Advertisement

’نیشنل اسٹیڈیم‘ اسے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا گھر سمجھا جاتا تھا

September 05, 2019
 

محمد اسلم

کراچی کےنیشنل اسٹیڈیم کا شمار پاکستان کے دوسرے بڑے کھیل کے میدان میں ہوتا ہے، جس کی تعمیر 1955کے اوائل میں مکمل ہوئی۔21اپریل 1955کو نیشنل اسٹیڈیم کا باضابطہ افتتاح ہوا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلا سہ روزہ فرسٹ کلاس میچ کھیلا گیا۔اس میں 34ہزار200 تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔یہ میدان پاکستان کرکٹ بورڈ کی ملکیت ہے جب کہ کراچی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشن کو اس کی انتظامی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس کے دو کنارے پویلین اینڈ اور یونیورسٹی اینڈ کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ قومی ایئرلائنز کی کرکٹ ٹیم نے اسے کرائے پر حاصل کیا ہوا ہے۔یہاں برقی قمقمے اور عظیم الجثہ ٹیلی اسکرین بھی نصب ہے، جس کی بدولت اس کا شمار دنیا کے جدید ترین گراؤنڈز میں ہوتا ہے۔نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم کراچی کی تاریخ کی بات کی جائے تو اسی گراؤنڈ میں پہلا میچ 26 فروری تا یکم مارچ 1955 تک پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا،جسےسرکاری و کرکٹ کی معروف شخصیات نے اسٹیڈیم میں بیٹھ کر دیکھا، یہ میچ برابر رہا۔ پہلا ایک روزہ میچ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان 21نومبر 1980میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلا گیا،جس میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد کالی آندھی کی عرفیت سے مشہور ویسٹ انڈیز ٹیم نے پاکستان کوچار وکٹوں سے شکست سے دی۔دوسرا ٹیسٹ میچ 13 تا 17 اکتوبر 1955ءکونیوزی لینڈ کےساتھ کھیلا گیا، جس میں پاکستان نے ایک اننگز اور ایک رن سے کام یابی حاصل کی۔ یہ اسٹیڈیم کی تاریخ کی پہلی بڑی فتح تھی، جو قومی ٹیم نے حاصل کی

1981 کو ہوا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس اسٹیڈیم میں دنیا کی بڑی ٹیموں کے ساتھ سنسنی خیز ایک روزہ اور ٹیسٹ ٹاکرے ہوئے ہیں۔ اس اسٹیڈیم کو ’پاکستانی کرکٹ کا قلعہ‘ بھی کہا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس گراؤنڈ میں زیادہ تر میچز میں پاکستانی ٹیم ناقابل شکست رہی ، جہاں پاکستان نے اب تک کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچوں میں سے آدھے اسی اسٹیڈیم میں کھیلے ہیں اور ان میں سے صرف دو ٹیسٹ ہارے ہیں۔اس اسٹیڈیم کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ یہاں 1987 اور1996 میں کرکٹ ورلڈ کپ کے میچز بھی کھیلے گئے۔یہ وہی اسٹیڈیم ہے، جہاں دنیا کرکٹ کے مایہ ناز کھلاڑی اور وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 1982 میں انڈیا کے خلاف میچ میں اپنے ٹیسٹ کیرئیر کی 200 وکٹیں مکمل کیں۔یہ اسٹیڈیم پاکستانی کرکٹ ٹیم کا گھر سمجھا جاتا تھا۔یہاں اب تک42ٹیسٹ میچز کھیلے گئے، جن میں سے 22میں پاکستان نے فتح حاصل کی۔

ملک کے سب سے بڑےا سٹیڈیم کو اب تک ورلڈ کپ1987 اور عالمی کپ 1996 کے6میچز کی میزبانی کرنے کا اعزاز حاصل ہے، اسی گراؤنڈ میں پاکستانی ٹیم سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میں 765 رنز کا پہاڑ کھڑا کرنے اور آسٹریلیا کو 80 کے سب سے کم سکور پر پویلین کی راہ دکھانے سمیت متعدد ریکارڈز بنانے کا اعزاز بھی رکھتی ہے۔

اس میدان میں میچوں کے دوران ہنگامہ آرائی کی بھی ایک تاریخ رہی ہے۔1968 اور1969 میں انگلینڈ اور نیوزی کے خلاف ٹیسٹ میچوں کے دوران بد مزگی پیدا ہوئی۔اس کے بعد 1981 اور 1983 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے ساتھ ٹیسٹ میچز میں بھی ہلڑ بازی ہوئی، 1969میں نیوزی لینڈ کے دوران میچ کے دوران ہنگامہ آرائی ہوئی۔1981میں آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جانے والا میچ بھی ہنگاموں سے متاثر ہوا۔1983میں آسٹریلیا کے خلاف ہی میچ میں دوسری مرتبہ ہنگامہ آرائی کی گئی جب کہ اسی سال بھارتی ٹیم کے پاکستان کے دورے کے دوران چھٹے ٹیسٹ میچ کا انعقاد کراچی میں ہوا۔میچ کے چوتھے روز کھانے کے وقفے کے بعد انکلوژر میں بیٹھے چند طلبا نے ہنگامہ آرائی شروع کردی، جس کے بعد میدان پر دھاوا بول دیا ۔ انہوں نے اس دوران پچ کھودڈالی، پولیس نے امن و امان کی صورت حال پر قابو پانے کی کوشش کی ۔اس دور ان طلبہ اور پولیس اہل کاروں میں تصادم بھی ہوا ۔ اس ہنگامے کی وجہ سے باقی کھیل ختم کرنا پڑا۔1977میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان میچ بھی ہنگامہ آرائیوں سے متاثر ہوا۔2005میں قومی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کپ کا فائنل میچ ہنگاموں کی وجہ سے متاثر ہوا۔

1982ء اور 1983ء کے دوران بھارتی ٹیم 6 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئی ، جن میں سے دو میچز نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ۔آسٹریلیا کی ٹیم کو اس گراؤنڈ پر سب سے کم اسکور بنانے کا اعزاز حاصل ہے ۔ 1956میں کھیلے جانے والے ایک ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگزمیں اس نے80رنز بنائے، پاکستان نے یہ میچ 9وکٹوں سے جیت کر ریکارڈ قائم کیا۔نیشنل اسٹیڈیم کو 1987کے دو اور 1996کے عالمی کپ کے تین میچوں کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہے۔1959میں نیشنل اسٹیڈیم کو امریکا کے 34 ویں صدر، جنرل آئزن ہاور کی میزبانی کاشرف بھی حاصل ہوا۔ جب آسٹریلوی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تو اس نے پاکستانی ٹیم کے خلاف تیسرا ٹیسٹ میچ کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلا۔ امریکی صدر، جنرل آئزن ہاور ان دنوں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے تھے۔کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب ، صدر ایوب خان کے ساتھ اسٹیڈیم میں بیٹھ کر یہ میچ دیکھا۔جولائی 2016میں ممتاز سماجی شخصیت عبدالستار ایدھی کی نماز جنازہ بھی نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ادا کی گئی ۔

اسٹیڈیم کی متعدد مرتبہ مرمت، تزئین و آرائش کا کام ہوچکا ہے۔1950کے عشرے میں اس کی میٹنگ وکٹیں ، سیم بالرز کے لیے مددگار تھیں جب کہ اس کی پچز ہم وار اور بیٹنگ کے لیے سازگارتھیں۔ 1982میں انہیں اسپورٹنگ پچز بنایا گیا، جس پر سیم اور فاسٹ دونوں طرز کی بالنگ کامیاب تھی۔ 1987کے ورلڈ کپ سے قبل اس کی توسیع کا کام کیا گیا۔1996کے ورلڈ کپ کے انعقاد سے قبل ایک مرتبہ پھراس کی مرمت و درستی ہوئی۔ نومبر 2006 میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اس کی ازسر نوتزئین و آرائش کی گئی۔جنگلی گھاس اگنے کے سبب گراؤنڈ کی آؤٹ فیلڈ انتہائی خراب ہوگئی تھی، اسے کاٹ کر نئی گھاس لگائی گئی،2005کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے موقع پر ہنگاموں میں تباہ ہونے والی کرسیوں کی جگہ نئی کرسیاں لگائی گئیں، نئے سرے سے رنگ و روغن کیا گیا۔ وکٹوں کا اسکوائر کھود کر اس کی گہرائی چھ سے کم کرکے چار فٹ کردی گئی، تاکہ وکٹ زیادہ باؤنس کرے۔

پاکستان سے بین الاقوامی کرکٹ کے ختم ہونے کے باعث یہ اسٹیڈیم انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہوگیا تھا۔ اس کا تجارتی بنیادوں پر استعمال ہورہا تھا، انکلوژر کی چھتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں، سیڑھیوں میں گڑھے پڑ گئے تھے، جیم ، جہاں پاکستان کے معروف کرکٹرز اپنی فٹنس کے لیے ایکسرسائز کرتے تھے، اسے اسٹور روم بنادیا گیا۔ اسٹیڈیم کے اندر جنگلی گھاس کے علاوہ خودرو جھاڑیاں بھی اگ آئیں، جہاں سے سانپ نکلنے کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں۔ ڈیجیٹل اسکرین کا یہ عالم رہا کہ میچز کے دوران اس پر اسکور اور کھلاڑیوں کے ناموں کا اندراج غلط ہوتا تھا۔ اسٹیڈیم کے پارکنگ ایریا میں اتنے بڑے گڑھے پڑ گئے تھے جن میں، بعض اوقات گاڑیاں پھنس جاتی تھیں۔

2018میں پی ایس ایل کے میچوں اور فائنل میچ کا انعقاد نیشنل اسٹیڈیم میں کرانے کے اعلان کے بعد پی سی بی کی جانب سے اس کی ازسر نو مرمت، درستی، تزئین و آرائش کی مد میں ڈیڑھ ارب روپےکی رقم مختص کی گئی ہے اور اسے اپ گریڈ کرنے کا کام شروع ہوا، جس کے بعد اسٹیڈیم میں تقریباً 60سے نوے ہزار تماشائیوں کے بیٹھنے کی گنجائش کی گئی۔پرانی چھتیں ہٹا دکر ان کی جگہ جرمنی سے شیڈ منگوا کر لگائی گئیں۔ ڈریسنگ رومز، چیئرمین باکس، میڈیا گیلریاور کمنٹری باکس کی حالت بہتر بنائی گی ۔اسٹیڈیم میں شائقین کے لیے 100سے زیادہ واش رومز اور نئی کرسیاں نصب کی گئیں ۔

کراچی میں بارشوں کے جاری سلسلے سے نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیر نو اور مرمت کی قلعی کھل گئی۔نیشنل اسٹیڈیم کی تعمیرات میں مبینہ نااہلی اورغفلت نے کئی سوالیہ نشان کھڑے کردیے، بارش کے سبب نئی چھتیں برباد ہوگئیں اور وی آئی پی باکسزکی چھتیں ٹپکنے لگیں، تعمیرنوکے6 ماہ بعد ہی وی آئی پی باکسز ناکارہ ہوگئے، بیشتر وی آئی پی باکسز میں بارش کا پانی داخل ہوگیا، وی آئی پی باکسزکی فارسیلنگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی ،جبکہ کئی جگہوں سے چھت ہی اکھڑ گئی ہے،30وی آئی پی باکسز کی پی ایس ایل 4 کے موقع پر تعمیرنوکی گئی تھی۔واضح رہے کہ نیشنل اسٹیڈیم کی تزئین وآرائش کے منصوبے میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائدرقم خرچ کی جاچکی ہے، جبکہ اس حوالے سے ابھی بھی بہت کام باقی ہیں، جس میں سیوریج کے نظام کی بہتری سرفہرست ہے۔


مکمل خبر پڑھیں