Advertisement

’’چویاری‘‘ تالپور خاندان کا منفرد طرزِ حکمرانی

July 30, 2019
 

سندھ میں تالپور خاندان کی حکمرانی کا آغاز کلہوڑا خاندان کی حکومت کے خاتمے سے ہوا۔ بلوچستان سے آکرسندھ میں بسنے والے تالپور سرداروں نے کلہوڑا فوج میں خدمات انجام دیتے ہوئے ان کی حکومت کے استحکام میں فقید المثال کردار ادا کیا تھا۔ 1775ء میں میر بہرام خان کے قتل کے بعد تالپور خاندان نے کلہوڑا حکم رانوں کے خلاف بغاوت کر دی اوران کا تختہ الٹ دیا۔ 1783ءمیں میر خان تالپور نے بالائی سندھ پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا۔ انہوں نے سندھ کے کلہوڑا حکمرانوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے مگر ابھی بھی وہاں پر عدم استحکام کی صورت حال تھی ۔ اس موقع پر کابل کے حکمران تیمور شاہ نے تالپوروں کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ انہوں نے بار بار کی جنگ و جدل اور آپس کی لڑائی سے تنگ آکر 1783ءمیں تالپوروں کے حکمران میر فتح علی خان کو عرب گھوڑوں کا تحفہ اور روب آف آنر پیش کیا اس کے ساتھ ہی سند حکمرانی بھی عطا کر دی ۔سندحکمرانی عطا ہوتے ہی کلہوڑا خاندان کا سورج سندھ میں غروب ہوگیا اور یوں 1783ءمیں میر فتح علی خان تالپور نے افغان بادشاہ تیمور شاہ کی آشیر واد ملنے کے بعد سندھ پر اپنی حکمرانی قائم کر لی۔ ان کا اقتدار 60سال تک قائم رہا ۔ میر فتح علی خان تالپور، جنہوں نے 1782ء میں اپنے خاندان کی سلطنت کی بنیاد رکھی تھی ان کے والد کا نام میر صوبیدارار خان تالپورتھا۔ تالپور سردارکے قتل کے بعد بلوچوں نے میر فتح علی خان کی تاج پوشی کی اور ان کی سرکردگی میں کلہوڑوں سے جنگ کی۔ یہ لڑائی، جنگ ہالانی کے نام سے مشہور ہے۔ اس موقع پر بہت سے بلوچ اس وقت تک کلہوڑوں سے لڑنے کے لئے تیار نہ تھے، جب تک ان کو یہ یقین نہ دلایا گیا کہ اب کبھی حکومت کلہوڑوں کو واپس نہیں ملے گی۔ میر سہراب خان تالپور بھی اس موقع پر ایک بہت بڑا لشکر لے کر آئے تھے۔ ہالانی کی فیصلہ کن جنگ کے بعد میرفتح علی خان، نوشہرو فیروز میں آکر رہائش پذیر ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے فوجی عملداروں اور سپاہیوں کو انعام و اکرام سے نوازا۔

میر فتح علی خان تالپور، میر شہداد خان کی اولاد میں سے تھے۔ ان کا ارادہ تھا کہ شہدادانی تالپوروں کا آپس میں اتفاق ہو اور خاندانی اثر مضبوط رہے، اس لئے انہوں نے عجیب منصوبہ بنایا۔ اپنے چھوٹے بھائیوں میر غلام علی خان تالپور، میر کرم علی خان تالپور، میر مراد علی خان تالپور کو اپنے ساتھ حکومت میں شامل کیا جوکہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا طرز حکمرانی ہے، جہاں ایک ہی جگہ ایک ہی ملک پر بیک وقت چار حکمران ہوں، اس طرز حکومت کو ’’چویاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ اتفاق دشمنوں کے لئے پریشانی کا باعث تھا۔ بڑے ہونے کے ناتے سے میر فتح علی خان تالپور کا اثر رسوخ تھا۔ یہ چویاری سات برس تک قائم رہی۔ اس نظام کے بعد میر فتح علی خان تالپور نے اپنے خاندان میں ملک کی تقسیم کرکے خاندان کو نفاق سے بچایا۔ سندھ کے پانچ حصے کئے۔ خیرپور والا حصہ میر سہراب خان تالپور کو، میر پور خاص والا حصہ میر ٹھارو خان کو، لاڑ (زیریں سندھ) والا حصہ میر باگو خان کو دیا، باقی دو حصے اپنے پاس رکھے۔ ایک حصہ تقسیم کے مطابق دوسرا حصہ دستار بند ہونے کا۔ میر باگو خان اپنے حصہ پر حکومت چلا نہ سکے، جس کے سبب میر فتح علی خان نے وہ حصہ بھی اپنے پاس رکھا۔ سندھ کے عوام اس کو ’’سندھ کا رئیس‘‘ کہتے تھے۔ اپنی وفات سے کچھ عرصہ قبل اس نے وصیت کرکے ملک دو حصوں میں تقسیم کیا۔ آدھا میر غلام علی خان تالپور کو باقی آدھے میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں میر کرم علی خان تالپور اور میر مراد علی خان تالپور کو شریک کرلیا۔ ان انتظامات کے باعث جب بھی کوئی مشکلات ہوتیں تو سب اکٹھے ہوتے تھے۔

سندھ کی حکومت کی اس تبدیلی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جودھ پور کے راجہ نے اپنی فوج عمرکوٹ پر چڑھائی کے لئے بھیج دی۔ جنگ ہالانی کے بعد بلوچوں کا لشکر بکھر گیا تھا، لیکن پھر بھی میر فتح علی خان تالپور نے کچھ لشکر میر غلام محمد خان تالپور کی قیادت میں مقابلے کے لئے بھیجا جو بہت بہادری سے لڑا، میر غلام محمد خان تالپور ، شہید ہوگئے۔ راجپوت راجہ واپس چودھ پور چلا گیا، لیکن پھر بھی عمرکوٹ پر راجپوتوں کا قبضہ برقراررہا۔ یہاں میر فتح علی خان تالپور اپنی حکومت کو مضبوط کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ کلہوڑا حکم راں میاں عبدالنبی،تالپوروں سے مقابلہ کرتے ہوئے جنگ ہالانی میں شکست کھا کر قلات کے حاکم نصیر خان کے پاس پہنچا اور مدد کی درخواست کی۔ نصیر خان نے پہلے تو انکار کیا، لیکن بعد میں اس کا ساتھ دینے پر راضی ہوگیا۔ اس وقت نصیر خان نے میر فتح علی خان تالپور کو اپنی مجبوری کا سارا احوال لکھ بھیجا کہ، قلاتی لشکر میاں عبدالنبی کو صرف خدا آباد تک پہنچائے گا، اس کے بعد آپ جانیں اور میاں عبدالنبی، ہم اس تنازعے میں دخل اندازی نہیں کریں گے۔ میر صاحب نے اس خط کے جواب میں خان آف قلات کو سختی سے لکھا کہ اس کی فوجیں میاں کو خدا آباد پہنچا دیں، لیکن وہ کسی بھی حالت میں دریا پار نہ کریں۔ میاں لشکر لے کر سیہون آیا تو قلاتیوں نے اس سے کھانے پینے کا خرچ مانگا لیکن میاں عبدالنبی کے پاس پیسہ کہاں سے آتا اس نے چاہا کہ بروہی بھی پٹھانوں کی طرح لوٹ مار کریں، مگر انہوں نے انکار کردیا اور میاں کا ساز و سامان لوٹ کر واپس قلات لوٹ گئے۔ اب میاں عبدالنبی نےخود کو اکیلا پاکر شمال کی جانب رخ کیا اور تیمورشاہ کی خدمت میں پہنچا۔ تیمور نے اس کا حال سن کر اپنی ایک بڑی فوج بوستان خان اور اخلاص خان کی سرکردگی میں سندھ پر چڑھائی کے لئے روانہ کردی۔ میر صاحب نے جب پٹھانوں کی آمد کی خبر سنی تو روہڑی میں آکر پڑاؤ ڈالاکہ اچانک تیمور شاہ نے اپنے سرداروں کو واپس آنے کا حکم دیا۔ کیونکہ قندھار کی جانب جنگ کے آثار نظر آرہے تھے، اس طرح میاں اس مہم میں بھی ناکام ہوا۔ اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میاں عبدالنبی دوبارہ تیمور شاہ کے پاس حاضر ہوا، جس پر تیمور شاہ نے احمد خان نوروزئی کی قیادت میں ایک فوج روانہ کی۔ سکھر کے قریب ان کا مقابلہ تالپوروں کے ساتھ ہوا، جس میں پٹھان فوج کو شکست ہوئی ۔ اس موقع پر خدا آباد میں جشن منایا گیا۔ کچھ عرصے بعد تیمور شاہ بھی فوت ہوگیا اور قندھار صرف جنگ کا مرکز بن کر رہ گیا، جس کی وجہ سے میاں عبدالنبی ہمیشہ کے لئے پٹھانوں کی مدد سے مایوس ہوگیا۔

کلہوڑوں کی طرف سے قلعے کا نگہبان شالمیں شیدی نامی شخص تھا۔ میاں عبدالنبی کی ناکامی کا اثر قلعے کے بہادر نگہبان پر نہ ہوا اور اس نے قلعے کو فوجی لحاظ سے مضبوط کرکے مقابلے کی تیاری شروع کردی۔ میر صاحب نے بھی اپنے دلیر سردار حاجی احمد کی سرکردگی میں لشکر روانہ کردیا۔ شالمیں نے قلعے کے دروازے بند کروا دئیے۔ اس طرح تقریباً دو برس تک قلعے کے گرد تالپوروں کی فوج کا محاصرہ رہا۔ آخرکار مرڑانی قوم کے لوگوں کو حاجی احمد نے اپنے ساتھ ملایا اور بارود سے آگ لگوا دی، جس سے قلعےکی ایک دیوار منہدم ہوگئی۔ حاجی احمد قلعے میں داخل ہوگیا اور شالمیں شیدی کو گرفتار کرکے میر صاحب کے پاس روانہ کردیا۔ میرصاحب نے بھی شالمیں شیدی کی وفاداری کی قدر کرتے ہوئے اسے کرسی پر بٹھایا۔ ایک روایت کے مطابق میر صاحب نے اسے پھانسی پر چڑھایا، اور دوسری روایت کے مطابق اسے آزاد کردیا گیا اوروہ بعد میں میاں عبدالنبی سے مل گیا۔ بہاولپور کے رئیس فضل علی دائود پوتا کو بختیار دائود پوتا نے ملک بدر کردیا اور وہ میر صاحب کے پاس مدد کے لئے آیا۔ میر صاحب کو اس کے احسانات یاد تھے، اسی لئے انہوں نے ایک بڑے لشکر کے ساتھ بہاولپور پر چڑھائی کردی۔

میر فتح علی خان تالپور نے جنگی کارروائیوں سے فارغ ہوکر ملکی انتظامات کی طرف توجہ دی انہوں نے خدا آباد سے دارالسلطنت حیدرآباد منتقل کیا۔ قلعے کو درست کروایا گیا اور پھر وہ اپنے کنبے کے ساتھ حیدرآباد میں رہائش پذیر ہوئے۔ انہوں نے تھر میں دو مضبوط قلعے تعمیر کروائے، جنہیں ’’اسلام کوٹ‘‘ اور ’’نٹوں کوٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سکرنڈ کی جھیل کے قریب انہوں نے ایک عالیشان محل تعمیر کروایا، جس میں وہ خود اور ان کے بعد میر صاحبان رہتے تھے۔ میر فتح علی خان ایک بہادرسالار تھے، انہوں نے اپنی تلوار کے زور پر سندھ کو فتح کیا اور امن و امان کو بحال کیا، رعایا سے ان کا برتاؤ بہت اچھا تھا۔اس دور میں سندھ میں امن و امان کا دور دورہ تھا۔ میر صاحب سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے۔ 10؍محرم 1217ھ کی شب جب میر صاحب اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے، سجاول نامی خادم نے فرزند کی ولادت کی اطلاع دی ۔ انہوں نے الہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اوراقنے نوموود بیٹےکا نام اپنے شہید باپ کا نام میر صوبیدار خان تالپور دیا، کیونکہ ان کے بدن میں اتنی طاقت نہ تھی کہ بیٹے کو دیکھ سکیں۔ اسی وقت بے ہوش ہوگئے اور پھر خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی تدفین، ان کی وصیت کے مطابق خدا آباد کے قبرستان میں کی گئی۔ ان کی قبر پر عالیشان مقبرہ تعمیر ہوا، جوکہ زمانہ کی چیرہ دستیوں کے باعث اجڑ گیا ہے۔ میر صاحب کا مقبرہ نیشنل ہائی وے پر ہالاسے تقریباً دو کلو میٹر کے فاصلے پر مغرب کی طرف ہے،جہاں تالپور خاندان کے نامور سردارابدی نیند سو رہے ہیں۔

اس تاریخی قبرستان کے گنبد، مسجد، بارہ دری اور قلعہ آج شکستہ حالت میں موجود ہیں اور اپنی حالت پر نوحہ کناں ہیں۔ اہم عمارت بڑا گنبد ہے جو سندھ کے صوفی شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مقبرے کی طرز پر بنا ہوا ہے۔ باہر سے چونے اور ریتی کے گچ کا بنا ہوا ہے اور سندھی کاشی گری سے مرصع ہے لیکن اس کی بہت سی اینٹیں لوگ اکھاڑ کر لے گئے ہیں۔ اس عمارت کے اندر فرش سے لے کر چھت تک پتھرسے تعمیراتی کام کیا گیا ہے، جس پر پھول منقش ہیں اور قدیم طرز تعمیر کے طور پر ہوا کے گزر کے لئے بادبان بنے ہوئے ہیں جس سے اندر تازہ ہوا آتی ہے۔ چاروں اطراف میں آئینے لگے ہوئے ہیں جوکہ روشنی کو منعکس کرتے ہیں۔ باہر کے دروازے کے پٹ بھی زمانے کی دست بردسے محفوظ نہ رہ سکے۔ اندر ایک بڑے پلیٹ فارم پر پانچ مزار ہیں۔ تین مردوں کےاور دو عورتوں کے ہیں۔ مردوں کے مزار پر فارسی زبان میں عبارتیں درج ہیں۔ گنبد کے نیچے ٹائلز کی جالیاں ہیں۔ گنبد بڑا کشادہ اور سالم حالت میں ہے۔ اندر فرش چوکور سفید اینٹوں کا بنا ہوا ہے۔ اس عمارت سے باہر نکلیں تو سامنے مشرق کی طرف دو اور عمارتیں نظر آتی ہیں۔ ایک تو چوکور گنبد ہے وہ بھی اس طرز تعمیر پر کہ اندر مزار کے تعویز اکھڑے ہوئے ہیں اور چاروں طرف سے دروازے ہیں۔ یہ مزار بھی پتھر کے پلیٹ فارم پر بنے ہوئے ہیں۔ ان کے سامنے جنوب کی جانب دو بارہ دریاں ہیں جن میں تالپور خاندان کے چھوٹے شہزادوں کی قبریں ہیں۔ یہ سب پتھر کی بنی ہوئی ہیں اور ان پرنقش و نگاری کا کام کیا گیا ہے اور قرآنی آیات کندہ ہیں۔ ان بارہ دریوں کے ساتھ ہی پتھر کا وہ جنگلا بھی نظر آئے گا جو ان عمارتوں کے گرد تھا اور اس میں سیڑھیاں بھی تھیں۔ پھر تھوڑا سا جنوب کی طرف چلیں گے تو شہر کی عالم پناہ کا دروازہ بھی نظر آئے گا۔ مغرب کی طرف دو نامعلوم مزار ہیں جن میں ایک سالم حالت میں اور ایک شکستہ حالت میں ہے۔ یہ دونوں پلیٹ فارم پر بنے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی تین بارہ دریاں اور بھی ہیں جن میں سے ایک میں دو، دو اور دو میں ایک، ایک مزار ہے۔ ساتھ ہی پختہ اینٹوں کی بنی ہوئی ایک کوٹھی بھی ہے جس کی خزانہ کی تلاش کرنے والوں نے کھدائی کی تھی ان مزاروں پرقرآنی آیات کندہ ہیں۔ تعویز پتھر کا ہے جب کہ بارہ دری کا ایک بھی گنبد سالم حالت میں نہیں ہے۔اس سے آگے چلیں گے تو جامع مسجد ہے جو آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے ۔اس مسجد کا باہر سے صرف ایک دروازہ ہے، سیڑھیاں پتھر کی بنی ہوئی ہیں۔ دروازہ کے اوپر نیلے رنگ کی جالی ہے۔ اندر داخل ہوں گے تو صحن اور اذان کے لئے پلیٹ فارم نظر آئے گا پھر اندر تین دروازے ہیں ، جن کے پٹ ندارد ہیں۔ اندر دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار اور بیل بوٹے ہیں جو آج بھی سالم حالت میں موجود ہیں باقی تعمیرات کے برخلاف تمام مسجد چونے کی بنی ہوئی ہے۔ اندر گنبدوں پر بہت نفیس رنگ کیا ہوا ہے۔ مسجد کے تین گنبد اور چار چھوٹے مینار ہیں۔ تینوں گنبد آٹھ کونوں والے پلیٹ فارم پر بنے ہوئے ہیں۔ مینار ٹوٹے ہوئے ہیں۔ صحن اور فرش پر چونے کا پلاسٹر ہے۔ اندر چھوٹا سا منبر بھی ہے۔مسجد کے باہر ایک کنواں ہے جوکہ وضو کے لئے کام آتا ہو گا۔یہ تمام کھنڈرات سیلاب سے بچائو کے لئے بند کے اندر ہیں۔ باہر چانڈیو گوٹھ میں جس کے صرف دو برج محفوظ ہیں، میں آ گیا ہے۔ خدا آباد سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر گوٹھ کوریجہ کے نزدیک ایک بڑا ٹیلہ ہے جس کو نوشہرہ کہتے ہیں، یہ تالپور حکمرانوں کی شکارگاہ تھا۔


مکمل خبر پڑھیں