فرد عزیز ہے یا ادارہ

August 26, 2014
 

2008ء میں جنرل پرویز مشرف کی باقیات انتخابی شکست سے دو چار ہوئیں اور پیپلز پارٹی و مسلم لیگ (ن)کو مرکز اور صوبے میں اقتدار ملا تو ہر سیاستدان ، دانشور اور تجزیہ کار کی زبان سے ایک ہی جملہ سننے کو ملتا تھا’’سیاسی قیادت نے ماضی سے سبق سیکھا ہے‘‘ میاں نواز شریف کے ساتھی اس ضمن میں خاصے پرجوش تھے۔
ان دنوں اسلام آباد کا ریڈ زون دھرنے کی زد میں ہے۔ سیاستدانوں کی اکثریت کو قبائلی انداز کی جتھہ بندی کے ذریعے پارلیمنٹ اور اس کے بطن سے وجود میں آنے والی حکومت کو بچانے کی فکر ہے اور محمود اچکزئی جیسے مجاہدین جمہوریت ا یک بار پھر تیسری طاقت کا ہوا کھڑا کرکے اس آئینی، جمہوری اور قانونی جدوجہد کی مخالفت میں تقریریں فرمارہے ہیں جو موجودہ فرسودہ اور عوام دشمن، سیاسی،سماجی اور معاشی نظام میں قابل ذکر، فیصلہ کن اور پائیدار تبدیلیوں کے لئے جاری ہے۔
پیپلز پارٹی سے لیکر جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے تمام خوردو کلاں کے بیانات پڑھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ قومی سیاست اب زوال اور ابہام کی اس سطح پر آگئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری، خورشید شاہ، قمر الزمان کائرہ، سراج الحق، لیاقت بلوچ، الطاف حسین تمام قابل احترام سیاستدان بات یہاں سے شروع کرتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے مطالبات جائز، جمہوری اور آئینی ہیں۔ انہیں لانگ مارچ کرنے اور دھرنا دینے کا حق ہے اور حکومت کو ضد کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے مگر تان یہاں ٹوٹتی ہے کہ دھاندلی کے الزامات کا سامنے کرنے والی پارلیمنٹ اور حکومت قائم رہے، دونوں احتجاجی رہنما لچک کا مظاہرہ کریں اور حکومت سے جو ملتا ہے اس پر اکتفا کرکے گھروں کو لوٹ جائیں یعنی آئین، قانون اور اصول نہیں بندر بانٹ پر اصرار ۔
کسی کا کوئی اصولی موقف ہے نہ دو ٹوک رویہ اور نہ غلط اور صحیح میں تفریق کی جرأت ؎
عجب تیری سیاست ہے، عجب تیرا نظام
حسینؓ سے بھی مراسم، یزید کو بھی سلام
وہی بدو والی بات دسترخوان امیر معاویہؓ کا لذیذ ہے نما زکا مزہ علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم کی اقتدا میں آتا ہے، اگر طاہر القادری اور عمران خان کے مطالبات درست ہیں تو اس کی حمایت اخلاقی اور سیاسی تقاضا ہے اگر حکمرانوں کے موقف میں و زن ہے تو پھر میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑا ہوناچاہئے ۔محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی کی طرح۔ یہ’’ ادھر علی ادھر‘‘ کی پالیسی کیونکر روا ۔
حضرت شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
سیاستدانوں نے ماضی سے اگر یہ سبق سیکھا ہے تو پھر اس سوچ کا ماتم کرنا چاہئے سامنے کی بات یہ ہے کہ سیاستدان بالخصوص حکمران مذاکرات پر بھی اس وقت آمادہ ہوئے جب ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے پریس ریلیز کے ذریعے انتباہ جاری کیا کہ ریاست کی علامت عمارتوں کا تحفظ پاک فوج کریگی اور سیاستدان اپنے معاملات بامقصد مذاکرات کے ذریعے طے کریں۔ یہ بیان جاری ہوتے ہی پارلیمنٹ ہائوس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ پر قبضے کے اعلانات واپس اور مذاکرات شروع، مگر نتیجہ اب تک اس لئے نہیں نکل سکا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے لچک اور باعزت پسپائی کی حد کردی مگر حکومت کا پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔ میاں صاحب استعفیٰ نہیں دیں گےCOME WHAT MAY۔
خضر حیات خان ٹوانہ متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے، انہیں کانگریس کی حمایت سے ایوان میں واضح اکثریت حاصل تھی اور ہر طرف راوی چین لکھتا تھا۔ مسلم لیگ نے احتجاجی تحریک شروع کی کہ یونینسٹ پارٹی اور کانگریس نے اس کے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالا، ایک روز خضر حیات ٹوانہ گھر آئے تو والدہ برہم بیٹھی تھی پوچھا تو بولیں’’تمہاری سیاست اور وزارت اعلیٰ عزت اور وقار کے لئے ہے یا تو ہین و تذلیل کی خاطر‘‘، بولے’’ظاہر ہے عزت اور خاندانی وقار میں اضافے کے لئے‘‘ ،’’توپھر سڑکوں پر گونجے والے مخالفانہ نعرے تمہاری عزت میں اضافہ کررہے ہیں‘‘۔والدہ نے پوچھا ،بوڑھی والدہ مال روڈ پر مسلم لیگیوں کے نعرے سن کر گئی تھیں جو خاصے دلآزار تھے۔
خضر حیات ٹوانہ نے استعفیٰ لکھا، گورنر پنجاب کے پاس گئے اور متحدہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ چھوڑ دی۔ کہا جاتا ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے منصب صدارت چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا جب گھر میں پوتوں کو ’’ایوب خان ہائے ہائے‘‘ کے نعرے لگاتے دیکھا۔ کابینہ کے اجلاس میں کسی نے ریفرنڈم کرانے کی تجویز پیش کی تو ایوب خان کا جواب تھا’’کیا سڑکوں پر ہجوم اور ان کے مخالفانہ نعرے ریفرنڈم نہیں، ملک کو کسی نئی مشکل میں ڈالنا ضروری ہے کیا؟‘‘ مگر یہ ماضی کی باتیں ہیں اب تو وزیر اعظم ڈپٹی کمشنر کے طور پر کام کرنا بھی باعث عزت و وقار سمجھتا ہے ’’رائٹر کی سٹوری پڑھ لیجئے‘‘
17جون سے پہلے معاملہ صرف انتخابی دھاندلی کا تھا اب مگر معاملہ 14 انسانی جانوں کے اتلاف کا ہے، بارہ تیرہ روز سے سڑکوں پر احتجاج کرنے والے پرجوش سیاسی کارکنوں کے جذبات و احساسات اور ہر روز دھاندلی کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے کسی نئے گواہ کا ہے اور پولیس سمیت سرکاری اداروں کے افسران اور اہلکاروں کی طرف سے عدم تعاون کا بھی جو حکومتی احکامات ماننے میں دلچسپی نہیں رکھتے ،ماڈل ٹائون اور ریڈ زون کا محاصرہ اس عدم تعاون کے باعث ٹوٹا۔ عمران خان کی طرف سے سول نافرمانی کی تان نے معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب کئے ہیں،دوسربراہان حکومت کے دوروں کا التواء ،آئی ایم ایف ٹیم کی اسلام آباد آمد سے معذرت اور ڈالر کے بھائو میں اضافہ وہ اشارے ہیں جنہیں حکومت اور اس کے ہمنوا سمجھنے میں تاخیر کے مرتکب ہورہے ہیں اور مختلف شہروں میں جوابی ریلیوں سے تصادم ،ہنگامہ آرائی اور انتشار کی راہ ہموار کی جارہی ہے،شیعہ سنی تنازعہ پہلے سے موجود تھا اب دیو بندی ،بریلوی کشمکش کا اندیشہ ہے۔
کوئی مانے نہ مانے حکومت کی اخلاقی ساکھ تباہ ہوچکی، ریاستی اداروں پر اس کی گرفت کمزور سے کمزور تر ہے اور عالمی سطح پر اس کی بھد اڑارہی ہے جن گیارہ جماعتوں کی جمہوریت اور پارلیمنٹ کے ساتھ کمٹمنٹ کو حکومت اپنا اثاثہ قرار دے رہی ہے وہ بھی میاں نواز اور شہباز شریف کے استعفے کے حق میں ہیں مگر فی الحال وہ تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مقولے پر عمل پیرا ہیں اور حکومت کی ضد و ہٹ دھرمی کو مزید آشکار کرنا چاہتی ہیں، پھر بھی دعویٰ یہ ہے کہ سیاستدانوں نے ماضی سے سبق بہت سیکھا اور جمہوریت ان کا ایمان ہے جس میں اداروں کی اہمیت ہوتی ہےافراد کی نہیں۔
اگر جمہوریت میں افراد نہیں اداروں کی اہمیت ہوتی ہے اور مسلم لیگ(ن) کا موقف مضبوط ہے تو پھر افراد پر انحصار کیوں؟ ایک یا دو اشخاص کی قربانی سے جمہوریت اور ادارے بچانے کی فکر کسی کو کیوں نہیں؟ فوج کی نیک نیتی، عدم مداخلت کی پالیسی اور بامقصد مذاکرات کی تجویز کو حکومت کی انشورنس پالیسی سمجھا رہا ہے یا آخری اور فیصلہ کن معرکے کی تیاریاں ہیں، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔


مکمل خبر پڑھیں