ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکی سے تجارتی جنگ کے طویل ہونے کا خطرہ

August 26, 2019
 

شنگھائی: ٹام ہینکوک

واشنگٹن: جیمز پولیتی

چینی درآمدات پر نئے ٹیرف کی دھمکی کے ذریعے ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے ساتھ اپنی تجارتی جنگ میں اپنے کاروباری مفادات کو داؤ پر لگانے کی کوشش نے اس تنازع کے خاتمے کے لئے معاہدے کے امکان کو بعید از قیاس کردیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جمعہ کو 3 سو ارب ڈالر مالیت کی درآمدات پر ٹیرف کی دھمکی نے مارکیٹ کو پریشان کردیا،گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے والے دو طرفہ تجارتی مذاکرات،جسے دونوں جانب سے ’تعمیری‘ قرار دیا گیا تھا، کے بعد سے پیدا ہونے والےسکون کو تباہ کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سوال پرکہ اچانک نئے ٹیرف کے ساتھ انہوں نے چینی صدر سے ملاقات کیوں کی تھی، امریکی صدر نے جواب دیا کہ چینی صدر شی جنگ پنگ کی رفتار کافی سست تھی۔

چین نے جوابی کارروائی کا عزم کیا اور اسی ہفتے جتنا جلد ممکن ہوسکا اس کا جواب آسکتا ہے۔

2008 کے عالمی اقتصادی بحران کے بعد پہلی بار چین کے مرکزی بینک نے 7 رینمینبی فی ڈالر سے زیادہ کر نسی کو کمزور ہونے دیا، اس بنیاد کی خلاف ورزی کی جس کا وہ پہلے دفاع کرتا تھا۔ بینک آف چائنا نے اس اقدام کیلئے تجارتی تحفظ پسندی اور چینی اشیاء پر ٹیرف کو مورد الزام ٹھہرایا۔

امریکی محکمہ تجارت کےسابق سینئر اہلکار اور واشنگٹن میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ میں خدمات انجام دینے والے وینڈی کٹلر نے کہا کہ چین اب مزید سخت گیر بن رہا ہے۔میرے خیال میں ایک دوسرے کو قریب لانے کیلئے یہ معاہدہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

دونوں ممالک کے تجزیہ کار وں کا سوال ہے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کام کررہی ہے ، جبکہ انہوں نے گزشتہ سال متعدد بار نئے ٹیرف کی دھمکی دے کر چین پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے،دانشورانہ املاک اور صنعتی پالیسی جیسے خاردار مسائل جو امریکا کے لیے اہمیت کے حامل ہیں گزشتہ سال کے مقابلے میں قدرے حل ہوتے نظر آتے ہیں۔

نانجنگ یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ژو ہو فینگ نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو کافی جلدی ہے جبکہ چین محتاط منصوبہ بندی کے بغیر کسی معاہدے پر دستخط نہیں کرنا چاہتا ہے۔ ملک میں بیجنگ سے سخت گیر ہونے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔چین پہلے ہی اضافی ٹیرف کے لیے تیار ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کہا کہ امریکا کو امید ہے کہ چین اپنی اقتصادی ترقی جو نوے کی دہائی کے بعد سے اب تک سست ترین رفتار پر آ گئی ہے، پر ٹیرف کے اثرات کے حوالے سے خوف کی وجہ سے مراعات دینے پر مجبور ہوگا۔27 سال میں یہ اس کا بدترین سال ہے۔

شماریات کے قومی بیورو کے مطابق پہلی ششماہی میں چین کی معاشی نمو 3.6 فیصد بتائی گئی تھی،برآمدات کی بجائے بنیادی طور پر اس کا انحصار ملکی طلب، کھپت اور سرمایہ کاری میں توسیع پر ہے۔پہلی ششماہی میں معاشی نمو کا 60 فیصد ملکی کھپت پر مشتمل رہا۔

آکسفورڈ اکنامکس کنسلٹنسی کے مطابق اس کے نتیجے میں ، 300 ارب ڈالر کی برآمدات پر ڈونلڈ ٹرمپ کے ستمبر سے 10 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے اعلان سے توسیع کی رفتار کو محض 1.0 فیصد کم کرنے سے چین کی معاشی نمو پر نسبتاََ معمولی اثر پڑے گا۔

صدر شی جنگ پنگ کی زیر صدارت چین کی پولیٹ بیورو اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس، جس میں پورے سال کی اقتصادی ترجیحات کے اعلان نے معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ میں کمی کو بیان کیا، لیکن انہوں نے کہا کہ خطرات کو سنبھالا جاسکتا ہے۔

بیجنگ نے سال کے آخر پرٹیکس میں کٹوتی اور انفرااسٹرکچر کیلئے فنڈ میں اضافہ متعارف کرایا، تاہم آئندہ چند مہینوں میں مزید کارروائی کے لئے گنجائش چھوڑنے کے محرک اقدامات کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔

ٹی ایس لمبارڈ میں ماہر معاشیات ہو زہانگ، جن کا ذاتی نظریہ ہے کہ ٹیرف کے دور کے خطرے سے چین کی ترقی میں 15.0 فیصد کی کمی واقع ہوسکتی ہے،نے کہا کہ اگر ٹیرف کا دور جاری رہتا ہے اور یہ چند ماہ سے کچھ عرصہ زیادہ رہتا ہے تو یہ زیادہ جارحانہ محرک پیدا کرسکتا ہے۔

محرک چین کی کرنسی کی قدر میں کمی کے دباؤ میں اضافہ کرے گا،جو فی ڈالر 7 رینمبی کی اہم نفسیاتی حد کے قریب ہے۔تاہم بیجنگ جس کے پاس 1.3 ٹریلین ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں،گھبراہٹ نظر نہیں آتی۔چین کے مرکزی بینک کے سربراہ نے حد کو محض ایک نمبر کہا۔

ہو زہانگ نے مزید کہا کہ اگر تجارتی مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہ ہوئی تو سال کے اختتام سے پہلے یوآن 7 درجے کم ہوسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعہ کا امکان نہیں ہے کہ پورے سال شرح نمو 6 سے 5.6 فیصد کے حصول کے چین کے ہدف کو کوئی خاص دھچکا لگے۔

جون میں چین نے 60 ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات پر25 فیصد تک ٹیرف کا اضافہ کیا اور ممکن ہے کہ مزید محصولات میں اضافے سے گریزاں ہو کیونکہ متعدد امریکی درآمدات ایسی ہیں جو ایسی مصنوعات بنانے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جنہیں چین برآمد کرتا ہے۔

تاہم امریکی مینوفیکچررز کی جانب سے استعمال ہونے والی نایاب دھاتوں کی برآمدات پر پابندی عائد کرنے کیلئے ’’ناقابل اعتبار اداروں‘‘ کی حال ہی میں اعلان کردہ بلیک لسٹ نافذ کرنے سے لے کر جوابی کارروائی کیلئے چین کے پاس متعدد دیگر آپشنز ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نےگزشتہ ہفتے یہ کہہ کر کہ اگر وہ ہمارے ساتھ مزید تجارت نہیں کرنا چاہتے تو میرے لیے بہتر ہوگا،پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ ظاہر نہیں کیا۔

تجارتی جنگ امریکی مینوفیکچررز کو متاثر کرنے کی تمام علامات کے باوجود جولائی کے لئے ملازمتوں کے نسبتاََ مستحکم اعدادوشمار سے ڈونلڈ ٹرمپ کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ فیڈرل ریزرو نے تجارتی جنگ کے اثرات ختم کرنے کے حصے کے طور پر گزشتہ ہفتےامریکی شرح سود میں کمی کردی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ فیڈرل ریزرو کو شرح سود میں مزید کمی کرنا چاہیے۔

بیجنگ کو توقع ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو طویل المدتی مزید ملکی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ستمبر میں عائد ہونے والے نئے ٹیرف سے صارفین کے سامان کی درآمدات متاثر ہوںگی، جس سے طرز زندگی کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے،جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ 2020 کے صدارتی انتخابات کے لئے کمر بستہ ہیں۔

اگرچہ بیجنگ نے تجویز دی ہے کہ وہ تازہ ترین دھمکی کے ردعمل میں تجارتی مذاکرات کو معطل کردے گا،تاہم اس سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا امکان ہے۔

ڈچ بینک آئی این جی میں ماہر معاشیات آئرس پانگ نے تحریر کیا کہ اس تجارتی جنگ کی شدت میں چین کی حکمت عملی مذاکرات کی رفتار کو سست کرنا ہوگی۔اس سے انتقامی کارروائی کا عمل آئندہ امریکی صدارتی انتخابات تک طویل ہوسکتا ہے۔کیا یہ انتخابات میں مداخلت تصور ہوگی؟ٹھیک ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے، محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔