ڈاکٹر علامہ اقبال

November 03, 2019
 

مرتب: عبدالمجید ساجد ، لاہور

ڈاکٹر علّامہ محمّد اقبالؒ کی شخصیت اور شاعری پر بے شمار کُتب لکھی گئیں۔ اُن پر برّصغیر پاک وہند ہی نہیں، پوری دنیا میں کام ہو رہا ہے، لیکن علّامہ صاحب کے انتقال کے بعد ابتدائی طور پر لکھی جانے والی بعض کُتب کی اہمیت اِس لیے دوچند ہے کہ اُن میں اُن کی زندگی کے اہم گوشے پہلی مرتبہ منظرِ عام پر آئے۔

اُن ہی نادر ونایاب کتابوں میں فقیر سیّد وحید الدّین کی کتاب’’روزگارِ فقیر‘‘ کو جو شہرت اور پذیرائی حاصل ہوئی، وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ مصنّف کے والد، فقیر سیّد نجم الدّین، علّامہ اقبال کے خاص احباب میں شامل تھے۔ وہ علّامہ صاحب سے ملنے جاتے، تو اکثر اپنے فرزند، وحید الدّین کو بھی ساتھ لے جاتے، جو اُس وقت کالج کے طالبِ علم تھے۔ اِس اعتبار سے 1951ء میں شایع ہونے والی یادداشتوں پر مبنی یہ کتاب، گراں بہا اہمیت کی حامل ہے۔ اِس کتاب کے بعض اہم اور دِل چسپ اقتباسات قارئین کی دِل چسپی اور ذوقِ مطالعہ کی نذر ہیں۔

اُنہیں ہمیشہ کچھ سوچتے ہی پایا

جب میری نادانی کا وہ زمانہ، جسے شباب کا ابتدائی دَور کہنا چاہیے، ختم ہوا، خیالات میں کسی قدر پختگی آئی، تو دِل پر ڈاکٹر اقبال صاحب کی عظمت کا نقش زیادہ گہرا ہوتا گیا اور مَیں نے باقاعدگی سے اُن کی خدمت میں حاضر ہونا شروع کیا۔ اس حضوری میں ایسی لذّت پائی کہ جو زمانہ دُوری میں بسر ہوا تھا، اُس پر افسوس ہوتا۔ ڈاکٹر صاحب زیادہ تر خاموش رہتے۔ مَیں نے جب بھی اُنہیں دیکھا، کچھ نہ کچھ سوچتے ہی پایا اور کبھی کبھی تو اُنہیں دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا کہ اُن کی نگاہیں اُفق کے اُس پار، بلکہ افلاک کی حد سے بھی آگے کسی چیز کو تلاش کر رہی ہیں۔

ایسے مواقع پر کسی کو جرأت نہ ہوتی کہ خود گفتگو کا سلسلہ چھیڑے۔ ڈاکٹر صاحب خیالات میں مستغرق ہوتے اور لوگ چُپ چاپ بیٹھے رہتے۔ اگر گفتگو ہوتی بھی تو کچھ اُکھڑی اُکھڑی۔ یعنی کسی نے کوئی بات پوچھی اور ڈاکٹر صاحب نے جواب میں ایک آدھ مختصر سا جملہ کہہ دیا اور پھر خاموشی چھا گئی۔ لیکن یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہتی تھی۔ جب وہ بحث و گفتگو کی طرف جُھک جاتے، تو مسلسل گھنٹوں باتیں کرتے چلے جاتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ خیالات کا ایک سیلاب ہے، جو امڈا چلا آ رہا ہے۔ ایک بار جب مَیں نے پوچھا کہ’’ ڈاکٹر صاحب! آپ شعر کیسے کہتے ہیں؟‘‘ تو ایک واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا’’ جب مجھ پر شعر کہنے کی کیفیت طاری ہوتی ہے، تو یہ سمجھ لو کہ ایک ماہی گیر نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے جال ڈالا۔

مچھلیاں اس کثرت سے جال کی طرف کھنچی چلی آ رہی ہیں کہ ماہی گیر پریشان ہو گیا۔ سوچتا ہے کہ اتنی مچھلیوں میں سے کِسے پکڑوں اور کِسے چھوڑ دوں۔‘‘ مَیں نے پوچھا’’ کیا آپ پر یہ کیفیت ہمیشہ طاری رہتی ہے؟‘‘ کہنے لگے’’ نہیں۔ یہ کیفیت تو مجھ پر سال بھر میں زیادہ سے زیادہ دو بار طاری ہوتی ہے، لیکن فیضان کا یہ عالم کئی کئی گھنٹے رہتا ہے اور مَیں بے تکلّفی سے شعر کہتا جاتا ہوں۔ پھر عجب بات یہ ہے کہ پہلی کیفیت میں کہا گیا آخری شعر، دوسری کیفیت کے پہلے شعر سے مربوط ہوتا ہے۔ گویا اس کیفیت میں ایک تسلسل بھی ہے۔ جب یہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے، تو مَیں ایک قسم کی تھکان، اضمحلال اور پژمُردگی سی محسوس کرتا ہوں‘‘۔

دِل کی گہرائیوں سے نکلی دُعا

ڈاکٹر صاحب فرمایا کرتے تھے کہ’’ جو دُعا دل کی گہرائیوں سے نکلے، ضرور قبول ہوتی ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ دُعا کا اثر فوری ظاہر ہو۔ بعض دعائیں تو ایسی ہوتی ہیں، جن کا اثر موت کے بعد ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی بڑی مختصر ہے اور نظامِ کائنات بہت وسیع۔‘‘ ڈاکٹر صاحب کے اس قول کی تصدیق اُن کی زندگی کے واقعات سے ہوتی ہے۔

جو لوگ اُن کی زندگی کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہیں، اُنہیں معلوم ہے کہ ڈاکٹر صاحب تیسری شادی کے بعد مدّت تک اولاد سے محروم رہے۔ جب وہ قریب قریب اولاد کی طرف سے مایوس ہو چُکے، تو حضرت مجدّد الفِ ثانی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ میں حاضر ہو کر دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ اُنہیں ایک بیٹا عطا کرے، جسے وہ اپنی زندگی میں اعلیٰ تعلیم دے سکیں، لیکن اس واقعے کو بھی پانچ چھے برس گزر گئے۔ ایک شام گھر گئے، تو دیکھا کہ جاوید کی والدہ توتے کے بچّے کو اپنے پاس بٹھا کر بڑی شفقت سے پھل کِھلا رہی ہیں۔ یہ کیفیت دیکھ کر ڈاکٹر صاحب کی زبان سے بے اختیار یہ الفاظ نکل گئے،’’ الٰہی! اس خاتون میں مادرانہ شفقت پیدا ہو چُکی ہے، اب اسے اولاد بھی عطا فرما۔‘‘ اُن کی یہ دُعا قبول ہوئی، چناں چہ اُسی سال جاوید تولّد ہوئے۔‘‘

شاعر کی آنکھیں

ایک دفعہ مَیں نے زمانے کی قدر ناشناسی کا ذکر کیا اور کہا کہ لوگ اپنے مُلک کے بڑے بڑے شعراء، قومی رہنمائوں اور عظیم المرتبت انسانوں کی زندگی میں اُن کی قدر نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب اس سوال سے بہت متاثر ہوئے اور کسی قدر تامّل کے بعد فرمایا’’ تم غور کرو، تو معلوم ہوگا کہ جب شاعر کی آنکھیں کُھلی ہوتی ہیں، تو دنیا کی بند ہوتی ہیں اور شاعر کی آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہوتی ہیں، تو دنیا کی آنکھیں کُھل جاتی ہیں۔ صدیوں اُس کی تعریف و توصیف کے گیت گائے جاتے ہیں۔‘‘

محرومی

گلے کی تکلیف شروع ہوتے ہی ڈاکٹر صاحب کی آواز بیٹھ گئی۔ اس حادثے نے اُن کی رہی سہی مصروفیات بھی ختم کر دیں اور اُنہوں نے باہر نکلنا ہی چھوڑ دیا۔ اُس زمانے میں اُنہیں تقریر کرنے کی دعوتیں آتیں۔ اُن دعوت ناموں کا ذکر آتا، تو کہتے کہ’’ میرا گلا ٹھیک ہو لے ،تو ضرور جائوں گا‘‘، لیکن’’ مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی۔‘‘ ایک دن بڑی مایوسی کے لہجے میں فرمایا ’’خدا نے مجھے زبان تو عطا کی ہے، لیکن آواز سے محروم کر دیا۔‘‘ یہ کہتے کہتے اُن پر رقّت طاری ہو گئی۔

’’یہ تو آدمی ہیں‘‘

میرے ایک قریبی رشتے دار، سیّد واجد علی کو کُتے پالنے کا بڑا شوق تھا۔ ایک دفعہ مَیں اُن کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے ملنے گیا۔ موٹر میں اُن کے کُتے بھی تھے۔ ہم لوگ ڈاکٹر صاحب کے پاس جا بیٹھے اور کُتّوں کو موٹر ہی میں چھوڑ دیا۔ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر صاحب کی ننّھی بچّی، منیرہ بھاگتی ہوئی آئی اور کہنے لگی’’ ابّا جان موٹر میں کُتّے آئے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب نے ہماری طرف اشارہ کر کے کہا’’ نہیں بیٹا! یہ تو آدمی ہیں۔‘‘

دربانوں کی فوج، نہ رسمی پابندیاں

ڈاکٹر صاحب 1900ء سے 1905ء تک بھاٹی دروازے کے اندر، اکتوبر 1908ء سے 1922 ء تک انار کلی میں، 1922ء سے 1935ء تک میکلوڈ روڈ پر اور 1935ء سے 1938ء تک میو روڈ(موجودہ علّامہ اقبال روڈ) والے مکان پر مقیم رہے۔ صرف یہ آخری مکان، جاوید منزل اُن کی ذاتی ملکیت تھی، باقی سب کرائے کے تھے۔

ان تمام اقامت گاہوں میں اُن سے ملنے جلنے والوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ دنیا کا سب سے بڑا شاعر قیمتی صوفوں پر بیٹھتا تھا نہ اُس کا مکان دیدہ زیب فرنیچر سے آراستہ تھا اور نہ ہی اُس کے یہاں ایرانی قالین تھے۔ بالکل عام اور سادہ رہائش، ہر قسم کے تکلّف اور امیرانہ ٹھاٹھ باٹھ سے یک سَر پاک۔ نوکروں اور دربانوں کی فوج، نہ ملاقات کے لیے رسمی پابندیاں۔ ملاقاتیوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب غریب و امیر اور جاہل و تعلیم یافتہ کا کوئی امتیاز روا نہ رکھتے تھے۔ ان آنکھوں نے یہ سماں دیکھا ہے کہ تانگے والے نے باہر تانگا روکا، اندر آیا، سلام کر کے نیچے بیٹھ گیا اور ڈاکٹر صاحب کے پائوں دباتا رہا۔

چند منٹ بعد اُٹھا اور چلا گیا۔ موچی گیٹ اور بھاٹی گیٹ کے کسی اکھاڑے کا پہلوان آیا ہے، اپنے کرخت اور بے جھجک لہجے میں ڈاکٹر صاحب سے اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہا ہے اور ڈاکٹر صاحب ہیں کہ اُس کی باتیں خاموشی سے سُن رہے ہیں۔ پیشانی پر شکن تک نہیں آئی۔ ایک بار ایک دھوبی آیا۔ ڈاکٹر صاحب کا وفادار اور قدیم ملازم علی بخش دروازے پر کھڑا تھا۔

وہ کہنے لگا’’ مَیں ڈاکٹر اقبال کو دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب بنیان اور دھوتی پہنے صحن میں حقّہ پی رہے تھے، علی بخش نے اشارے سے کہا’’یہ ہیں ڈاکٹر صاحب۔‘‘ دھوبی کو علی بخش کے کہنے کا یقین نہیں آیا۔ وہ آگے بڑھا اور ڈاکٹر صاحب کو گھر کا کوئی معمولی آدمی سمجھ کر اُن سے پوچھنے لگا’’ ڈاکٹر اقبال کہاں ہیں، مَیں اُنہیں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر صاحب مُسکرائے اور کہا’’ بھئی مَیں ہی ہوں۔ آئو بیٹھو‘‘۔ دھوبی سکتے میں آ گیا۔ اتنا سادہ اور بے نیاز، شہرت شہنشاہ جیسی، رہائش درویش جیسی۔

ضرورت کے مطابق کپڑے

ڈاکٹر صاحب بس ضرورت کے مطابق کپڑے سِلواتے۔ فالتو جوڑے نہ رکھتے۔ نئے نئے ڈیزائن کے کپڑے خریدنے کا بھی اُنہیں شوق نہیں تھا۔ ہوتا یہ کہ جب کپڑے ختم ہو جاتے، تو علی بخش سے ذکر فرما دیتے۔ علی بخش ایک اَن پڑھ اور پُرانی وضع کا سیدھا سادہ ملازم تھا۔ وہ اپنی پسند کا کپڑا بازار سے جا کر خریدتا اور درزی کے سُپرد کر آتا۔ یا کبھی اس درزی ہی سے کہہ دیا جاتا، جس کے پاس اُن کے ناپ موجود تھے۔

درزی کپڑے تیار کر کے ڈاکٹر صاحب کو پہنچا دیتا۔ ڈاکٹر صاحب کسی کپڑے کی وضع قطع، تراش اور سِلائی پر کوئی اعتراض نہ کرتے اور نہ کسی قسم کی تنقید فرماتے۔ اوّل تو دھوتی، بنیان کی موجودگی میں کپڑے پہننے کی نوبت ہی کم آتی تھی۔ گھر پر شلوار صرف سردیوں میں پہنتے۔ گرمیوں میں ہمیشہ 5گز کی کنی دار دھوتی کو دُہرا کر کے تہہ بند کی طرح باندھ لیتے۔ جاڑوں میں قمیص اور اُس پر دُھسا یا گرم چادر۔

پروفیسر سلیم چشتی راوی ہیں کہ اُنہوں نے چودہ سال کی مدّت میں صرف تین مرتبہ ڈاکٹر صاحب کو کوٹ پہنے دیکھا۔ پہلی مرتبہ 1926ء میں جب کاؤنسل کے انتخاب کے سلسلے میں اُنہوں نے بادل نخواستہ انار کلی کے جلسے میں شرکت کی تھی۔ دوسری مرتبہ 1935ء میں جب وہ جاوید اقبال کی والدہ کی تدفین کے لیے قبرستان گئے اور تیسری بار 1936ء میں انجمن حمایتِ اسلام کے جلسے میں۔ بادامی شوز بغیر پالش، تین گز کی شلوار، سفید قمیص، گبرون کا کوٹ اور لدھیانہ کی نیلی سِلائی دار 5گز کی سوتی پگڑی۔ زندگی کے آخری دَور( 1924ء تا 1938ء)میں تو وہ لباس کی طرف سے اور بے پروا ہو گئے تھے۔

زبان کے چٹخاروں سے عدم دِل چسپی

عنفوانِ شباب کے بعد ڈاکٹر صاحب کو عمدہ قسم کے کھانوں اور زبان کے چٹخاروں سے کوئی دِل چسپی نہیں رہی تھی۔ علی بخش اُن کا پُرانا خادم، اُن کے لیے ایک سالن اور دو پھلکے پکا دیتا۔ وہ عام طور پر دوپہر کو کھانا کھاتے، رات کے کھانے کا ناغہ کرتے، لیکن جس دن اتفاق سے دوپہر کا کھانا نہ کھاتے، اُس دن رات کا تناول فرماتے۔ اُن کا دن رات میں ایک بار کھانا کھانے کا معمول ایک دو سال نہیں، کم و بیش 25سال قائم رہا۔

جب تک اندرون بھاٹی گیٹ اُن کا قیام رہا، رات کو عموماً دودھ پی لیا کرتے تھے، بعد میں یہ معمول بھی ختم ہو گیا۔ انگور، آم اور خربوزے بڑے شوق سے کھاتے۔ جب حکیم نابینا نے گلے کی تکلیف میں اُن کے لیے سَردہ تجویز کیا، تو حکومتِ افغانستان کی جانب سے اُنہیں سَردے بھیجے جاتے۔ اکبر الٰہ آبادی اُنہیں آم بھیجتے، لیکن ان مرغوب پھلوں کے لیے خود کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا۔ حقّہ اُن کی زندگی کا بہترین ساتھی تھا۔

کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ وہ تو موجود ہوں اور حقّہ اُن کے پاس نہ ہو۔ علی بخش کو بھی سب سے زیادہ اُن کے حقّے کا خیال رکھنا پڑتا۔ جب کسی دوست کے ہاں تشریف لے جاتے، تو اُن کی سب سے بڑی تواضع یہی سمجھی جاتی اور میزبان سب سے پہلے اسی کی فکر میں رہتا۔

محدود آمدنی

عام طور پر جو یہ مشہور ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی شہرت و مقبولیت کے بہترین دَور میں بھی اُن کی ذاتی آمدنی ایک ہزار روپے ماہانہ سے کبھی نہیں بڑھی، تو یہ بات واقعی درست ہے، لیکن اُن کے مالی حالات کے پس منظر پر غور کیا جائے، تو حیرت ہوتی ہے کہ کیا کوئی آج کی دنیا میں اتنے سخت اور بے لچک اصولوں پر قائم رہ سکتا ہے۔ یہ محض سُنی سُنائی باتیں نہیں، بلکہ یہ واقعات اور حقائق ہیں اور علی بخش اس کے عینی شاہد۔ ڈاکٹر صاحب جس زمانے میں بیرسٹری کرتے تھے، تو عام طور پر اُن کے مقدمات قبول کرنے کی آخری تاریخ ہر مہینے کی 10ہوتی تھی۔

اُس وقت ڈاکٹر صاحب کے ماہانہ اخراجات، جس میں منشی طاہر الدّین اور علی بخش کی تن خواہ اور مکان کا کرایہ سب کچھ شامل تھا، سات سو روپے کے لگ بھگ تھے۔ جب اتنی رقم کے معاوضے کے مقدمات آ جاتے، تو مزید مقدمات لینے سے انکار کر دیتے۔

بعض موکل اصرار کرتے کہ ہمارے مقدمے کی وکالت آپ ہی کو کرنی ہوگی، تو ڈاکٹر صاحب اُنہیں مشورہ دیتے کہ’’ آنے والے مہینے کی شروع کی تاریخوں میں آنا۔‘‘ محدود آمدنی کے باوجود ڈاکٹر صاحب انکم ٹیکس ادا کرنے کے معاملے میں راست باز اور فرض شناس تھے۔

صحت اور ورزش

علّامہ اقبال نوجوانوں کو ورزش کی تاکید فرمایا کرتے۔ ایک مرتبہ سیال کوٹ آئے ہوئے تھے۔ لعل دین پہلوان اُن سے ملنے کے لیے آئے۔ علّامہ نے اپنے بھتیجے، شیخ اعجاز احمد کو اُن کے سُپرد کیا اور روزانہ اکھاڑے جا کر کسرت کرنے کی تاکید کی۔

علّامہ اکثر فرمایا کرتے کہ’’ جہاں تک ہو سکے، زندگی کو باقاعدہ اور سادہ بنانے کی کوشش کرو۔ جوانی کی توانائی سے فائدہ اٹھانا چاہیے تاکہ صحت دیر تک قائم رہے۔ جسمانی اور روحانی صحت کی ضامن مذہبی زندگی ہے۔‘‘ بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے کی بہت تاکید فرمایا کرتے تھے کہ اُن کی صحبت میں اکسیر کی تاثیر ہے۔

مسواک کا شوق

علّامہ اقبال ایک بار گھر کی صفائی پر گفتگو کر رہے تھے، اُنہوں نے بتایا کہ اسلام نے صفائی پر کتنا زور دیا ہے۔ پھر دانتوں کی صفائی کے لیے مسواک کے فوائد کا ذکر کیا۔ کچھ عرصے بعد ایک خط میں شیخ اعجاز نے علّامہ صاحب سے دریافت کیا کہ’’ اب تو اچھے اچھے ولائتی بُرش ملتے ہیں، کیا وہ مسواک کا نعم البدل نہیں؟‘‘ علّامہ نے لکھا’’مسواک سے مُراد دیسی مسواک تھی،نہ کہ انگریزی طرز کے منجن اور بُرش۔

یورپ کی بنی بعض چیزیں خُوب صُورت ضرور ہوتی ہیں مگر اُن میں اخلاقی زہر ہوتا ہے، جس کا اثر آج کل کے مادہ پرست مزاج رکھنے والے انسان فوراً محسوس نہیں کر سکتے‘‘۔ لاہور میں اُن کے غسل خانے میں ایک دیسی مسواک ہمیشہ ہوتی تھی۔