ون ڈے سیریز کے التواء میں قصور ویسٹ انڈیز کرکٹرز کا ہے

December 21, 2021

پاکستان کرکٹ ٹیم نے2021میں بابر اعظم کی کپتانی میں اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہےنوجوان کپتان نے فرنٹ سے لیڈ کرتے ہوئے ٹی ٹوئینٹی اور ٹیسٹ فارمیٹ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ ویسٹ انڈیز کو ٹی ٹوئینٹی میں تین صفر سے ہرانے کے بعد کورونا وائرس نےون ڈے سیریز ملتوی کرادی۔اس میں پاکستان سے زیادہ قصور مہمان کھلاڑیوں کا بتایا جارہا ہے جنہوںنے ٹرانزٹ میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کی۔

اس سال پاکستان نے ون ڈے میچ کم کھیلے اس کی وجہ یہ تھی کہ پاکستان کی یہ چوتھی ون ڈے سیریز ہے جو منسوخ ہوئی ۔ اس سے قبل اس کی ہالینڈ، افغانستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز منسوخ ہو چکی ہیں۔ون ڈے سیریز کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔پاکستان اس وقت آئی سی سی مینز ورلڈ کپ سپر لیگ کی درجہ بندی میں ساتویں نمبر پر ہے۔ اس نے اب تک نو میچ کھیلے ہیں جن میں چار جیتے ہیں اور پانچ میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

2023میں بھارت میں ہونے والے عالمی کپ میں میزبان بھارت سمیت آٹھ ٹیمیں براہ راست کھیلیں گی۔ بقیہ دو ٹیموں کا انتخاب کوالیفائنگ راؤنڈ کے ذریعے ہوگا اس راؤنڈ میں سپرلیگ کی آخری پانچ اور پانچ ایسوسی ایٹ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس لئے چاروں ون ڈے سیریز کے نتائج پاکستان ٹیم کے لئے اہم ہوں گے۔ ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم اب وطن پہنچ چکی ہے جہاں وہ اپنی فیملی کے ساتھ کرسمس منائیں گے۔ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلے بغیر وطن واپس روانہ ہوگئی اور جاتے جاتے وعدہ کرگئی کہ جون میں تین ون ڈے کے ساتھ تین ٹی ٹوئینٹی میچ کھیلیں گے۔

جون کے گرم موسم میں کھیلنا کھلاڑیوں کے لئے مشکل تو تماشائیوں کے لئے بھی حالات آسان نہیں ہوں گے۔ اس بار نیشنل اسٹیڈیم میں تماشائیوں کو جس مشکل کا سامنا کرنا پڑا اس پر بھی پی سی بی کو نظر رکھنی ہوگی۔مہنگائی کے اس دور میں عام لوگوں کے لئے ٹکٹ خریدنا مشکل ہیں ان کی قوت خرید اس لئے کم ہورہی ہے کہ عام زندگی میں ان کے مسائل مہنگائی کے سونامی میں بڑھ رہے ہیں ایسے میں جو لوگ پیسہ خرچ کرکے میچ دیکھنے جاتے ہیں انہیں بہتر سہولتیں ملنی چاہیں۔

پی سی بی آن لائن ٹکٹ ضرور فروخت کرے لیکن ہر شخص آن لائن ٹکٹ نہیں خرید سکتا۔باکس آفس پر ٹکٹ فروخت کرنے کی روایت کو تبدیل کرنے حماقت ہوگی۔کراچی میں نیشنل اسٹیڈیم کے ساتھ نیشنل کوچنگ سینٹر میں چار پانچ بوتھ لگاکر ٹکٹ فروخت کئے جائیں۔ عام مزدور کے پاس جذبہ ہے لیکن کریڈٹ کارڈ پر ٹکٹ خریدنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس بار انتظامیہ نے اسٹیڈیم کے اطراف سڑکیں کھول کر اچھا کیا لیکن اسٹیڈیم کے نزدیک پارکنگ بنانے یا مستقل شٹل چلانا بے حد ضروری ہے۔ سسٹم موجود ہے اس پر عمل درآمد کرانا رمیز راجا اور نئے سی ای او فیصل حسنین کے لئے چیلنج ہے۔عام لوگوں اور جوشیلے تماشائیوں کے لئے سہولتیں پیدا کرکے ہی ہم اپنی کرکٹ کو کامیاب کرسکتے ہیں۔

پی ایس ایل میچوں میں اس جانب توجہ دینا کی ضرورت ہے۔وقت کم ہے اس لئے رمیز راجا تماشائیوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے آگے آئیں۔ویسٹ انڈیز کا تین ون ڈے کھیلے بغیر واپس چلاجانا اچھی خبر نہیں ہے ۔ دونوں ٹیموں کی ویلفیئر اور ویسٹ انڈیز کے پاس موجود محدود وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے ون ڈے سیریز ملتوی کیگئی ،جو آئندہ جون میں ہوگی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کورونا کی وجہ سے پاکستان کے ہوم سیزن کے اہم میچز متاثر ہوئے ہوں۔

مارچ میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے مختلف کھلاڑیوں کے کورونا سے متاثر ہونے کے باعث پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ملتوی کیے جانے والے بقیہ میچز متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی میں منعقد کرائے تھے اور ٹورنامنٹ کے فائنل میں ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 47 رنز سے شکست دی تھی۔ مارچ میں بھی پاکستان سپر لیگ ملتوی ہونے کے بعد بنیادی سوال یہی سامنے آیا ہے کہ مختلف کھلاڑیوں اور اسٹاف کے کوویڈ ٹیسٹ مثبت آنے کے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان سپر لیگ میں جو بائیو سکیور ببل بنایا گیا تھا اس کی خلاف ورزی کس طرح ہوئی ہے۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو ویسٹ انڈین بورڈ سے سوال ضرور کرنا ہوگا کہ آپ کے کھلاڑیوں نے ٹرانزٹ میں جو غلطی کی اس کا نقصان پاکستان کرکٹ کو ہوا۔ایسی فاش غلطی کرنے والوں کے خلاف ویسٹ انڈین بورڈ کو ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ویسٹ انڈیز کے پاس اس وقت بڑے کھلاڑی نہیں تھے جون میں ان کی پوری ٹیم ہوگی اور پاکستان کے لئے سیریز جیتنا آسان نہیں ہوگا۔