Advertisement

کشمیری عورت: ستم دیدہ، ستم رسیدہ، دُکھیاری ، مظلوم ترین مخلوق

September 29, 2019
 

کشمیری خواتین سری نگر میں تعینات ایک بھارتی سیکوریٹی اہل کار کے عقب سے گزر رہی ہیں

پانچ اگست کے بعد سے، جب بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعدانڈین فورسز کے زیرِ تسلّط خطّے میں کرفیو نافذ کیا، سری نگر کی رہائشی، عظمیٰ جاوید خوف و دہشت کے مارے گھر سے باہر نہیں نکلی۔ البتہ وہ ہر تھوڑی دیر بعد صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دو منزلہ مکان کی کھڑکی سے باہر ضرور جھانکتی ہے۔

یہ 20سالہ طالبہ تعلیم کے سلسلے میں زیادہ تر کیرالہ ہی میں رہتی ہے ، مگر اس بار اپنے والدین اور دوسرے رشتے داروں کے ساتھ عیدالاضحی گزارنے سری نگر آئی تھی۔ تاہم، یہاں پہنچ کر عید کی خوشیاں منانے کی بہ جائے ایک ایسے پنجرے میں قید ہو گئی، جس کے باہر سنسان گلیوں میں مسلّح بھارتی فوجی گشت کر رہے ہیں۔ عید کے موقعے پر ان سے چند کشمیریوں نے اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے سڑک پار کرنے کی اجازت طلب کی، تو انہوں نے سختی سے انکار کر دیا۔

کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رُکن، کویتا کرشنن

عظمیٰ نے معروف خبر رساں عالمی ادارے، الجزیرہ کے نمایندے سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ یوں تو اس وقت کشمیر میں ہر فرد ہی مغلوب و معتوب ہے، لیکن کشمیری خواتین اس غیر انسانی محاصرے کا سب سے بڑا نشانہ ہیں۔مواصلاتی نظام ٹھپ ہونے کی وجہ سےمَیں نے پچھلے کئی روز سے قریب ہی رہنے والی اپنی سہیلی کی آواز تک نہیں سُنی اور نہ ہی یہ جانتی ہوں کہ اس وقت منزیٰ کس حال میں ہے۔ ہمارے مَرد تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح نماز کے لیے گھروں سے نکلنے میں کام یاب ہو جاتے ہیں، لیکن ہم خواتین تو یہ بھی نہیں کر سکتیں۔‘‘

عظمیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ’’ مسلّح بھارتی سپاہیوں کی وحشت ناک، ہوس ناک نظریں مجھ سمیت دوسری لڑکیوں اور خواتین کو خوف کے مارے بے جان و مفلوج کر دیتی ہیں۔ مَیں چاہتی ہوں کہ میرے والد اور بھائی بھی باہر نہ نکلیں کہ کہیں وہ بھارتی فوج کی سفّاکیت کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں، لیکن اُن کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں، کیوں کہ اشیائے خور و نوش اور روزمرّہ کی دوسری ضروریات پوری کرنے کے لیے انہیں چار دیواری چھوڑنی ہی پڑتی ہے۔

غیر کشمیریوں کی آبادکاری پر عاید پابندی ختم کرنے کے محرکات کا اندازہ ان اسکرین شاٹس سے لگایا جا سکتا ہے، انتہا پسند ہندوئوں کی عامیانہ پوسٹس سے بھی کشمیری خواتین کرب کا شکار ہیں

پچھلے دنوں ہمارے گھر کے باہر ایک بہت بڑا مظاہرہ ہوا، جو آناً فاناً ہی مظاہرین اور بھارتی افواج کے درمیان تصادم کی وجہ سے پُر تشدد ہو گیا۔ تب مَیں اور میری والدہ گھر میں اکیلی تھیں، جب کہ میرے والد اور بھائی مظاہرین میں شامل تھے۔ جب اس مظاہرے نے تصادم کی شکل اختیار کی، تو مجھے اُن کی فکر ستانے لگی۔ دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔ خوف، پریشانی سے حالت غیر ہو گئی۔ اور رات گئے جب میرے والد اور بھائی گھر لوٹے، تو میرا بلڈ پریشر اس قدر شُوٹ کر چکا تھا کہ اُنہیں مجھے اسپتال لے جانا پڑا۔ ‘‘

واضح رہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے تحت مقبوضہ کشمیر کو ریاست کے بیش تر معاملات میں خود مختاری حاصل تھی۔ اس شق کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام کے غیظ و غضب سے بچنے کے لیے بھارتی حکومت نے یہاں کرفیو نافذ کر دیا اور اس تحریر کی اشاعت تک مقبوضہ کشمیر میں ملٹری لاکڈ ڈائون جاری ہے۔ بھارتی فوج کے زیرِ تسلّط علاقوں میں فون اور انٹرنیٹ کی سہولت ختم کیے جانے کی وجہ سے مقامی باشندوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے۔

تاہم، بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ مواصلاتی نظام جُزوی طور پر بحال ہے۔ غیر کشمیریوں کو مقبوضہ کشمیر میں بسانے کی غرض سے بھارتی آئین کے آرٹیکل 35-اے میں ترمیم کی راہ ہم وار کرنے کے لیے بی جے پی کی حکومت نے یہ جواز گھڑا کہ اس فیصلے سے مسلم اکثریتی خطّے میں نہ صرف صنفی مساوات قائم ہو گی، بلکہ مسلمان خواتین کو ’’ آزادی‘‘ بھی مل جائے گی۔ تاہم، اس اعلان کے چند روز بعد ہی بھارت کی ہندو قوم پرست حکم راں جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے متعدد سیاست دانوں نے کشمیری خواتین سے متعلق نازیبا بیانات دینا شروع کر دیے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد 14اگست کو کشمیری خواتین سری نگر میں بھارتی حکومت کے خلاف نعرے لگا رہی ہیں

مثال کے طور پر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے پانچ روز بعد 10اگست کو بھارتی ریاست، ہریانہ کے وزیرِ اعلیٰ، منوہر لال کا یہ بیان منظرِ عام پر آیا کہ ’’ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جونہی کشمیر کُھلے گا، تو وہ وہاں سے دُلہنیں لے کر آئیں گے، لیکن اگر مذاق سے ہٹ کر بات کی جائے، تو صنفی تناسب بہتر ہونے سے اُس معاشرے میں توازن قائم ہو جائے گا۔‘‘ قبل ازیں، بی جے پی ہی سے تعلق رکھنے والے ایک رُکنِ اسمبلی، وکرم سینی نے دریدہ دہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ پارٹی میں شامل مسلمان کارکنوں کو ان نئی دفعات پر مسرور ہونا چاہیے، کیوں کہ اب وہ کشمیر کی گوری خواتین سے بیاہ رچا سکتے ہیں۔‘‘

بی جے پی سے وابستہ سیاسی رہنمائوں کے اس چھچھورے و کھلنڈرے پَن اور نازیبا بیانات پر نئی دہلی کی جواہر لال نہرو یونی ورسٹی سے وابستہ خاتون پروفیسر اور حقوقِ نسواں کی محافظ، نیو دتیہ مینن کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’اس قسم کے بیانات دراصل فتح اور لُوٹ مار کا اعلانیہ اظہار ہیں اور ان سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے محرّکات بھی عیاں ہوتے ہیں۔‘‘

انتہا پسند ہندو رہنماؤں کے ان خیالات نے بھارتی سوشل میڈیا صارفین کو بھی متاثر کیا اور مختلف سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر کشمیری خواتین سے شادی سے متعلق پوسٹس کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس سلسلے میں بھارتی ذرایع ابلاغ میں شایع و نشر ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، 5اگست کے بعد گوگل پر اس سوال کا جواب تلاش کرنے والے بھارتی صارفین کی تعداد میں حد درجہ اضافہ دیکھا گیا کہ’’ کشمیری خواتین سے شادی کیسے کی جا سکتی ہے؟‘‘

انتہا پسند ہندوئوں کی جانب سے اپنے سِفلی جذبات کے اظہار نے کشمیری خواتین کے احساسِ عدم تحفّظ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اس بارے میں سری نگر ہی سے تعلق رکھنے والی 22سالہ میک اپ آرٹسٹ، ثمرین کہتی ہیں کہ ’’ بھارت میں جس انداز سے کشمیری خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر محض ایک جنس کے طور پر اپنانے، کم زور مخلوق سمجھ کر اُن کی نمایش کرنے اور اُن میں خوف و دہشت پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے، اُس کے سبب کشمیری خواتین میں شکار بننے کا احساس بڑھ رہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آج ہم خود کو مَردوں سے بھی زیادہ ستم رسیدہ محسوس کرتی ہیں۔ مواصلاتی نظام معطل ہونے کی وجہ سے ہمیں دُہری اذیّت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ اب ہم دوسرے شہروں، علاقوں میں مقیم اپنے عزیز و اقارب حتیٰ کہ بہن، بھائیوں تک کی خیریت دریافت نہیں کر سکتے۔ گزشتہ کئی روز سے فون اور انٹرنیٹ کی سروس معطّل ہونے کی وجہ سے مَیں نئی دہلی میں رہائش پذیر اپنی بہن سے رابطہ نہیں کر سکی۔ مَیں اُس سے ملنے کے لیے ٹکٹ بُک کروانا چاہتی تھی، لیکن یہ بھی ممکن نہ ہو سکا، کیوں کہ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی رہائش گاہ سے 20کلو میٹر دُور واقع ایئر پورٹ جانا تھا اور کرفیو نافذ ہونے کے سبب یہ نا ممکن ہے۔

مَیں نے اپنے والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر ایئر پورٹ جانے کی کوشش کی، تو انڈین سیکوریٹی فورسز نے ہمیں روک لیا۔ مستقل پریشانی لاحق ہونے کی وجہ سے میری ماں بیمار ہو گئی ہے، لیکن بھارتی فوج اور انتظامیہ کو اس کی کوئی پروا نہیں۔‘‘ دوسری جانب سری نگر کی رہائشی 22سالہ مصباح رئیس بھارت میں کشمیری خواتین کے ساتھ بڑھتے صنفی تعصّب پر حیران نہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت کی خود کو مسلمان کشمیری خواتین کا محافظ و نگہبان قرار دینے کی کوشش کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

مصباح مزید کہتی ہیں کہ ’’ تاہم، مَیں اس بات کی توقع رکھتی ہوں کہ بھارتی عوام مودی سرکار میں پائے جانے والے صنفی تعصب سے کماحقہ واقفیت رکھتے ہیں۔ نیز، انہیں اس امر کا بھی ادراک ہے کہ کشمیری خواتین کو ’’محفوظ بنانے کی کوششوں‘‘ کے پیچھے درحقیقت کون سے عزائم کار فرما ہیں۔ ‘‘

یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دورانِ جنگ خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک سمیت صنفی بنیادوں پر تشدّد کی دیگر صورتوں کو عموماً ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر ہی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی رُکن، کویتا کرشنن 5اگست کے بعد چند سماجی کارکنوں کے ساتھ خواتین کی حالتِ زار جاننے کے لیے مقبوضہ کشمیر پہنچیں۔

مقبوضہ وادی میں مختلف مسلمان خواتین سے ملاقاتوں کے بعد اُن کا کہنا تھا کہ انڈین ملٹری اور پیرا ملٹری فورسز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے کشمیری خواتین اور لڑکیوں کی بے چینی و اضطراب میں اضافہ ہوا ہے۔ اپنے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کویتا کا کہنا تھا کہ ’’ کشمیری خواتین نے ہمارے وفد کو بتایا کہ کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے اُنہیں اپنے بچّوں کے لیے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیا لانے میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ علاوہ ازیں، وہ 10برس سے کم عُمر بچّوں کی غیر قانونی قید پر بھی بہت زیادہ فکر مند ہیں۔ نیز، بعض خواتین اور لڑکیوں نے بھارتی مسلّح افواج کے گھروں پر چھاپوں کے دوران اپنی آبروریزی کے خدشات کا بھی ذکر کیا۔‘‘

اس سلسلے میں عالمی ذرایع ابلاغ کا ماننا ہے کہ بھارتی افواج ماضی میں بھی کشمیری خواتین کی عِصمت دری کے واقعات میں ملوّث رہی ہیں۔ انٹرنیشنل میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، 23فروری 1991ء کو جب قابض بھارتی افواج نے وادی میں ایک بڑا ملٹری آپریشن کیا، تو اس دوران سیکوریٹی فورسز نے ضلع کپواڑہ کے دو دیہات، کونان اور پوش پورہ میں درجنوں خواتین کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ اس قسم کے واقعات وقتاً فوقتاً مقبوضہ کشمیر میں رُونما ہوتے رہتے ہیں ، مگر بھارتی فوج انہیں ہمیشہ رد کر دیتی ہے۔

تاہم، رواں برس جولائی میں سامنے آنے والی اقوامِ متّحدہ کی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’ فی الوقت 1991ء میں کونان اور پوش پورہ میں بڑے پیمانے پر رُونما ہونے والے خواتین کی آبرو ریزی کے واقعات کے مقدّمے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ بھارتی حکام، متاثرہ خواتین اور اُن کے اہلِ خانہ کی حصولِ انصاف کی کوششوں میں رُکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔‘‘

اسی رپورٹ میں بھارت پر یہ زور بھی دیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جنسی تشدد پر مبنی جرائم کے مرتکب ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے خلاف تحقیقات کی جائے اور متاثرین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ تاہم، اس کے برعکس بھارتی فوج کی جنونیت میں روز بہ روز اضافہ ہی ہو رہا ہے اور عفت مآب کشمیری خواتین خود کو پہلے سے زیادہ آفت رسیدہ تصوّر کر رہی ہیں۔

اس سلسلے میں سری نگر کی رہائشی 22سالہ طالبہ، جانیس لنکر کا کہنا ہے کہ ’’ بی جے پی رہنمائوں اور انتہا پسند ہندوئوں کے مسلمان کشمیری خواتین سے متعلق تضحیک آمیز بیانات اور نازیبا رویّہ ہی مقبوضہ کشمیر میں کشیدگی میں اضافے اور مظاہروں، احتجاج اور لاکڈ ڈائون کے دوران بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کی اصل جڑ ہے۔‘‘

کشمیری طالبہ نے اس صورتِ حال کا ذمّے دار بھارت کے بعض سیاسی طبقات کی جانب سے سِفلی جذبات کی حوصلہ افزائی کے علاوہ بھارتی سنیما گھروں میں کشمیری خواتین کی نمایش کو بھی ٹھہرایا۔ اس بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ ’’بھارت میں کشمیری عورت کو انتہائی سادہ لوح، بے ضرر، نادان اور ایسی گڑیا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ جس سے صرف دل بہلایا جا سکتا ہے۔ مَیں باقاعدگی سے سوشل میڈیا استعمال کرتی ہوں۔ مَیں نے مختلف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی متعدد استہزائیہ و مضحکہ خیز پوسٹس دیکھی ہیں کہ جن میں باحجاب کشمیری خواتین سے متعلق انتہائی نازبیا تبصرے کیے گئے ہیں، جو ایک نفرت انگیز عمل ہے۔‘‘

کشمیری خواتین سے متعلق بی جے پی کے دریدہ دہن رہنماؤں کے انتہائی سطحی و گھٹیا بیانات کے حوالے سے نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے معروف مؤرخ، عرفان حبیب کا ماننا ہے کہ ’’یوں تو بھارت میں برسرِ اقتدار جماعت، بھارتیہ جنتا پارٹی کے بعض رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے ادا کیے جانے والے نازیبا کلمات قوم پرست ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کا ایک حربہ ہے، لیکن اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے، تو یہ درحقیقت مسلمانوں سے صدیوں پر محیط مغلیہ دَور کا شدید انتقام لینے کی کوششوں کا ایک حصّہ ہے، حالاں کہ انتہا پسندہندوئوں کی جانب سے بیان کی جانے والی تاریخ کا نصف سے بھی زاید حصّہ کذب بیانی اور مبالغہ آ رائی پر مشتمل ہے۔‘‘


مکمل خبر پڑھیں