’’خونی شاہراہ‘‘ تکمیل سے اب تک درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں

July 07, 2019
 

ڈگری کی مرکزی شاہ راہ جو حال ہی میں تعمیر ہوئی ہے، آج کل خونی اور قاتل سڑک کے نام سے شہرت حاصل کرتی جارہی ہے۔ٹریفک پولیس کی لاپروائی کی وجہ سے اس شاہ راہ پر قانون کی عمل داری کہیں نظر نہیں آتی۔ یہ شاہراہ اگرچہ ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہے لیکن ایک حصے پر ابھی بھی کام ہورہا ہے۔اندرون سندھ کے کئی شہروں اور اضلاع کو آپس میں مربوط کرنے والی مذکورہ شاہراہ کے افتتاح کے بعد سے لا تعداد ٹریفک حادثے ہو چکےہیں جن میں درجنوں افرادہلاک ہوئےجب کہ اس سے زیادہ تعدادزخمیوں کی ہے جن میں سے بہت سے معذوربھی ہو چکے ہیں۔ ہائی وے ذرائع کے مطابق کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن یہ شاہراہ انسانی بھینٹ نہ لیتی ہویا یہاں کوئی شخص زخمی ہوکر اسپتال نہیں پہنچتا ہو۔ ویسے تو سیاہ سلفیٹ کی شفاف اور ہموار سڑکیں اور ہائی ویز، کسی بھی ملک اورشہر کی تعمیر و ترقی میں شاہ رگ کاکردار ادا کرتی ہیں،مگر میرپورخاص سے میرواہ گورچانی،ڈگری، ٹنڈو جان محمد جھڈو، نوکوٹ کو صحرائے تھر کے علاقے مٹھی، اسلام کوٹ اور دیگر علاقوں سے ملانے والی یہ مرکزی شاہراہ ابھی حال ہی میںتعمیر ہوئی ہے جس کے ایک حصے پر ابھی بھی کام جاری ہے،جسے عوام کی سہولت کے لیے اسے کھول دیا گیا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس میں کچھ تعمیری نقائص بھی موجود ہیں جس میں محکمہ ہائی وے کے نجینئروں کی ناقص حکمت عملی اور غلط منصوبہ بندی کا عمل دخل زیادہ ہے۔ اس نئی سڑک پر ڈرائیور حضرات وحشیانہ انداز میں ڈرائیونگ کامظاہرہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے اب تک لاتعداد حادثات ہوچکے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ حادثات کا شکار ہوکر زندگی بھر کے لیے معذور ہونے والے افراد کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے ، ایس ایس پی ضلع میرپورخاص، جاوید احمد بلوچ نے اس شاہ راہ کا دورہ کیا اور اس پر تیز رفتار ڈرائیونگ کی حوصلہ شکنی کے لیے مختلف مقامات پر اسپیڈ بریکر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس کے افسران سے سے مشاورت کی ۔ اس کی روشنی میں انہوں نےمحکمہ ہائی وے اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا جس میں ایگزیکٹیوانجینئر اور ایس ڈی او ڈسٹرکٹ ہائی ویز بھی موجود تھے۔ایس ایس پی نے ہائی وے پر اسپیڈ بریکر بنانے کے لیے سفارشات پیش کیں جن پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ محکموں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی۔اس شاہراہ پر ٹریفک پولیس کی عدم موجودگی کے باعث بس اور کوچ کے ڈرائیور حضرات سواریوں کی جان کی پرواہ کیے بغیر تیزرفتاری اور اوور ٹیکنگ کا مظاہرہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں گاڑیوں پر قابو نہیں رہتا اور ہولناک حادثے رونما ہوتے ہیں۔

چند ماہ پیشتر،اس شاہ راہ پر سواریوں سے بھرا ہوا ٹرک الٹنے کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 80 افراد زخمی ہو گئےتھے ۔مذکورہ ٹرک میں مزدور سوار تھے جو اپنے اہل خانہ کے ساتھ ڈگری جا رہے تھے۔ زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر ڈگری اسپتال پہنچایا گیا جن میں سے کئی زخمی اب تک رو بہ صحت نہیں ہوسکے۔ تاحال ٹرک الٹنے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔چند روز قبل اسی سڑک پر ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سے سنہری اسٹاپ کے قریب ایک کار الٹ گئی جس میں سوار دو خوتین سمیت چار افراد قریبی واٹر کورس میں گر کر جاں بحق ہوگئے۔ موٹر سائیکل سوار اس شاہراہ پر ون ویلنگ ڈرائیونگ اور تیز رفتاری کےکمالات دکھاتے ہیں، جس کے باعث وہ حادثات کا شکار ہوکر یا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں یا عمر بھر کے لیے معذوری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس شاہراہ پر اپنے جوہر دکھانے میںچنگچی رکشہ اور فور سیٹررکشہ بھی پیچھے نہیں ہیں، وہ بھی لاپروائی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرکےاس میں بیٹھی ہوئی سوار یوں کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں۔

سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک، سندھ کے صدرندیم احمد نقشبندی، سندھی ہاری تحریک کے مرکزی صدر انور نوحانی، سندھ ترقی پسند پارٹی کے ضلعی صدر میر یونس تالپور اور دیگر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اس شاہ راہ پرٹر یفک قوانین پر عمل درآمد ، ڈرائیور حضرات کوقانون کا پابند کرنے کے لیے ٹریفک پولیس کی چوکیاں قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ سڑک پر دو طرفہ ٹریفک چلتی ہے اور غلط سائیڈ سے اوور ٹیکنگ کی وجہ سے سامنے سے آنے والے گاڑیاں آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔ اس شاہراہ کو فوری طور سے ون وے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح کراچی، حیدرآباد روڈ اور حیدرآباد میرپورخاص روڈ کے درمیان سڑک کو ون وے بنانے کے لئے درمیان میں دیوار بنائی گئی ہے، اسی طرز پر میرپورخاص سے میرواہ گورچانی ،میرواہ گورچانی سے ڈگری، ڈگری سے ٹنڈو جان محمد اورر جھڈو،نوکوٹ اور مٹھی تک اس شاہراہ کے درمیان دیوار بناکراسے ون وے کیا جائے۔مذکورہ شاہراہ پر سفر کرنے والے افراد کو حادثات سے محفوظ رکھنے کے لیےسڑک کےٹریفک سائن کے بورڈزاور ریفلکٹر لگائے جائیں۔