Advertisement

ایک دوسرے پر گند اْچھالنے والے شہر کا گند کب صاف کریں گے؟

August 29, 2019
 

کسی بھی ملک میں عوام کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے لوکل گورنمنٹ ہوا کرتی ہے۔ ہمارے ملک میں بھی لوکل گورنمنٹ کا نظام موجود ہے، لیکن خاص طور پر صوبہ سندھ میں لوکل گورنمنٹ اور صوبائی حکومت کے درمیان اختیارات کی جنگ نے کراچی شہر کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، بلدیہ فنڈز نہ ہونے کا رونا روتی ہے تو صوبائی حکومت اپنی اجارہ داری ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ ان حالات میں عوام کس سے فریاد کریں؟ کراچی کی حالت دیکھ کراس کے وہ ایام یاد آنے لگتے ہیں، جن کا تذکرہ ہمارے بزرگ کرتے رہتے ہیں اور آہ بھرتے ہیں۔اس شہر کی بربادی کی داستان لکھی جائے تو لکھنے والے کو برسوں لگ جائیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ ہی اسے ایک نئی داستان لکھنی پڑے۔

شہرقائد کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی، شہر میں گندگی، کچرے اور تعفن کی صورتحال اب بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے، گندگی و غلاظت سے اٹھنے والاتعفن صحت کے مسائل پیدا کررہا ہے لیکن کوئی شنوائی نہیں ۔شہری یہ عذاب گزشتہ کئی سال سے بھگتنے پر مجبور ہیں ۔موسلادھار بارش اور عیدالاضحیٰ کو کئی دن گزر گئے، مگر کئی علاقوں میں بارش کا پانی اور جانوروں کی آلائشیں ابھی مکمل طور پر صاف نہیں کی گئیں، جس کی وجہ سے مکھیوں اور مچھروں کی بہتات ہے۔ شہری، صوبائی اور وفاقی نمائندے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں میں مصروف ہیں۔سیاسی بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک دوسرے پر گند اْچھالنے والے شہر کا گند کب صاف کریں گے؟

کراچی شہر کی سڑکوں پر دن بدن بڑھتا کوڑا کرکٹ اور کچرے کا ڈھیر اور اس سے اٹھتی بدبو اور تعفن شہری انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے اور اگر یہی حال رہا تو پھر یہی کہنا پڑے گا کہ:

اسی کچرے پہ چل کے اگر آسکو تو آؤ

میرے شہر کراچی میں کہیں کوئی صفائی نہیں ہے

بلدیاتی اداروں کے دفاتر میںشہریوں کی طرف سے بارہا شکائتیں کی جارہی ہیں لیکن کوئی سنے والا ہی نہیں ہے۔گندگی‘ کوڑے کے ہاتھوں جو حال کراچی کا ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اس وقت کراچی ایک المیے سے دوچار ہے، ویسے یہ شہر ناپرساں کب کسی المیے سے دوچار نہیں رہا۔ لوگ ان بدبودار بھبھکوں سے اٹے کوڑے کے ڈھیروں پر رہتے ‘ آتے جاتے ‘ سانس لیتے‘ زندگی بسر کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شہریوں سے جینے کا حق چھین کر انہیں ان غلاظت کے ڈھیروں میں ہی دفن کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سیوریج کا نظام مکمل تباہ، سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکارہیں بلدیاتی اداروں کی کارکردگی صفر بٹا صفر ہے۔

تعلیمی اداروں کے قریب کچرے اور گندگی کے ڈھیر ایک افسوسناک پہلو ہے۔ نارتھ ناظم آباد بلاک این میں گرلز کالج کی دیوار کے ساتھ کچرے کا انبار لگا ہےجو لگتا ہے دیوار عبور کر کے کالج کے اندر چلا جائے گا۔ آفرین ہے اس کالج کی طالبات پر جو اس تعفن زدہ ماحول میں تعلیم حاصل کر ر ہی ہیں۔ یہ تو ایک کالج کا ذکر ہے ایسے بہت سے تعلیمی ادارے ہیں جن کے اطراف میں کچرے کے ڈھیر اور سیوریج کا گنداپانی جمع رہتا ہے۔کچی بستیوں کا احوال تو نہ پوچھیے کوئی نہیں ہے جو ان کی داد رسی کرے ۔ گندگی اور غلاظت کی وجہ سے یہ بستیاں مختلف بیماریوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں۔ ہر علاقے کے کلینک اور اسپتال مریضوں سے بھرے پڑے ہیں ،پہلے ہی عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے ۔ غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی پوری کرنا مشکل ہو رہا ہے اوپر سے ڈاکٹر کی فیس اور ادویات کا خرچہ ، عوام کرے تو کیا کرے۔

بعض اوقات تو ایسا لگتا ہے کہ شہری اداروں نے اپنے تمام قواعد و ضوابط بھی کسی کوڑے دان میں پھینک دیے ہیں۔ماحول انسانی مزاج، فکر اور اقدار پر بھی بہت گہرے اثرات چھوڑتا ہے، کراچی جو پہلے ہی کرچی کرچی تھا، اب کچراچی بن چکا ہے۔

بندر روڈ جس کی ایک زمانے میں ہر روز دھلائی ہوتی تھی، اب وہاں سے واپس آو ٔ تو اپنے ہاتھ منہ اور کپڑے دھونے پڑ جاتے ہیں۔ کراچی کے ساحل جہاں چاندی کی سی شفاف لہریں آتی جاتیں تھیں اب وہ لہریں ہمارے پاؤں چھونے سے پہلے کسی چپس کے خالی پیکٹ کو چومتی ہوئی سیگریٹ کی خالی ڈبی سے ٹکرا جاتی ہیں۔

کراچی کو کچرے سے پاک اسی وقت کیا جاسکتا ہے جب کراچی پر اپنا حق جتانے والے تمام سول ادارے خواہ وہ وفاقی ہوں، صوبائی یا شہری، سب کی ایک ہی پالیسی ہو۔ خاکروب سے لے کر انجینئرز تک ہزاروں ورکرز ملیں، جدید ٹیکنالوجی ملے معیاری مشینری ملے اور کراچی میں آبادی سے ذرا پرے اس کا ہیڈ کوارٹر بنایا جائے۔ کرنے والوں کا ارادہ ہو تو کچھ بھی ممکن ہے۔

کراچی میں سرفہرست مسئلہ ’سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ یا شہر میں پیدا ہونے والے کچرے کو اٹھانے اور اسے ٹھکانے لگانا ہے، جس پر سندھ حکومت نے کئی ارب روپے لگائے۔ لیکن، اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

شہر کے چھ اضلاع میں سے چار میں دو چینی کمپنیوں کو ’سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ‘ نے کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ دے رکھا ہے، جب کہ باقی دو اضلاع سے ضلعی میونسپل کارپوریشنز کچرا اٹھاتی ہیں۔

چینی کمپنیوں کو اوسطاً 30 ڈالرز فی ٹن کچرا اٹھانے کا ٹھیکہ دیا گیا۔ لیکن ادائیگیوں کے باوجود ان کمپنیوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی، جس کے باعث حال ہی میں چینی کمپنی 'ہینگزوجن جیانگ سے کراچی اٹھانے کا معاہدہ ختم کیا گیا ہے۔کنٹریکٹ کمپنیوں کو کئی بار معاوضے کی تاخیر سے ادائیگی کی وجہ سے بھی کچرا اٹھانے کا کام سست روّی کا شکار رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں کو کچرا اٹھانے کے لیے دیے گئے ٹھیکے، صوبائی حکومت کو 12 گنا مہنگے پڑ رہے ہیں، جب کہ رقم بھی غیر ملکی کرنسی یعنی امریکی ڈالر میں ادا کی جا رہی ہے۔ لیکن، اس سب کے باوجود بھی یہ مطلوبہ نتائج دینے کو تیار نہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کراچی میں 12 ہزار ٹن سے زائد کچرا روزانہ پیدا ہوتا ہے۔ لیکن، اس میں سے بمشکل 50 سے 60 فیصد ہی اٹھایا اور باقاعدہ ٹھکانے لگایا جاتا ہے۔باقی کچرا شہر کے گلی کوچوں، چوراہوں یا پھر ندی نالوں میں پھینک دیا جاتا ہے، جس سے وہ نالے برسات کے موسم میں اُبل پڑتے ہیں اور نتیجتاً بارش کا پانی قریبی آبادیوں، سڑکوں اور گلیوں میں جمع رہتا ہے اور پھر بارشوں میں شہر بھر کا نظام درہم برہم نظر آتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلدیہ عظمٰی کی کچرا اٹھانے والی سینکڑوں گاڑیاں کھڑی کھڑی ناکارہ ہو چکی ہیں یا پھر انہیں چلانے کے لیے ایندھن کے پیسے موجود نہیں۔ اس مد میں ملنے والے فنڈز میں مبینہ کرپشن کی شکایات بھی زبان زد عام ہیں۔معاملہ صرف یہی نہیں، بلکہ کراچی کی انتظامی تقسیم بھی پیچیدہ ہے۔ شہر میں 6 اضلاع کے علاوہ، دیہی کونسلز، پانچ کنٹونمنٹ بورڈز، ریلوے، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور دیگر اداروں کی اپنی زمینیں اور وہاں آبادیاں ہیں۔ان تمام اداروں میں شہریوں کے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے آپس میں کوئی رابطے یا مشترکہ حکمت عملی کا بھی فقدان ہے۔ادھر شہر میں صفائی ستھرائی کی ناقص صورت حال کے باعث شہریوں بالخصوص بچوں میں ٹائیفائیڈ، پیٹ میں درد اور اس سے ملتی جلتی بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔آپ دنیا کے بہترین خشبویات کا استعمال کر لیں لیکن جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور ابلتے گندے نالوں کے تعفن کا مقابلہ پھر بھی نہیں کرسکتے۔ نہ جانے وہ وقت کب آئے گا جب پھر سے کراچی کی سڑکیں کشادہ اور ہموار ہوں گی، بارش آئے تو شہر گندے پانی کا جوہڑ بننے سے پہلے ہی خشک ہو جائے، کب کراچی کے باغات میں اڑتی دھول بیٹھ جائے اور پھر سے پھول کھلیں۔کیا ایسا آنے والے وقت میں ہوسکے گا یا صرف خواب ہی رہے گا۔


مکمل خبر پڑھیں