بلومبرگ نے پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں بہتری اور پالیسی استحکام کی تصدیق کر دی۔
پاکستان سے متعلق جائزہ رپورٹ میں بلوم برگ نے کہا کہ پاکستان میں قیمتوں کا استحکام اور معاشی نظم و نسق بہتر ہو رہا ہے، دسمبر میں افراطِ زر 5.6 فیصد رہا جو توقعات اور نومبر کے 6.1 فیصد سے کم ہے۔
بلوم برگ کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں دباؤ کم ہوا اور غذائی افراطِ زر 3.24 فیصد تک محدود رہا، خوراک کی بہتر دستیابی سے مارکیٹ میں استحکام آیا اور عوامی ریلیف کے آثار نمایاں ہوئے۔
امریکی مالیاتی و میڈیا ادارے کا مزید کہنا تھا کہ مارکیٹ اندازوں سے کم مہنگائی نے اعتماد بڑھایا اور پالیسی سمت کی تصدیق کی۔
بلوم برگ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ تقریباً تین سال کی کم ترین سطح پر کیا، شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس کمی سے قیمتوں کے دباؤ کے قابلِ کنٹرول ہونے کا واضح اشارہ ملا۔
بلوم برگ کے مطابق کم شرحِ سود سے کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے فنانسنگ نسبتاً سازگار ہونے کی امید بڑھی، قیمتوں کے استحکام نے سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے مثبت سگنل دیا اور غیر یقینی صورتحال میں کمی آئی۔
بلوم برگ کے مطابق کم مہنگائی سے قوتِ خرید میں بہتری اور صارفین کے لیے ریلیف کے امکانات بڑھے۔
بلوم برگ کے مطابق دسمبر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ پالیسی اقدامات کے نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں، مہنگائی کا مسلسل نیچے آنا مڈ ٹرم معاشی استحکام اور بہتر گورننس کی بنیاد مضبوط ہونے کا اشارہ ہے۔