Advertisement

لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی کی تیسری شکست: اندرونی کہانی!

October 24, 2019
 

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کراچی کادورہ کیاانہوں نے حب میں سی پیک کے پہلے مشترکہ 1320 میگاواٹ پاور پلانٹ کا افتتاح کیا۔وزیراعظم پاکستان سے مختلف وفود نے ملاقاتیں بھی کیں۔وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ایم کیو ایم کے وفد نے وفاقی وزیر فواد چوہدری بیان پر تحفظات کا اظہار کیا جبکہ پارٹی دفاتر کی واپسی اور کارکنوں کی بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔

گورنرہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں متحدہ قومی موومنٹ کے کنوینر وفاقی وزیر ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، کنونیرنویدجمیل، میئر کراچی وسیم اختر،خواجہ اظہار اورفیصل سبزواری بھی شامل تھے انہوں نے کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی پیکیج جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا متحدہ قومی موومنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان حکومت سازی کے موقع پر کراچی اور حیدرآباد کے لیے ترقیاتی پیکیج دینے کا وعدہ کیا گیا تھا تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود کراچی اور حیدرآباد کے لیے پیکیج کے لیے اعلان نہیں کیاجاسکا ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے پاکستان تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے بھی ملاقاتیں اور شکایتوں کے ڈھیرلگادیئے۔انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت ہماری نہیں سنتی جبکہ وفاقی وزراء بھی ہمیں لفٹ نہیں کراتے۔

عمران خان نے اراکین کو کراچی کے ترقیاتی اسکیموں پہ عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ وفاقی وزراء کراچی کے نمائندوں سے رابطے بڑھائیں گے ۔گزشتہ ہفتےسندھ سیاسی سرگرمیوں کا مرکز رہا ایک جانب لاڑکانہ کی صوبائی نشست پر جی ڈی اے اور مقامی اتحاد نے پی پی پی کے امیدوار کو شکست سے دوچار کیا تودوسری جانب آزادی مارچ کی تیاریاں عروج پر رہی پی پی پی نے 18 اکتوبر کے شہداء کوخراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جلسہ منعقد کیا دوسری جانب کراچی میں سپرہائی وے پر ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا۔

جہاں ٹیکس وصولی پر جھگڑا پر فائرنگ کرکے تین بے گناہ ڈرائیوروں کو ماردیاگیا جن کا تعلق وزیرستان سے تھا پی پی پی کے امیدوار جمیل سومرو ، جی ڈی اے کے امیدوارمعظم عباسی کے مقابلے میں لاڑکانہ پی ایس 11 سے شکست سے دوچار ہوئے لاڑکانہ کی یہ نشست پی پی پی تیسری بار ہاری ہے تاہم اس بار پی پی پی 2018 کے مقابلے میں کم مارجن سے ہاری پی پی پی کے امیدوار جمیل سومرو نے 26 ہزار 20 جبکہ جی ڈی اے کے امیدوار معظم عباسی نے 31 ہزار 557 ووٹ حاصل کئے پی پی پی کی اس ہار میں جے یو آئی کے ووٹرز کا بڑا کرداررہا۔

اس حلقے کو اس لیے بھی اہمیت دی گئی کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور آصفہ زرداری نے اس حلقے میں مسلسل انتخابی مہم چلائی جس کی وجہ سے یہ حلقہ اہمیت اختیارکرگیا کہاجاتا ہے کہ اس حلقے سے ناکامی میں جہاں پی پی پی کےبیڈگورنس کا عمل دخل ہے وہاں اس کے اختلافات اورامیدوار کا غلط انتخاب بھی تھا جمیل سومرو اس حلقے میں نووارد تھے جبکہ معظم عباسی کا خاندان اس حلقے ہی سے تعلق رکھتا تھا۔

2018 کے عام انتخابات میں اس نشست پر گرینڈڈیموکریٹک الائنس کے معظم علی عباسی 10 ہزار 367 ووٹ کی برتری سے کامیاب ہوئے تھے معظم علی عباسی کو 32 ہزار 178 اور پیپلزپارٹی کی نداکھوڑو کو 21 ہزار 811ووٹ ملے تھے گرینڈڈیموکریٹک الائنس کے امیدوار معظم علی عباسی کو پیپلزپارٹی مخالف 9 جماعتی لاڑکانہ عوامی اتحاد کی حمایت حاصل تھی، جس میںمسلم لیگ فنکشنل، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ، سندھ یونائیٹڈ پارٹی، شیعہ علماء کونسل، پیپلز پارٹی ورکرز اور پیپلزپارٹی شہید بھٹوشامل ہیں جی ڈی اے کے امیدوار کی جیت پر کارکنان نے جشن منایا اورڈھول کی تھاپ پر رقص کیا۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پیغام میں ضمنی الیکشن کےد وران تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رینجرزحلقہ پی ایس 11 لاڑکانہ میں حفاظت کے لیے تعینات کی گئی ہے تو وہ کیوں پولنگ کے عمل میں مداخلت کررہی ہے رینجرز اہلکار کیوں ووٹرزسلپ چیک کرکے ووٹ ڈالنے والوں کو ہراساں کررہے ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی دستوں کو پولنگ اسٹیشنز میں تعینات کرنے والا الیکشن کمیشن منتخب نمائندوں کو پولنگ ڈے پر حلقے کے دورے سے روکنا چاہتا ہے، الیکشن کمیشن کا یہ رویہ پی پی پی کو پولنگ کے سازگار ماحول سے محروم رکھنے کی کوشش ہے جمہوری قوتوں کی جانب سے کسی بھی غیرقانونی اور غیرآئینی جبر پر مزاحمت کی جائے گی، دوسری جانب پیپلزپارٹی کے سینٹرل میڈیا سیل انچار ج اور سینیٹر تاج حیدر نے الیکشن کمیشن کو خط ارسال کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو نے رینجرز اہلکاروں کی جانب سے ووٹرز سلپ چیک کرکے ووٹ ڈالنے والوں کو حراساں کرنے کی شکایت کی چیئرمین بلاول بھٹو نے رینجرز اہلکاروں کی جانب سے پولنگ ایجنٹس اور پی پی کے نامزد امیدوار کو ہراساں کرنے کی نشاندہی کی۔

الیکشن کمیشن قانون کے دائرے میں کارروائی کرے۔لاڑکانہ کے ضمنی الیکشن میں جی ڈی اے کے ہاتھوں پیپلزپارٹی کو ہوم گراؤنڈ میں واضح مارجن سے شکست پر ابتدائی رپورٹ مقامی رہنماؤں کی جانب سے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کو پیش کردی گئی۔

رپورٹ میں بیڈگورننس سمیت مقامی وپیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت کے درمیان اختلافات ہی ضمنی الیکشن میں شکست کی بنیادی وجہ قراردیئے گئے ہیں پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثارکھوڑو ضمنی الیکشن میں ان کا امیدوار نامزد نہ کئے جانے پرنالاں تھے جبکہ صوبئای وزیر سہیل انورسیال اپنے بھائی طارق سیال کو امیدوار نامزد کرنے کے خواہشمند تھے بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ضمنی الیکشن سے پہلے لاڑکانہ میں ضلعی تنظیم کو بھی تحلیل کرتے ہوئے کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن 10 ہزار سے زائد ووٹ کی حامل شیخ برادری نے ایڈوائزری نہ ملنے پر کوآرڈینیشن کمیٹی میں شمولیت سے انکار کرتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا تھا میئر لاڑکانہ خیر محمد شیخ بھی شیخ برادری کے لیے الیکشن ٹکٹ چاہتے تھے۔

لیکن بلاول بھٹو کی مداخلت کے باوجود شیخ برادری ناراض ہی رہی پارٹی اختلافات کے باعث پیپلزپارٹی ووٹرز دربدررہے اور بنیادی مسائل حل نہ ہونے پر بھی ووٹ نہیں ڈالے، لیاری کے بعد لاڑکانہ میں دوسری بار شکست پر عوام کی نظر میں پیپلزپارٹی کا بیانیہ اپنے گڑھ میں کمزور ہوچکا ہے اور اب چیئرمین پیپلزپارٹی کا انتہائی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ سامنے آیا ہے ضمنی الیکشن میں شکست پر ذمہ داروں کی نشاندہی کی ہدایت کی گئی ہے۔

بعض حلقوں کے مطابق سندھ میں پی پی پی کی حکومت ہے لاڑکانہ پی پی پی کا گڑھ ہے اس لیے لاڑکانہ سے پی پی پی کا اسی نشست سے دوبارہ ہارنا پی پی پی کے لیے اشارہ ہے کہ وہ گورنس کو درست کرے ورنہ اسی طرح کے نتائج آئندہ بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں بھی اسی قسم کے نتائج دیگر حلقے میں آسکتے ہیں ادھر پی پی پی نے 18 اکتوبر کو شہداء کارساز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جلسہ عام کا انعقاد کیا۔


مکمل خبر پڑھیں