موہتہ پیلس میوزیم

September 23, 2018
 

شہر کراچی میںکلفٹن کا علاقہ امراء کا مسکن کہلاتا ہے۔ نہ صرف آج بلکہ تقسیم ہند سے پہلے بھی یہاںشہر کے امیرترین افراد آباد تھے۔ اس علاقے میں آج بھی ایک محل نما عمارت اطراف میں بسنے اور وہاں سے گزرنے والوں کے لیے توجہ کا مرکز بنی رہتی ہے، جس کا نام موہتہ پیلس ہے جبکہ70کی دہائی تک اسے قصرِ فاطمہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ ہندی و عربی طرزِ تعمیر کایہ شاہکار نامور تاجراور مخیر شخصیت شیورتن چندرا رتن موہتہ نے1927ء میںتعمیر کروایا تھا۔ جودھ پور سے منگوائے گئے زرد ،عنابی اور گزری پتھروں کا اتنا حسین امتزاج پیدا کیا گیا کہ اس کی تعمیر کو آج تقریباً ایک صدی ہونے کو ہے لیکن اس کی شان و شوکت میں ذرا سی بھی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والا موہتہ پیلس، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو رہائش کے لیے دے دیا گیا تھا، اسی وجہ سے یہ ’قصر فاطمہ‘ بھی کہلایا۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے انتقال تک یہیں مقیم رہیں۔ ان کی رحلت کےبعد یہ عمارت محترمہ شیریں جناح کی تحویل میں آئی، جو اسے کالج کا درجہ دینا چاہتی تھیں مگر ان کے انتقال کے بعد اس عمارت کو حکومت سندھ نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

محبت کی نشانی کی تعمیر

شیو رتن نے موہتہ پیلس کیوں بنوایا، یہ بھی ایک دل چسپ اور محبت بھری کہانی ہے۔ بالکل اُسی طرح کی کہانی جس طرح شاہ جہاں نے اپنی محبوب ملکہ ممتاز کی یاد میں ’تاج محل‘ تعمیر کروایا تھا۔ شاہ جہاں نے تو ممتاز کے مرنے کے بعد تاج محل تعمیر کروایا تھا لیکن موہتہ نے یہ عمارت اپنی بیوی کو مرنے سے بچانے کے لیے بنوائی تھی۔ ہندوستان کے معروف نقشہ ساز آغا احمد حسین نے جے پور سے آکر اس عمارت کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔ انہوں نے جے پور فنِ تعمیر کے زیراثر اینگلو مغل انداز میں پیلے، گزری اور گلابی جودھ پوری پتھروں کے امتزاج سے یہ محل تعمیر کیا۔ اسے تعمیر کرنے کا مقصد کچھ اس طرح بتایا جاتا تھا کہ شیورتن موہتہ کی بیوی ایک مہلک بیماری میں مبتلا ہوگئی تھیں۔ ڈاکٹروں نے علاج تجویز کیا کہ اگر مریضہ کو مسلسل سمندر کی تازہ ہوا میں رکھا جائے تو وہ بالکل صحتیاب ہوسکتی ہیں۔ چنانچہ شیورتن موہتہ نے یہ شاندار محل نما بنگلہ کلفٹن میں تعمیرکروایا۔ گذشتہ صدی میں تعمیر کی جانے والی یہ خوبصورت اور دل کش عمارت 18,500اسکوائر فٹ رقبے پر محیط ہے۔

عمارتی رقبہ اور ڈیزائن

تقسیمِ ہند سے قبل اور بعد میں بھی کلفٹن کے علاقے میں اتنی وسیع و عریض عمارت تعمیر نہیں ہوئی۔ یہ تاریخی عمارت دو منزلوں پر مشتمل ہےاور دونوں منزلوں پر کُل ملا کر16کمرے بنائے گئے ہیں۔ پیلس میں داخل ہوتے وقت سب سے پہلے آپ کی نظر بیرونی حصے پر پڑتی ہے جسے خوبصورت، رنگارنگ اور نفیس کھڑکیوں، پتھر کی دیوار، محراب اور میناروں سے ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ منظر ایسا جاذب نظر ہے کہ کچھ ساعتوں کے لیے کوئی بھی شخص اسے دیکھ کر مبہوت ہوجاتا ہے۔ نچلی منزل پر کمرے آسائش اور رہائش کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ کمرے دیکھ کر یہ بالکل محسوس نہیں ہوتا کہ فردِ واحد کے لیے ان کی تعمیر کی گئی تھی۔ یہ تو تھا نچلی منزل کا ذکر، اس کی پہلی منزل بھی اپنی مثال آپ ہے۔ دورِ حاضر میں چونکہ اس عمارت کے ارد گرد کئی بلند و بالا عمارتین تعمیر ہوچکی ہیںتو اب یہاں سے سمندر کا نظارہ ممکن نہیںلیکن اس عمارت کی چھت پر جا کر مشاہدہ کیا جائے تو عین ممکن ہے کہ آپ کو سمندر کا نظارہ دیکھنے کومل جائے۔ گو بلند و بالا رہائشی عمارتوں نے موہتہ پیلس کو چہار جانب سے گھیر لیا ہے لیکن جس وقت یہ عمارت تعمیر ہوئی تھی، اُس وقت اس کے مکین نہ صرف گرمیوں میں سمندر کی ٹھنڈی ہواؤں کا لطف اُٹھاتے تھے بلکہ چھت پر بیٹھ کر سمندر کی سرکش لہروں کا نظارہ بھی کرتے تھے۔ چھت پر تعمیر کیے گئے گنبد کے اردگرد بنایا جانے والا خوش منظر احاطہ مکینوں کو شدید دھوپ سے محفوظ رکھنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ مرکزی گنبد کے علاوہ عمارت کے اطراف پانچ نفیس گنبد عمارت کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ عمارت کی چھت پر کیا جانے والا کام نقاشوں کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نقاشی کے ذ ریعے خوبصورت بیل بوٹوں کو منفرد انداز میں تر تیب دیا گیا ہے۔ ان میں مختلف انداز کے رنگ استعمال کیے گئے ہیں، جس میں آبی رنگ بھی شامل ہے۔ عمارت کے اطراف ایک خوبصورت اور وسیع باغیچہ بھی موجود ہے۔ اس کے اندر ایک میل لمبی سرنگ ہے جو مندر سے جاکر ملتی ہے، یہ عمارت اپنی پراسرار کہانیوں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔

1995 ء میں حکومتِ سندھ کے محکمۂ ثقافت کو یہ پیلس خریدنے اور اسے بحال کرکے میوزیم میں تبدیل کرنے کے لیے70لاکھ روپے دیے گئے تھے۔ محکمۂ ثقافت نے 61لاکھ روپے عمارت خریدنے کے لیے ادا کیے جبکہ باقی کی رقم عمارت کی تزئین و آرائش پر صرف کی۔ پیلس کی دیکھ بھال کے لیے ایک خودمختار بورڈ آف ٹرسٹینر بھی بنایا گیا۔ عمارت کی بحالی کے دوران اسے اس کے اصلی رنگ میں ڈھالنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ طویل عرصے سے جمی مٹی کی تہوں اور کالک کو صاف کیا گیا، تاکہ گلابی پتھر کا اصلی روپ نمایاں ہوسکے۔