Advertisement

’فیس بُک‘ استاد، معلم، ٹیچر

September 21, 2019
 

آج ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس میں پوچھا گیا تھا کہ ’’اسکول حاضر نہ ہونے کی وجوہات یا بہانہ بتائیں"

اس میں ملے جلے ردِ عمل سامنے آئے۔ کسی نے پوسٹ کا مقصد سمجھتے ہوئے بہانہ پورا گھڑا اور خوب گھڑا مگر۔۔

کسی نے استاد کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا کہ، آپ کیسے استاد ہیں جو بچوں کو جھوٹ بولنا سکھا رہے ہیں اور یہی بات بڑے دکھ کی ہے۔

ہمارے نظامِ تعلیم کی پستی اور تنزلی کی وجہ ہمارا یہی رویہ ہے کہ موجودہ دور میں "استاد " کو وہ مقام اور وہ عزت نہیں دی جاتی جس کا وہ حقدار ہے۔

ہمارے بچے اپنے اساتذہ کا احترام تو دور ان کا ادب لحاظ تک نہیں کرتے۔ان کی ظاہری صورت ،چال ڈھال اور ان کے بول چال کے انداز کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ہم اساتذہ سے امید تو اس بات کی رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے بچے کو "بل گیٹس" بنا دیں، لیکن اپنے بچے کو استاد کا مقام سمجھانا ضروری نہیں سمجھتے کیونکہ۔۔

اسکول ہماری نظر میں ایک درسگاہ نہیں بلکہ ایک "بیوٹی پارلر" ہے اور استاد ایک "بیوٹیشن" جس طرح بیوٹیشن کا کام پیسے لینا اور ظاہری صورت چمکانا ہے۔ اسی طرح استاد اس بیوٹیشن کی مانند ہے جس سے یہ توقع رکھی جاتی ہے کہ جتنی فیس یا تنخواہ زیادہ لے گا اتنا ہی ہمارے بچے کو نکھارے گا اور پالش کرے گا۔۔۔

نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آج استاد بچوں کو انگریزی تو سکھا دیتا ہے لیکن والدین کا احترام اور معاشرے کا اچھا فرد بننا نہیں سکھا پاتا، کیونکہ وہ بھی پھر یہی سوچتا ہے کہ میرا کام تو تنخواہ حلال کرنا ہے۔۔۔ کیا ایسے سب چلتا رہے گا، کیا خیال ہے؟


مکمل خبر پڑھیں