Advertisement

’لیاقت آباد فلائی اوور‘ جہاں زندگی کے رنگ کسی اور ڈھنگ میں نظر آتے ہیں

October 17, 2019
 

ثاقب خان

2000ء میں شہری حکومتوں کے قیام کے بعد کراچی میں پل، فلائی اوورز اور انڈر پاسز کا جال بچھایا گیا۔ ان میں سےبعض فلائی اوورز کئی کلومیٹرطویل ہیں اور ان پر تعمیر کی گئی سڑکیںبل کھاتی ہوئی مختلف علاقوں کی جانب نکلتی ہیں۔ لیاقت آباد فلائی اوور کی تعمیر سے پہلے فیڈرل کپیٹل ایریا کے پاس ریلوے لائن پرچند فرلانگ طویل پل بنا ہوا تھا، جس پر سے گزر کر بسیں اور دیگر مسافر گاڑیاں نیوکراچی کی جانب جایا کرتی تھیں۔

لیاقت آبادکا شمارکراچی کی قدیم بستیوں میں ہوتا ہے، جس کی آبادی انتہائی گنجان اور اس کی مرکزی شاہ راہ شروع سے ہی مصروف رہی ہے۔ 1970ءمیں جب سہراب گوٹھ کے مقام پر حیدرآباد کی طرف جانے والی شاہ راہ سپر ہائی وے کا افتتاح ہوا اور اس پربالائی سندھ کی جانب جانے والی گاڑیاں چلنے لگیں تو لیاقت آبادکی سڑک پر بھی ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا، جس کے بعدلیاقت آباد فلائی اوور کا منصوبہ تشکیل دیا گیا، جس کی تعمیر 1990-2000 کے درمیان مکمل ہوئی ۔

دو سے ڈھائی کلومیٹر طویل پل کا آغازلیاقت آباد سپر مارکیٹ کے بعد ہوتا ہے۔ پلوں کے اوپر تو ٹریفک کی روانی رہتی ہے لیکن ان کے نیچے بھی گاڑیوں کا اژدہام رہتا ہے جو مختلف سمتوں میں جاتی ہیں۔ پلوں اور فلائی اوورز کے نیچے سڑک اور چوراہے کے بعد بھی کافی کشادہ جگہ باقی بچتی ہے، جہاں زندگی کے رنگ کسی اور ڈھنگ میں نظر آتے ہیں۔

اس کے نیچے پرانے ملبوسات، پھل اور نمکو کے ٹھیلے کھڑے رہتے ہیں جو اپنے کاروبارکا آغاز صبح دس بجے کے بعد کرتے ہیں، اس سے قبل یہاں پل کی منڈیروں پر مزدور اور گداگر سوتے نظر آتے ہیں۔

بعض لوگوں کے مطابق رات بارہ بجے کے بعد یہ پل مختلف النوع افراد سے آبادہوجاتاہے، جن میں منشیات فروش بھی شامل ہیں جو مکمل آزادی کے ساتھ اس کی فروخت کاکاروبار کرتے ہیں جب کہ ان کے خریدار بھی یہیں موجود ملیں گے جو نشہ آور اشیاء کے استعمال کے بعد نشے میں دھت لیٹے ہوتے ہیں۔

دس نمبر کے چوراہے پر پل کے نیچے ایک وسیع و عریض رکشہ اور چنگ چی اسٹینڈ بنادیا گیا ہے، جہاں سیکڑوں کی تعداد میں رکشے کھڑے رہتے ہیں۔اس احاطےکا استعمال چارجڈ پارکنگ کے طور پر بھی ہوتا ہے اور قرب وجوار کے دکاندار اور خریدار حضرات یہاں اپنی موٹرسائیکلیں بھی کھڑی کرتے ہیں۔

اس اسٹینڈ میں کوئی گیٹ نہیں لگایا گیا ہے جس کی وجہ سے ہیروینچی حضرات رکشوں کی آڑ میں بیٹھ کر نشہ آور اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ اس چوراہے پر پولیس کی موبائلیں بھی گشت کرتی ہیں ، لیکن خرید و فروخت کے یہ کاروبار مکمل آزادی کے ساتھ جاری رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں دیگر لوگ بھی اپنی گاڑیاں کھڑی کرتے ہیں، جن سے دن بھر کے لیے پچاس روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ حیدرآباد اور اندرون سندھ جانے والی ایئر کنڈیشنڈ بسوں، ویگنوں اور کاروں کے ٹرمینس بھی دس نمبر کے چوک سے لے کر اپسرا اپارٹمنٹ تک واقع ہیں ۔ دن بھر الکرم اسکوائر کی سڑک پران کا ہجوم رہتا ہے۔

رات میں جب یہ گاڑیاں حیدرآباد اور سندھ کے اندرونی علاقوں سے واپس آتی ہیں تو پل کے نیچے بنی ہوئی پارکنگ لاٹ میں کھڑی کی جاتی ہیں، ان کی پارکنگ فیس علیحدہ سے وصول کی جاتی ہے۔ پارکنگ میں دیگر سامان اور کاٹھ کباڑبھی پڑا رہتاہے جب کہ آخری حصے میں کچرا کنڈی بنی ہوئی ہے۔ پل کی منڈیر گداگر اور نشئی حضرات اونگھتے نظر آئیں گے۔

اس سے آگے فلائی اوور کی دوسری شاخ ہے جو اپسرا اپارٹمنٹ سے اوپر کی جانب چڑھتی ہوئی کریم آباد پر ایک کالج کے سامنے اترتی ہے۔ اس کے بعد ریلوے لائن ہے۔ ریلوے لائن کے اطراف پل میں ایک وسیع و عریض خلاء ہے،جس کے پشتوں کے اوپر تقریباً چھ خاندان رہائش پذیر ہیں۔

فلائی اوور کی چھت ان کا سائبان ہے حوائج ضرورت سے فراغت کے لیے انہوں نے کپڑے اور بانس کی مدد سے عام فہم زبان میں’’ واش رومز‘‘ بنائے ہوئے ہیں، جن سے بہنے والی غلاظت اور گندا پانی، پل کی منڈیر اور ریل کی پٹڑیوں کے اطراف جمع رہتا ہے۔

اس کے سامنے فلیٹوں کا جنگل آباد ہے، جس میں متوسط طبقے کے لوگ رہائش پذیر ہیںجو پل کے نیچے واقع اس گندی بستی کو ناپسند کرتے ہیں۔یہاں سے موٹر سائیکل، کاریں اور دیگر گاڑیاں بھی گزرتی ہیں جوپل کے نیچے سے نکل کر الاعظم اسکوائر کی طرف سے موسیٰ کالونی اور نارتھ ناظم آباد کی جانب جاتی ہیں۔

یہاں منشیات کی فروخت اور استعمال کرنے والوں نے بھی ڈیرے ڈال لیے تھے، جن کی وجہ سے پولیس نے کئی مرتبہ چھاپے بھی مارے۔

ریلوےکے مخدوش ٹریک کے بعد کریم آباد سے فلائی اوورکی سڑکیں نشیب کی طرف اترنا شروع ہوتی ہیں۔ یہاں بھی حسین آباد سے نارتھ ناظم آباد، گلبرگ اور سہراب گوٹھ کی جانب جانے ولی ٹریفک کو پل کے نیچے سے گزرنا پڑتا ہے، لیکن یہاں بھی بائیں ہاتھ پرپھل فروش، پرانے کپڑے کے تاجر اپنے ٹھیلے لیے کھڑے ہیں۔ رکشوں کا ایک غیرقانونی اسٹینڈ بازار فیصل کے سامنے سڑک پربھی بنا ہوا ہے ،جہاں کئی درجن رکشے کھڑے نظر آتے ہیں۔

ان کی وجہ سے گاڑیوں کا پل کے نیچے سےگزرنا مشکل ہوجاتا ہے، دوسری جانب ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں اکثر حادثات کا بھی خطرہ رہتا ہے، حالاں کہ اسی پل کے نیچے عزیز آباد ٹریفک سیکشن کی چوکی بنی ہے، جس کے اہل کار چوکی کے ساتھ ہی چالان بک ہاتھ میں تھامے گاڑیوں کو روکتے نظر آتے ہیں، لیکن کریم آباد چوک پر بے لگام موٹر سائیکل اور کار سواروں کی طرف سے وہ چشم پوشی برتتے ہیں۔

چوکی کے ساتھ ہی کسی ہنگامی صورت حال میں پولیس کی مدد طلب کرنے کے لیے چوکی بنی ہوئی ہے، لیکن ٹریفک پولیس کے عملے کے مطابق اس کی تعمیر کے بعد سے اس میں کوئی اہل کارنظر نہیں آیا۔ یہ ہے لیاقت آباد فلائی اوور کے نیچے رواں دواں زندگی۔


مکمل خبر پڑھیں