• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صومالی لینڈ نے اسرائیل فوجی مراکز اور فلسطینیوں کی منتقلی کے الزامات مسترد کر دیے


فوٹو: اسرائیلی میڈیا
فوٹو: اسرائیلی میڈیا 

صومالی لینڈ نے اسرائیلی فوجی مراکز اور فلسطینیوں کی منتقلی کے الزامات مسترد کر دیے۔

صومالی لینڈ نے اسرائیل کی طرف سے تسلیم کیے جانے کے بعد لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ اس نے اسرائیل کی شناخت کے بدلے فوجی مراکز قائم کرنے اور غزہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کو آباد کرنے کی رضا مندی دی تھی۔

وزارت خارجہ صومالی لینڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات صرف سفارتی نوعیت کے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔

 یہ ردعمل صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمد کے الزامات کے بعد آیا، جنہوں نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ صومالی لینڈ نے اسرائیل کی تین شرائط قبول کی ہیں، جن میں فلسطینیوں کی آبادکاری، خلیج عدن کے ساحل پر فوجی اڈہ قائم کرنا اور ابراہیم معاہدے میں شامل ہونا ہے۔

صومالی لینڈ کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، البتہ انہوں نے ابراہیم معاہدے میں شمولیت کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل  اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو تصدیق کی تھی کہ صومالی لینڈ ابراہیم معاہدے میں شامل ہوگا اور اسے ایک "جمہوری، معتدل اور مسلم ملک" کے طور پر سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ صومالی لینڈ کو اسرائیل کی جانب سے تسلیم کرنے کے بعد  صومالیہ میں شدید ردعمل آیا، جہاں30 دسمبرکو مختلف شہروں میں ہزاروں شہری سڑکوں پر نکلے اور صومالی پرچم لہراتے ہوئے یکجہتی کا مطالبہ کیا۔

اسرائیلی اقدام کی عالمی سطح پر بھی مذمت کی گئی اور پاکستان سمیت  50 سے زائد ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ افریقی یونین اور یورپی یونین نے صومالیہ کی علاقائی سالمیت کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔

یاد رہے کہ صومالی لینڈ 1991 میں صومالیہ سے علیحدہ ہو کر آزاد ہونے کا اعلان کر چکا ہے، لیکن ابھی تک بین الاقوامی سطح پر مکمل تسلیم حاصل نہیں کر سکا۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید