یوم شہدائے کشمیر، کنٹرول لائن کے آر پار ریلیاں، تقریبات، مقبوضہ وادی میں محاصرہ، سخت پابندیاں

November 07, 2019
 

سرینگر( ایجنسیاں ) کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیر یوں نے بدھ کو یوم شہدائے جموں اس عزم کی تجدید کے ساتھ منایا کہ وہ کشمیر یوں کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت تسلیم کیے جانے تک شہداءکا مشن جاری رکھیں گے،مقبوضہ وادی میں محاصرہ اورسخت پابندیاں عائد کردی گئیں،مقبوضہ کشمیر میں دکانیں بند، پر ٹریفک معطل ،تعلیمی ادارے اور دفاتر ویران ، نظا م زندگی بری طرح مفلوج ،بھارتی افواج کا تشدد، 3شہری زخمی ہوگئے، اس حوالہ سے آزادکشمیر کے تمام ڈویژنل و ضلعی ہیڈکوارٹرز پر تقریبات کا انعقادکیا گیا اور ریلیاں نکالی گئیں ،جموں وکشمیر پیپلز لیگ نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں بھارت نواز سیاستدانوں کو خبردارکیاہے کہ وہ بی جے پی کی قیادت میں فسطائی بھارتی حکومت سے ساز باز کرکے آزادی کے لےے کشمیری عوام کے جائز کاز کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں، آزاد جموںوکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے یورپی پارلیمنٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر کے اقوام متحدہ کی قراردادں کی سنگین خلاف ورزی کی ہے،سلامتی کونسل مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آگے بڑھے ورنہ خطہ کی ایک ارب سے زائد انسانی زندگیاں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں جس کے اثر سے پانچ مستقل ممالک بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کو ایک جیل میں تبدیل کردیا ہے۔یورپی پارلیمنٹ میں ایک سیمینار کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر غور وخوض کیا گیا،مہاراجہ ہری سنگھ کے ڈوگرہ سپاہیوں ، بھارتی فوج ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور یگر ہندو انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ کارکنوں نے نومبر 1947کے پہلے ہفتے میں جموںخطے کے مختلف علاقوں میں لاکھوں کشمیریوں کو اس وقت شہید کر دیا تھا جب وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے بیان میں جموں قتل عام کو جموںوکشمیر کی تاریخ کا ایک بدترین باب قرار دیا، دریں اثنا مقبوضہ وادی کشمیر اور جموں اور لداخ کے مسلم اکثریتی علاقوں میں 94ویں روزبھی سخت محاصرہ جاری رہا جسکی وجہ سے نظا م زندگی بری طرح سے مفلوج رہا۔انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروسزمکمل طور پر معطل ہیں۔ کشمیری بھارت کے جابرانہ قبضے کیخلاف اپنے سخت غم و غصے کے اظہار کیلئے سول نافرمانی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معطل ہےجبکہ تعلیمی ادارے اور دفاتر ویرانی کا منظر پیش کررہے ہیں۔ دریں اثنا جموں کی ٹاڈا عدالت جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین محمد یاسین ملک کے خلاف قائم ایک جھوٹے مقدے کی سماعت 26نومبر کو کرے گی ،بھارتی فوجیوں نے سرینگر کے علاقے ہمہامہ میں تین افراد کو بلاوجہ مارپیٹ کا نشانہ بنا کر شدید زخمی کر دیا۔