Advertisement

صحت و توانائی کیلئے ملٹی وٹامنز

October 24, 2019
 

ہم سب روزانہ اپنی غذائی عادات اور معمولات میں توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے غذائیت سے بھرپور کھانا کھانے، زیادہ ورزش کرنے اور بہتر نیند لینے کی سعی کرتے ہیں۔ ہم ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ہمارےدن اور ہفتے ہر ممکن حد تک کم سے کم ’ذہنی دباؤ‘ میں گزریں، لیکن کبھی کبھی ہمیں پوری کوشش کے باوجود مصروف زندگی کی وجہ سے ہونے والے تناؤ، نیند کی کمی اور غذائی قلت سے نمٹنے کے لئے اپنی جسمانی تندرستی بڑھانے کی ضرورت پڑتی ہے، اس مقصد کے لیےملٹی وٹامنز لیے جاتے ہیں۔

کیادرحقیقت ملٹی وٹامنز کام کرتے ہیں؟

طبی تحقیق سےیہ بات واضح ہے کہ ملٹی وٹامنز ہماری صحت و توانائی میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کیلشیم اور وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت میں معاون ثابت ہوتے ہیں، فولک ایسڈ پیدائشی نقائص کو کم کرنے کے لئے مؤثر ہوتا ہے ، وٹامن بی اعصابی افعال میں توانائی اور اعانت بڑھانے میں مصدقہ ہے ، میگنیشیم جسم کو آرام دینے کے لئے مددگار ہے ، اینٹی آکسیڈینٹس بعض کینسر کو روکنے کے لئے ثابت شدہ ہیں جبکہ وٹامن سی اور زنک دونوں ہی مدافعتی کام کو بڑھانے کے لئے معاون ہیں۔

اوریگون اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً75فیصد امریکی آبادی پھلوں کا استعمال نہیں کرتی جبکہ 80٪فیصدسے زائد امریکی سبزیوں کے استعمال دور رہتے ہیں۔

سبزی اور پھلوں کے غذائی اجزا میں وٹامن ڈی، کیلشیم، پوٹاشیم، فائبر اور آئرن شامل ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق غذا میں چینی کی زائد مقدار استعمال کرنے والے بالغ افراد میں وٹامن اے، سی، ای اور معدنی میگنیشیم کی مقدارکم دیکھی گئی۔

کیا ہم سب کو ملٹی وٹامنزکی ضرورت ہے؟

اگرچہ ملٹی وٹامنز صحت کے لیے ضروری ہوتے ہیں لیکن ہر ایک کی صحت کی منفرد اور مختلف ضروریات ہوتی ہیں،یہی وجہ ہےکہ ملٹی وٹامنز صحت کو لاحق خدشات پوری طرح دور نہیں کرسکتے، جیسے ناقص عمل انہضام ، نیند نہ آنا ، یا ورزش کی بازیابی۔ تاہم ، کئی ملٹی وٹامنز انسانی جسم کی ضرورت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اومیگا3فیٹی ایسڈ، ٹرائگلیسرائڈ کی بلند سطح کو نارمل کرنے میں معاون ہوتا ہے جبکہ لہسن ہائی بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

کوئی ایک وٹامن لینے سے بہتر ہے کہ آپ اپنی ضروریات کے مطابق ملٹی وٹامن لیں، تاہم مخصوص ’وٹامن روٹین‘ تلاش کرنا مشکل اور وقت طلب ہوسکتا ہے۔ بہت سارے سپلیمنٹس ایسے ہیں جو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیوں کے ساتھ منفی ردِ عمل دکھاتے ہیں۔ آپ کو بہت سارے وٹامنز اور سپلیمنٹس ایک ساتھ لینے میں بھی محتاط رہنا چاہئے۔

ملٹی وٹامنز کی بہترین اقسام

اگر آپ تناؤ ، نیند ، توانائی کی کمی یا اپنی زندگی کے غذائی معمولات میں توازن پیدا نہیں کر پارہے تو اپنے روزمرہ معمولات میں اعلیٰ معیار کے ملٹی وٹامنز اور سپلیمنٹس کو شامل کرکے بہتر صحت کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں۔اس ضمن میں ایسےملٹی وٹامن تلاش کریں جو قدرتی اورالرجی سے پاک ہوں کیونکہ وہ آپ کے جسم میں آسانی سے جذب ہوجاتے ہیں۔

ایسےملٹی وٹامن لیں جو خالصتاً ٹیسٹ شدہ، مصنوعی رنگ یا اضافی اشیا کے بغیر بنائےگئے ہوں۔ سپلیمنٹ تیار کرنے والی تمام کمپنیاں آپ کواپنی مصنوعات کی خریداری کے لیے قائل کرتی ہیں ،تاہم اچھی ساکھ رکھنے والی کمپنیاں آپ کو یہ بتاتی ہیں کہ ان کی مصنوعات کیوں بہتر ہیں۔ وہ سائنسی نتائج کی روشنی میں ملٹی وٹامنز سپلیمنٹس تجویز کرتی ہیں۔

ملٹی وٹامنز بمقابلہ ذاتی نوعیت کے وٹامنز

ملٹی وٹامنز گذشتہ کچھ دہائیوں سے غذائی اجزا کے خلا کو پُر کرکے صحت و تونائی کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ تاہم غذائیت کے ماہرین نے محسوس کیا ہے کہ ایک ہی طرز کے سپلیمنٹس ہر ایک کے لئے بہترین انتخاب نہیں ہوسکتے۔ دو جسم بالکل ایک جیسے نہیں ہوتے، بہت سارے عوامل آپ کی غذائی ضروریات میں شامل ہوتے ہیں،اس لیے یہ سمجھنازیادہ بہترہے کہ ایک ملٹی وٹامن ہر ایک کے لئے یکساں نتائج فراہم نہیں کرے گا۔ آپ کسی غذائی ماہر یا ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ وہ آپ کی جسمانی ضروریات کے مطابق ملٹی وٹامنز تجویز کریں۔

درست سپلیمنٹ کا تعین

جسم کو درکار درست وٹامنز اور سپلیمنٹ لینے سے غذائی اجزا کے خلاء کو پورا کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور آپ کی صحت کو بہت فائدہ ہوسکتا ہے۔ آپ جوملٹی وٹامنز یا سپلیمنٹ لے رہے ہیں وہ آپ کے لئے بہتر ہے یا نہیں،اس بات کا تعین کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہےکہ آپ ڈاکٹر یا غذائی ماہر سے رجوع کریں،وہ آپ کی صحت، طرز زندگی اور کسی بیماری کے نتیجے میں لی جانے والی ادویات کا تجزیہ کرتا ہے اور پھر اس حساب سے آپ کو ملٹی وٹامنز تجویز کرتا ہے۔

خود سے کوئی بھی ملٹی وٹامنز یا سپلیمنٹ لینے کی کوشش نہ کریں، ہوسکتا ہے کہ آپ کو ایک چیز کی ضرورت نہ ہو لیکن نادانی میں آپ جسم میں کسی چیز کا اضافہ کربیٹھیں اور پھر بعد میں مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔


مکمل خبر پڑھیں