سرورِ کونین، رحمتہ للعالمین ﷺ کی ولادت باسعادت

November 08, 2019
 

محسنِ انسانیت ،سرورکائنات ،فخرموجودات،امام الانبیاء،خاتم النبیین حضرت محمدﷺکی ولادت باسعادت ،آپ ﷺ کی تشریف آوری اور آپﷺ کی بعثت تاریخِ عالم کا عظیم واقعہ اور ایک بے مثال انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔بلاشبہ، آپ ﷺ کی بعثت اور نبوت و رسالت امت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے۔ارشاد ربانی ہے:’’اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بناکر بھیجا‘‘رسول اﷲ ﷺنے فرمایا،میں نبی تھا اور آدمؑ ابھی جسد اور روح میں تھے ۔یعنی ان کی روح ان کے جسم میں داخل نہیں ہوئی تھی، اُس وقت بھی میں نبی تھا۔ حضور ﷺ مبدأ کائنات ہیں۔آپ ﷺمخزن کائنات ہیں۔منشاء کائنات اور مقصود کائنات ہیں۔ایک حدیث میں آیا ہے۔

اے پیارے حبیبﷺ تو نہ ہوتا تومیں دنیا کو نہ بناتا۔ایک حدیثِ قدسی میں فرمایا گیا:اے میرے نبی ،اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا میں آسمانوں کوبھی پیدانہ کرتا۔ نبی کریم ﷺ کے اول ہونے کا مضمون قرآن اس طرح بیان کرتا ہے:اے حبیبﷺ ہم نے آپﷺ کو نہیں بھیجا، مگر سارے عالموں کے لیے رحمت بناکر۔پھر آپ ﷺ سے ہی کہلوایا گیا کہ ’’تم فرمائو اللہ ہی کے فضل اور اُسی کی رحمت پر چاہیے کہ خوشی کریں ،وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے‘‘۔

اللہ عزوجل کی عظیم ترین رحمت، فضل اور نعمت نبی کریم ﷺ کی ذات مبارکہ ہے، کیوںکہ آپﷺ کو مبعوث فرما کر خالق کائنات نے خود مومنین پر اس احسان عظیم کو جتایا ہے۔ سورۂ والضحیٰ میں ہے ’’اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو‘‘ آنحضرت ﷺ کی ولادت باسعادت اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ارشاد ربانی ہے:بے شک، رسول کریم ﷺکی پیروی بہتر ہے،اس کے لیے جو اللہ اورآخرت پریقین رکھتاہواور اللہ کوبہت یاد کرے، اس میں مسلمانوں کوہدایت ہے کہ اگر دین ودنیاکی کامیابی چاہتے ہوتو رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ کواپنی زندگی کے لیے نمونہ بنالواور ان کی پیروی کرو، ہرمسلمان کو حکم دیاگیا ہے۔مسلمانوں میں بعض بادشاہ ہوںگے، بعض حاکم، بعض مال دار، بعض غریب، بعض گھر والے، بعض تارک الدنیا اب ہر شخص چاہتا ہے کہ میری زندگی حضور علیہ السلام کی زندگی کے تابع ہو۔

ربیع الاول مقدس ماہ مبارک ہے، جس میں سیّد المرسلین احمد مجتبیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اس دنیا میں جلوہ افروز ہوئے۔’’ ربیع الاول‘‘اسلامی تقویم اور ہجری سال کا تیسرا مہینہ ہے۔ دیگر اسلامی مہینوں کی طرح یہ مہینہ بھی نمایاں خصوصیات کا حامل ہے،اس ماہ میں دو ایسے واقعات اسلامی تاریخ کا حصہ بنے جو ہمیشہ کے لیے تاریخ عالم میں ثبت ہوگئے۔ان میںایک محسنِ انسانیت، خاتم الانبیاء والمرسلین حضرت محمد ﷺ کی ولادت باسعادت کا واقعہ اور دوسرا آپﷺ کا وصال ہے۔ آپﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری تاریخ انسانیت کا سب سے عظیم اور سب سے مقدس واقعہ ہے ۔نبی کریمﷺ کا روئے زمین پر تشریف لانا ہی تخلیق کائنات کے مقصد کی تکمیل ہے۔یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی خاطر ہی پیدا فرمائے۔

بعثت محمدیﷺ کائنات کی سب سے عظیم نعمت ہے جو خالق کائنات نے اپنی مخلوقات پر فرمائی یعنی ہر نبی سے یہ عہد لیا گیا کہ اس کی زندگی میں باوجود ان کی نبوت کی موجودگی کے اگر آنے والے نبیﷺ تشریف لے آئیں تو پھر کسی نبی کی نبوت نہیں چل سکتی،بلکہ اس نبی کو بھی سرور عالم ﷺ کی نبوت و رسالت پر ایمان لاتے ہوئے ان کی تائید و نصرت کرنا ہو گی۔جب انبیائے کرامؑ کے ساتھ یہ معاملہ ہے تو پھر ان کی امتوں کا کیا وصف ہونا چاہیے؟ظاہر ہے کہ ان کے لیے تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے کہ وہ سرور کائنات علیہ الصلوٰۃ والتسلیم پر ایمان لائیں اور انبیاءؑ کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے گئے عہد کی پاس داری کرتے ہوئے منشائے ربانی کے مطابق آقاﷺ کی اطاعت و فرماںبرداری اختیار کریں،چوںکہ ہادی عالم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد تمام شریعتیں منسوخ ہوگئیں۔

قیامت تک کے لیے دستورحیات،صرف اور صرف شریعت مصطفویؐ قرار پائی۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:’’(اے محمد ﷺ) کہہ دیجیے کہ لوگو، میں تم سب (یعنی پوری انسانیت) کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول ہوں) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے،اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت سے ہمکنار کرتا ہے،تو اللہ پر اور اس کے رسول نبی امیﷺ پر جو اللہ اور اس کے تمام کلام (یعنی تمام سابقہ کتب و صحائف) پر ایمان رکھتے ہیں، ایمان لائو اور ان کی پیروی کرو،تاکہ تم ہدایت پا جائو۔(سورۃ الا عراف)

یہ اللہ تعالیٰ کا انسانیت پر احسان عظیم ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو کسی خاص خطے،کسی خاص قوم یامخصوص زبان والوں کا نبی بنا کر نہیں،بلکہ آپﷺ پوری انسانیت کے لیے پیغمبر رشد و ہدایت کے مقام عظمت و رفعت پر فائز کر کے مبعوث فرمائے گئے۔

آپﷺ کے اخلاق کریمہ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:’’بے شک،آپ ﷺ اخلاق کے بلند مقام پر فائز ہیں۔‘‘ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ حضور اقدس ﷺ کی مبارک زندگی قرآن مجید کا عکس ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کسی نے نبی کریمﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:’’کیا تم نے قرآن مجید نہیں پڑھا؟ آپ ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو ہے۔‘‘نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میں حسن اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہوں۔‘‘آپﷺ نے فرمایا:’’تم میں بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔‘‘(بخاری و مسلم)

نبیﷺ کی شفقت، محبت، ہمدردی، صبر و تحمل، برداشت، بردباری، نرمی بھری خیرخواہانہ جدوجہد جو صعوبتوں اور مشکلات کے درمیان رہی، ان کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ انسان جن کی تاریخ مؤرخین نے انتہائی بھیانک لکھی تھی، اُن کی تاریخ نبیﷺ کی 23 سالہ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں انتہائی تابناک بن گئی۔نبی اکرمﷺ کی اس 23 سالہ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں دنیا کے اندر ایک عظیم انقلاب آیا ۔جو ہر لحاظ سے منفرد اور بے مثال ہے۔ یہ آپﷺ کی فتح و کامیابی کا عظیم اور تاریخ ساز مظہر ہے۔