گردوں کی پیوند کاری 1986سے

July 01, 2018
 

یہ بات 1986کی ہے میو اسپتال کے شعبہ امراض گردہ و مثانہ کے سینئر رجسٹرار ڈاکٹر ریاض احمد تسنیم کا فون آیا کہ کل میواسپتال میں پاکستان میں گردوں کی پیوند کاری کا پہلا آپریشن ہورہا ہے۔ یورالوجی شعبے کے سربراہ پر وفیسر ڈاکٹر فتح خاں اختر اور میری خواہش ہے کہ آپ گردوں کی پیوند کاری کے اس پہلے آپریشن کو ضرور دیکھیں اور کور کریں یہ آپریشن امریکہ سے آئے ہوئے ڈاکٹر خالد بٹ کریں گے اور ساتھ ہماری ڈاکٹروں کی ٹیم بھی ہوگی۔ چنانچہ ہم اگلے روز بمعہ اپنے سینئر ترین فوٹو گرافر عارف نجمی کے ساتھ یورالوجی وارڈ میواسپتال مقررہ وقت پر پہنچ گئے۔ وہاں ڈاکٹر خالد بٹ مرحوم سے ہم نے انٹرویو کیا اور یہ آپریشن دیکھا اور پہلی مرتبہ انسانی گردوں کو ایک ٹرے میں پڑے ہوئے دیکھا۔یہ آپریشن کامیاب رہا۔ ڈاکٹر خالد بٹ امریکہ سے آئے ہوئے تھے۔ اور انہوں نے یہاں پر چھ سات مریضوں کے گردوں کی پیوند کاری کی۔ اور پھر چلے گئے اس کے بعد بھی وہ پاکستان آتے رہے اور ٹرانسپلانٹ کرتے رہے۔ڈاکٹر خالد بٹ مرحوم امریکہ میں بھی معروف ترین کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجن تھے۔
امریکہ میں ان دنوں گردوں کی پیوند کاری کا کام ابھی ابتدائی مراحل میں تھا۔ ڈاکٹر خالد بٹ نے اس کام کی از سر نو بنیاد رکھی اور امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹروں کے لئے اس شعبے میں راہیں کھولیں۔ اور بہت نام کمایا اب ان کی بیٹی ڈاکٹر فوزیہ بٹ بھی امریکہ (مشی گن) میں گردوں کی پیوند کاری کی سرجن ہیں۔ امریکہ میں اسے شعبے میں صرف پانچ لیڈی سرجن ہیں ہماری امریکہ میں ان کے بھتیجے ڈاکٹر خالد کمال (جو کہ بچوں کے ماہر ڈاکٹر ہیں) بات ہوئی۔ تو یہ سنکر حیرت ہوئی کہ امریکہ میں گردوں کی پیوند کاری کے حوالے میں ڈاکٹر خالد بٹ مرحوم نے کئی نئی تیکنیک بھی دریافت کیں۔ اور امریکی ڈاکٹر بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔ڈاکٹر خالد بٹ نے لاہور میں یہ تمام آپریشن بغیر کسی معاوضے کے بالکل مفت کئے اور امریکہ سے آتے رہے ۔ ایک ایسا شخص جس نے امریکہ میں برس ہا برس کام کیا۔ اور اپنی خود نمائی نہ کی دوسری طرف اس ملک میں باہرسے آنے والے بعض ڈاکٹر اپنی خود نمائی کے لئے کالم لکھواتے اور خبریں لگواتے رہتے ہیں۔
پاکستان میں گردوں کی پیوند کاری بھارت سے پہلے شروع ہوئی۔ اس کے بعد لاہور کے جنرل اسپتال ،سروسزاسپتال ، جناح اسپتال، شیخ زید اسپتال،اور کراچی میں معروف ماہر امراض گردہ مثانہ پروفیسرڈاکٹرادیب رضوی نے بھی گردوں کی پیوند کاری شروع کر دی۔ڈاکٹر ادیب رضوی ماشااللہ آج بھی کام کر رہے ہیں اور ان کی خدمات کا ہر کوئی اعتراف کرتا ہے۔اب تک پاکستان کے سرکاری اسپتالوں میں ہزاروں افراد کے گردوں کی پیوند کاری (ٹرانسپلانٹ) ہو چکی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
لاہور جنرل اسپتال کا شعبہ امراض گردہ و مثانہ کے موجودہ ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ اور پاکستان ایسوسی ایشن آف یورالوجیکل سرجنز لاہور چیپٹرکے صدر ڈاکٹرمحمد نذیر کی سربراہی میں ناصرف گردوں کی پیوند کاری کر رہا ہے۔ بلکہ گردوں کے بیسیوں اقسام کے امراض کے آپریشن کر رہا ہے۔ آپ کویہ سن کر حیرت ہو گی کہ لاہور جنرل اسپتال میں گزشتہ برس آئوٹ ڈور میں 60ہزار گردوں کے مریض آئے اور سالانہ ڈیڑھ ہزار سے دو ہزار مریضوں کے مختلف نوعیت کے آپریشن اور پیوند کاری ہوتی ہے اور اسی طرح ایمرجنسی میں بھی سالانہ دو ہزار گردوں کی مختلف نوعیت کی سرجری کی جاتی ہے۔
عزیز قارئین ذرادیر کو سوچیں کہ ایک چھوٹا سا ڈیپارٹمنٹ گردوں کے مریضوں کو علاج و معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کر ر ہا ہے کیا اس وارڈد کو اور اسی طرح دیگر سرکاری اسپتالوں میں قائم امراض گردہ و مثانہ وارڈز کو صرف چند کروڑ روپے دے کر مزید بہتر نہیں بنایا جاسکتا تھا؟ ن لیگ کی سابق حکومت نے بیس ارب روپے ایک اسپتال پر لگا دئیے جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے نوٹس لیااور میڈیکل کے مختلف حلقوں کی طرف سے اعتراضات ہو رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے جن سرکاری اسپتالوں میں گردوں کی پیوند کاری اور گردوں کی دیگر بیماریوں کا علاج ہو رہا ہے وہاں کے ڈاکٹرز کی حد تنخواہ ڈیڑھ لاکھ روپے ہے۔ یعنی جو بیس گریڈ میں کام کر رہا ہے جب پاکستان میں گردوں کی پہلی پیوند کاری ہوئی تھی اس وقت بیس گریڈ کی تنخواہ پندرہ ہزار روپے اور سینئر رجسٹرار کی پانچ ہزار روپے تنخواہ تھی آج بھی سرکاری اسپتالوں کے یہ ڈاکٹرز حکومت کے مقرر کردہ گریڈ ز میں ہی کام کر کے بہترین خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔دوسری جانب حکومت ہی کے ایک ادارے میں تنخواہیں چار سے بیس لاکھ روپے کے درمیان ہیں اب آپ خود انصاف کریں جو ڈاکٹرزکنسلٹنٹ صرف پچاس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر روزانہ بے شمار مریضوں کو دیکھ رہے ہیں ان کے ساتھ زیادتی ہے یا نہیں۔
ایک طرف سرکاری وٹیچنگ اسپتالوں کے شعبہ امراض گردہ و مثانہ میںجو محدود وسائل اور مسائل کے باوجود بہترین آئوٹ پٹ دے رہے ہیں اور دوسری طرف اربوں روپے سے بنایا گیا ایک اسپتال ہے جو اب تک صرف چار پانچ مریضوں کی گردوں کی پیوند کاری کر سکا ہے جس کے اخراجات کروڑوں روپے ماہانہ ہیں اس کے مقابلے میں ان سرکاری اسپتالوں کے اخراجات کہیں کم ہیں۔
کاش سابق حکومت اتنی بڑ ی رقم صرف ایک ادارے پر خرچ کرنے کی بجائے تمام سرکاری اسپتالوں میں قائم گردوں اور جگر کے وارڈز کواپ گریڈ کر دیتی تو اس سے سینکڑوں مریضوں کا فائدہ ہوتا ہر سرکاری اسپتال میں سالانہ ہزاروں گردوں کے مریضوں کا علاج ہوتا اگر یہ رقم وہاں پر خرچ کر دی جاتی تو ان اسپتالوں میں سہولتیںڈبل ہو سکتی تھیں ۔پاکستان میں پچھلے چند برسوں گردوں کے امراض میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر گردوں کے امراض کے بارے میں عوام کو مناسب آگاہی نہ دی گئی اور علاج کی بہتر سہولتیںفراہم نہ کی گئیں تو ہر سال لاکھوں افراد گردوں کے امراض میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے اس وقت سالانہ 25ہزار افراد کو گردوں کی پیوندکاری کی ضرورت ہے اور ان میں سے صرف 25فیصد کو ٹرانسپلانٹ کی سہولت حاصل ہے۔ باقی مریض موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ماہرین کے بقول پبلک سیکٹر کے تمام سرکاری اسپتالوں کے شعبہ امراض گردہ میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ماہانہ سو مریضوں کے گردوں کی پیوند کاری کرسکتے ہیں۔ یہ صرف صوبہ پنجاب کی بات ہے۔ اگر پاکستان کے باقی تینوں صوبوں کے سرکاری اسپتالوں کو مزید بہتر کرلیں تو اندازاً 2سو سے زائد مریضوں کی ماہانہ پیوندکاری ہوسکتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے حکومت نے آج تک سرکاری اسپتالوں کے شعبہ امراض گردہ کی طرف توجہ نہیں دی۔ اگر حکومت سرکاری اسپتالوں کے شعبہ امراض گردہ کو اپ گریڈ کرنے پر توجہ دیتی تو کبھی بھی گردہ مافیا اس ملک میں سرگرم نہ ہوتا اور نہ اسکینڈل سامنے آتے۔ اس ملک میں گردہ مافیا نے چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں میں گردے کے آپریشن کئے جس سے کئی مریض موت کے منہ میں چلے گئے۔ ابھی تک گردہ ا سکینڈل میں ملوث ڈاکٹروں کو سزا نہیں ہوئی۔
حکومت کا یہ کہنا کہ گردوں کی پیوندکاری کروانے والوں کو پہلے سال ادویات فری دیں گے تو جوشخص سرکاری خرچ پر گردوں کی پیوندکاری کروا رہا ہے وہ بھلا ادویات کہاں سے خریدے گا؟ سو حکومت کو ایسے اقدامات کرنے چاہئیں کہ گردوں کی پیوندکاری کروانے والوں کو تاحیات ادویات مفت ملیں۔ اگر سرکاری سیکٹر میںحکومت پہلے ہی اسپورٹ کرتی تو کبھی بھی گردہ مافیا میدان میں نہ آتا اور تیسرا یہ کہ حکومت بیماریوں سے بچنے کے لئے لوگوں کو مناسب رہنمائی فراہم کرے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں