Advertisement

آتشزدگی سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات

October 13, 2019
 

ماہ اکتوبر کو آتشزدگی سے بچاؤ کے مہینے کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ اس کی جڑیں1871ء میں شکاگو میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی سے ملتی ہیں، جس میں 250 سے زیادہ افراد ہلاک اور ایک لاکھ سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے تھے۔ گوداموں میں لگی اس آگ نے 2ہزار ایکڑ سے زائد رقبے پر پھیلے مکانات کوخاکستر کردیا تھا اور لگ بھگ 17ہزار400عمارتوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا تھا۔ آٹھ اکتوبر کو شروع ہونے والی اس تین روزہ آتشزدگی میں سب سے زیادہ نقصان 9اکتوبر کو ہوا تھا۔

امریکا میں ایک ہفتہ آتشزدگی کے حوالے سے عوامی تحفظ اور احتیاطی تدابیر کا شعور اجاگر کیا جاتا ہے۔ آتشزدگی کے واقعات خدانخواستہ کسی بھی ملک میں کہیں بھی پیش آسکتے ہیں، ایسی صورت میں آگ سے بچاؤ اور حفاظت کی تربیت اہم ہے۔

آگ کا لگنا خطرناک تو ہوتا ہی لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک اس حوالے سے عوام میں تربیت کی کمی، آگ بجھانے کے آلات کا نہ ہونا یا حفاظتی اصولوں کو مدنظر نہ رکھنا ہوتا ہے کیونکہ اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ آگ لگ جائے تو لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ ایسے موقع پر آ پ نے خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے۔

آتشزدگی پر قابو پانے کے عملی طریقے

آتشزدگی کی صورت میں اس پر قابو پانے کے تین متعین طریقے ہیں۔ اوّل جلنے والی چیز کو پانی، گیس، ریتی بجری اور مٹی سےبجھانا اور ٹھنڈا کرنا،دوم آکسیجن کی موجودگی ختم کرنا اور سوم ایندھن کو ختم کرنا یا جائے وقوعہ سے ہٹادینا ہے۔ کمرے کا درجہ حرارت یکایک چند ہی سیکنڈ میں 1000فارن ہائیٹ ڈگری ہو جائے تو آپ شدید گرمی سے پھیلنے والی آگ (Flashover)سے نہیں بچ سکتے۔

اس صورت میں عمارت سے گھنا سیاہ دھواں نکلنا شروع ہو جاتا ہے اور کمرے میں موجود ہر چیز آگ کی لپیٹ میں آجاتی ہے۔یہاں فائر فائٹر کی خدمات لیے بنا چارہ نہیں ہوتا۔ دوسری صورت Backdraftکی ہوتی ہے یعنی جب بند کمرے میں درجہ حرارت بڑھنے سے کمرہ گیسوں سے بھر جاتا اور وہاںآکسیجن ختم ہو جاتی ہے، پھر کمرے میں موجود گیس دروازے اور کھڑکیوں پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ کچھ وقت بعد کمرے میں اچانک کسی راستے سے آکسیجن کی فراہمی شروع ہوتی ہے تو دھماکا ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی کمرے میں آگ لگی ہو تو اس کا دروازہ یا کھڑکی فوراً نہیں کھولنی چاہیے۔

آتشزدگی کی اقسام

آگ جلانے والی چیز یا ایندھن کی بنا پر اسے بین الاقوامی درجہ بندی کے مطابق پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔درجہ اوّل میں لکڑی، کپڑا، کاغذ، ربڑ اور بہت سا پلاسٹک مواد۔ درجہ دوم میں جلنے والے سیال مادے پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، تھنر، پینٹ، رنگ، الکحول، اسپرٹ وغیرہ۔ درجہ سوم میں کمپیوٹر، بلب اور سرکٹ جیسےبرقی آلات جو فوری آگ پکڑ لیتے ہیں۔

درجہ چہارم میںجلد آگ پکڑنے والی دھاتیں میگنیشیم، ٹائٹینیم، زرکونیم، لیتھیم اور پوٹاشیم وغیرہ جبکہ درجہ پنجم میںباورچی خانہ میں موجود کھانا پکانے والے آلات ،گھی، کوکنگ آئل، مکھن اور چربی وغیرہ شامل ہیں ۔

آتشزدگی سے حفاظتی اقدام

آتشزدگی کی صورت میں اپنے حواس کو قابو میں رکھیں اور یہ سوچیں کہ آگ کو کیسے بجھایا جاسکتا ہے۔ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ ہمارے ہاں اکثر حادثات اس وجہ سے ہوتے ہیں۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں اعصاب کو بحال رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ورنہ حواس باختہ ہوکرخوف کے مارے جلدی میں کی جانے والی غلطی نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ آتشزدگی سے نمٹنے کے لیے مؤثر ایمرجنسی پلان ہونا چاہیے کہ آگ لگنے کی صورت میں اس جگہ سے محفوظ طریقے سے کیسے نکلنا ہے۔

اتنا ہی نہیں بلکہ فائر ایکسٹنگویشر (Fire Extinguisher) چلانے کی ضروری تربیت ہر ایک مرد و خاتون کو حاصل کرنی چاہیے تاکہ فائر فائٹر کے آنے سے پہلے ہی کسی بڑے نقصان سے بچا جاسکے۔ اسی طرح دفتر کے عملے کو آتشزدگی سے بچاؤ اور فائر ایکسٹنگویشر کو درست انداز میں چلانے کی مناسب و موزوں تربیت بھی دی جائے۔ تمام مشینیں، سازوسامان، کھانا پکانے والے آلات اور حرارت خارج کرنے والے دیگر تمام آلات جیسے کہ فوٹو کاپی مشین وغیرہ ماہر پیشہ ور سے چیک کرواتے رہنا چاہیے۔

ہمارے ہاں تمباکو نوشی بھی آگ لگنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ذرا سی غفلت سے جلتی تیلی یا سگریٹ اچانک شعلے کی صورت پوری عمارت کو راکھ کا ڈھیربنا سکتی ہے۔ یہی رویہ گھروں میں چولہا جلاتے وقت ناگہانی حادثے کا موجب بنتا ہے۔ آتشزدگی کی صورت میںفائر الارم کی آواز اتنی اونچی ہونی چاہیے کہ عمارت میں موجود ہر شخص سن لے۔ چھت سے پانی چھڑکنے والا نظام (Smoke Detector)، پانی، فوم، گیس اور پاؤڈر والے سلنڈر ہر عمارت کا لازمی جزو ہونے چاہئیں۔ کسی بھی آتشزدگی کو معمولی نہ جانیں، آگ کا ایک شعلہ 60سیکنڈ بعد دوگنا ہوجاتاہے۔

آتشزدگی کے واقعات سے بچنے کے لیے فائر فائٹنگ ابتدائی تعلیم سے اعلیٰ تعلیم تک نصاب کا لازمی مضمون ہونا چاہیے، جس میں پرنٹڈ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کو بھی قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔


مکمل خبر پڑھیں