یوں کہ یہ محاورہ کہیں بچپن میں ہم نے سنا تھا مگر اس کا اصل مطلب ہم نہیں جانتے تھے۔ ایک دن ہمارے بڑے بھائی سعید لخت بلیڈ سے کوئی کاغذ واغذ کاٹ رہے تھے کہ انہوں نے بلیڈ منہ میں رکھ لیا اور ان کی زبان زخمی ہو گئی۔ ہم نے زخمی زبان دیکھی تو کہہ دیا۔...
July 19, 2017
دل جلتا ہے

اس وقت ہم آپ کو وہ باتیں بتانا چاہتے ہیں جن پر ہمارا دل جلتا ہے۔ وہی دل کا جلنا جس پر مکیش نے گایا تھا کہ ’’دل جلتا ہے تو جلنے دے۔۔آنسو نہ بہا فریاد نہ کر‘‘۔ ہم فریاد تو نہیں کر رہے ہیں کہ فریاد کریں بھی تو کس سے؟ البتہ آنسو ضرور بہا رہے ہیں کہ ہم آنسو ہی بہا سکتے ہیں۔ اور یہ آنسو بہانے کا موقع فراہم کیا ہے روزنامہ جنگ کے ساتھی...