قربانی کا اصل فلسفہ

August 22, 2018
 

جانور ذبح کرکے گوشت کھانا ہی اگر قربانی ہوتا تو اس کیلئے سال بھر انتظار کرکے اور اہتمام سے عیدقربان منانے کی ضرورت نہ ہوتی؟ یہ قربانی تو مسلمان ہر روز کرتا ہے، ہر دن جانوروں کی ایک بڑی تعداد ذبح کی جاتی ہےاور گوشت کھایا اور کھلایا جاتا ہے۔ اسوہ ابراہیمی جس قربانی کا درس دیتا ہے وہ صرف جانور کی قربانی نہیں ہے یہ تو قربانی کی علامت ہے ، اصل مطالبہ تو پورے وجود کی قربانی ہے جس میں جان و مال ، خواہش و مفادات ، وقت و جذبات اورتعلقات کی قربانی شامل ہے۔ قومیں ذاتی مفادات کو قربان کرکے قومی مفادات کی تعمیر کرتی ہیں اور جب زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان کے افراد ذاتی مفادات کی خاطر قومی مفادات کو بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ہم پاکستانی اس زوال کا شکار ہوچکے ہیں کہ ہم نے حقیر ذاتی مفادات کی خاطر قومی ترجیحات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس رویہ نے وہ تمام امراض ہمارے’’ قومی جسم ‘‘میں پیدا کردیے جو مفاد پرستی کے بطن سے پیدا ہوتے ہیں۔ خودغرضی ، نفس پرستی ،حرص و طمع ، تن آسانی، حسدو منافقت، احساس کمتری، کم ظرفی ، بزدلی ، کینہ پروری اور دل آزاری یہ سارے امراض جو ہمارے معاشرے و سماج میں پھیلے نظر آتے ہیں یہ اسی مفاد پرستی کے نتائج ہیں۔ اگر یہ جراثیم نکل جائیں تو ہماری اخلاقی، سماجی ، سیاسی ، معاشرتی اور ذہنی صحت بھی بحال ہو جائے گی ورنہ ہم صرف ایک جانور ذبح کرکے اللہ کے نزدیک کیسے سرخرو ہوسکتے ہیں۔ جانور بے عقل اور بے شعور ہوتا ہے وہ صرف جسم و جان ، ہڈی خون اور گوشت پوست کا مجموعہ ہوتا ہے اس لئے اخلاقی اصول اور مذہبی احکام کا تابع نہیں ہوتا اس لئے بھی خدا تعالیٰ کا حکم ہے کہ اچھے جانورکی قربانی کرو ۔ ایسا جانور جو تندرست ، توانا ہو اندھا یا لنگڑا لولا نہ ہو، یعنی وہ ہر طرح صحیح سالم ہو جبکہ انسان تو عقل و ہوش کا حامل ہے، اخلاقی و سماجی اور مذہبی اصولوں کا پابند ہے ، برے بھلے کی تمیز ر کھتا ہے ، جس خدا نے بے عیب جانور کی قربانی کا مطالبہ کیا ہے اس کی حکمت اور عدالت قربانی کرنے والے کو بھی اخلاقی عیوب سے پاک و صاف اور امراض سے محفوظ دیکھنا چاہتی ہے اگر قربانی کا جانور بے عیب ہو مگرقربانی کرنے والا عیب دار ہو اور جانور تو اپنے مالک یعنی انسان کیلئے گردن کٹادے مگر انسان اپنے رب کے حکم پر گردن نہ جھکاسکے تو خود فیصلہ کیجئے کہ بارگاہ ِالٰہی میں اس کی قربانی کیونکر مقبول ہوسکتی ہے؟ جبکہ وہ واضح طور پر اعلان کرچکا ہے (ترجمہ) ’’اللہ تو صرف پاک بازوں کی قربانی قبول کرتا ہے‘‘۔ مجھے یہ کہنے دیجئے کہ جو خواتین و حضرات حقوق اللہ کے نوافل کو فرائض کا درجہ دیتے ہیں اور حقوق العباد کو محض ثواب سمجھتے ہیں وہ بہت بڑی غلطی پر ہیں یہی وجہ ہے کہ امہ میں حقوق العباد یعنی معاشرہ اور سماج اخلاقی لحاظ سے (بلکہ ہر لحاظ سے) کھوکھلا ہورہا ہے، ہوچکا ہے۔ آج حج، حج نہیں رہا محض نمود و نمائش بن کر رہ گیا ہے لوگ ’’آئوٹنگ‘‘ سمجھ کے حج کو جاتے ہیں۔ ریاکاری سے اس سفر کا آغاز ہوتا ہے، فوٹوگرافی ، نعرےبازی ، گل پاشی، دعوت و طعام ، ہجوم اور میلہ کا سماں بندھ جاتا ہے حالانکہ آدمی اپنے حج کے سفر کو ایک فریضہ سمجھ کر ادا کرے اور بلاوجہ نمایاں ہونے سے اپنے آپ کو بچائے یہ خاص عبادت والا سفر ہے اس کی تشہیر عبادت کی رو ح کو ختم کردیتی ہے اس موقع پر سیاسی مذہبی تقریروں کی بھی ضرورت نہیں۔حج کی اسپرٹ امن ہے۔ جنگ نہیں، حج کی اسپرٹ محبت ہے نفرت نہیں، حج کی اسپرٹ رواداری ہے تشدد اور انتہا پسندی نہیں، مگر عجیب بات ہے کہ حج کی یہی خصوصیت آج مسلمانوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ حج کی یہ خصوصیت کہیں بھی موجودہ مسلمانوں کی قومی پالیسی یا امہ کی اجتماعی سوچ کی جزو نہ بن سکی۔ میرے حساب سے اگر مسلمان سچی اسپرٹ کے ساتھ حج کرکے لوٹے تو آپ دیکھئے کہ امت مسلمہ کی حالت بدل جائے ۔ مجھے تاریخ سے واقعہ یاد آرہا ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کے عہد حکومت میں ان کے بچوں ’’حسین ، حسن اور مریم‘‘ نے ایک بار فرمائش کی کہ اس بار عید پر ہمیں نئے کپڑے لے کر دیں۔ آپ نے بچوں سے کہا کہ میرے پاس تو جمع پونجی کچھ نہیں (کیونکہ اس وقت جمع شدہ دولت بیرون ملک بھیجنے کا رواج نہیں تھا) اگر مجھے تنخواہ مل گئی تو ضرور نئے کپڑے دلوا دوں گا۔ چنانچہ آپ نے اپنے خازن سے درخواست کی کہ مجھےپیشگی تنخواہ ادا کردیں۔ اس نے کہا ’’امیر المومنین کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ اگلے مہینے تک زندہ رہیں گے؟ یا برسراقتدار رہیں گے؟ تو آپ نے نفی میں جواب دیا۔ لہٰذا خازن نے عرض کیا کہ تب آپ کو تنخواہ پیشگی نہیں دی جاسکتی، اس پر آپ نے بچوں کو بتادیا کہ انہی کپڑوں میں عید منانی پڑے گی!لہٰذا پیارے قارئین ! مفاد پرستی اور قربانی کبھی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔

بھوکی بھیڑ کے جسم میں بس سیپی بھر خون

چرواہے کو دودھ دے یا تاجر کو اون

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


مکمل خبر پڑھیں